Thursday, January 08, 2026
 

’ صرف عمران خان کو ختم کرنے کی کوشش ہے‘، وزیر اعلیٰ کے پی ملٹری آپریشن کے ذکر پر آبدیدہ

 



وزیراعلی خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ یہاں نیتوں میں فرق ہے صرف بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،  ملٹری آپریشن کے مناظر دیکھ چکے ہیں، دوبارہ ملٹری آپریشن کے مناظر دیکھنا نہیں چاہتے،  وزیراعلی آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ پشاور میں منعقدہ کانووکیشن سے وزیراعلی نے اپنے خطاب کا آغاز اس شعر سے کیا کہ میرے ہاتھ میں قلم ہے میرے ذہین میں اجالا، انہوں نے کہا کہ  مجھے امید ہے ڈگری لینے کے بعد صوبے اور ملک کے لیے اپنی خدمات پیش کریں گے، وی سی صاحبہ نے انگلش میں تقریر کی جو مجھے اچھی نہیں لگی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام یونیورسٹیوں کو ہدایت ہے ہماری قومی زبان اردو ہے تقاریر اردو میں ہوں،  میں نے پہلے بھی کہا تھا اب آئندہ مجھے غصہ آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ  ایک مائنڈ سیٹ نہیں چاہتا خیبرپختونخوا ترقی کرے، مجھے بہت برا لگا جب کل پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا کو دوبارہ دہشت گردی کی طرف دھکیلا گیا۔ وزیراعلی  نے کہا کہ بند کمروں کے فیصلے خطرناک ہوتے ہیں، ملٹری آپریشن کی تیاری ہورہی ہے، 22 آپریشن، 14 ہزار ٹارگٹیڈ آپریشن ہوئے،  ہم نے نشاندہی کی دہشت گرد آرہے ہیں، ہم نے رپورٹ دی، اگر آپریشن کرنا ہے تو اعتماد میں لیں،  سیاسی جماعتوں، یہاں کے مشران کو اعتماد میں لیا جائے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ آپریشن سے ہمارے اسکول، اسپتال،  گھر تباہ ہوئے،  ملٹری آپریشن شروع ہونے سے پہلے ایک بھی بھیگ مانگنے والا نہیں تھا، آپریشن، ڈرون اٹیک دھماکوں سے لوگ شہید ہوئے، اپنی عورتوں کو بھیگ مانگتے دیکھ کر شرمندگی ہوتی ہے، ہم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک بار پھر قربانی کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں نیتوں میں فرق ہے صرف بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،  ملٹری آپریشن کے مناظر دیکھ چکے ہیں، دوبارہ ملٹری آپریشن کے مناظر دیکھنا نہیں چاہتے،  وزیراعلی آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بھائی آپ کے ساتھ کھڑا ہے، تعلیم بھی دیں گے اور روزگار بھی دیں گے، میری آنکھوں میں آنسو کا قطرہ دیکھیں یہ آپ کے مستقبل کے لیے ہوں گی، میری آنکھوں میں آنسوں ڈر کی وجہ سے نہیں ہوں گی،  جو باتیں کرتے ہیں خیبر پختونخوا کو پہاڑوں کے دور میں دھکیلا جارہا ہے، انھیں ہم خیبر پختونخوا میں ترقی دیں گے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل