Loading
ایران کے مصروف ترین بندرگاہ اور تجارتی حب بندرعباس کے بعد ایک اور شہر خوفناک دھماکے سے لرز اُٹھا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق بندر عباس دھماکے کے بعد جنوب مغربی صوبے خوزستان کے شہر اہواز میں بھی ایک اور دھماکا ہوا ہے۔
جس میں کم از کم چار کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جب کہ 14 افراد زخمی ہیں جن میں سے 3 کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
یہ دھماکا بھی ایک رہائشی عمارت میں ہوا جس میں گاڑیوں اور رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا گھیراؤ کرلیا۔
حکام کے مطابق اس واقعے کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں تاہم اس کی نوعیت ابتدائی طور پر حادثاتی معلوم ہوتی ہے۔
مقامی میڈیا نے غیر مصدقہ اطلاع دی ہے کہ اہواز میں ہونے والا دھماکا گیس کا سلنڈر پھٹنے سے ہوا تاہم سرکاری سطح پر تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔
اس دھماکے سے کچھ دیر قبل ایران کے بندرگاہی شہر بندرعباس کی 8 منزلہ رہائشی عمارت میں بھی دھمکا ہوا تھا جس میں دو منزلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔
دھماکے میں کم از کم ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے جب کہ متعدد گاڑیاں اور دکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
یہ دونوں دھماکے اس وقت ہوئے ہیں جب اسرائیل اور امریکا نے جوہری معاہدے کی میز پر آنے کے لیے ایران کو بڑی فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
امریکا کا ایک بڑا جنگی بحری بیڑہ آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں میں مصروف ہے اور ایک میزائل بردار جہاز ایلات میں لنگر انداز ہوچکا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایران میں دھماکوں پر اسرائیل سے رابطہ کیا تو دو اعلیٰ عہدیداروں نے بتایا کہ ایران میں ہونے والے دھماکوں سے اسرائیل کا کوئی تعلق نہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اس قسم کی کوئی بھی کارروائی ابھی زیر غور نہیں لیکن اپنے دفاع کے لیے ہر وقت چوکنا ہیں اور کسی بھی جارحیت کا فوری و منہ توڑ جواب دیں گے۔
البتہ امریکا کی جانب سے ایران میں ہونے والے دھماکوں میں تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا حالانکہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ انھوں نے ایران کو ڈیڈ لائن دیدی ہے۔
ایران نے بھی فوری طور پر ان دھماکوں کی ذمہ داری اسرائیل یا امریکا میں کسی بھی ملک پر عائد نہیں کی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل