Wednesday, February 04, 2026
 

سینیٹ خزانہ کمیٹی کا اہم اجلاس: ایف بی آر کے ٹیکس میسجز، سپر ٹیکس اور اصلاحات سے متعلق امور پر غور

 



سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، چیئرمین ایف بی آر، گورنر اسٹیٹ بینک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایف بی آر کی جانب سے فائلرز کو ٹیکس سے متعلق ٹیکسٹ میسجز بھیجے جانے کے معاملے پر تفصیلی بحث ہوئی۔ چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ پیغامات صرف ایف بی آر اور متعلقہ فائلر تک محدود ہوتے ہیں اور ان سے کسی کی مالی رازداری متاثر نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میسجز سے ایف بی آر کو فائدہ ہوا اور فائلرز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ کسی کو ذاتی حیثیت میں میسج بھیجنے سے کون سی پرائیویسی متاثر ہوتی ہے، انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں خود بطور وزیر خزانہ ایف بی آر کا میسج موصول ہوا۔ سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے بھی تصدیق کی کہ انہیں بھی ایف بی آر کا میسج ملا اور یہ ضروری اقدام ہے۔ بعد ازاں قائمہ کمیٹی نے سینیٹر اسد قاسم کی جانب سے اٹھایا گیا یہ معاملہ نمٹا دیا۔ اجلاس میں صنعت، کاروبار اور دیگر شعبوں پر عائد سپر ٹیکس کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ آئینی عدالت قرار دے چکی ہے کہ سپر ٹیکس عائد کرنا پارلیمان کا اختیار ہے، تاہم اس ٹیکس سے عوام اور کاروباری طبقے پر دباؤ اور بوجھ بڑھا ہے۔ سینیٹر عبدالقادر نے دوہرے سپر ٹیکس اور ایف بی آر کی جانب سے گرفتاریوں کے ذریعے دباؤ ڈالنے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ وزیر خزانہ نے جواب میں کہا کہ فروری کا مہینہ جاری ہے، دو ماہ بعد دوبارہ کمیٹی کو بریفنگ دی جائے گی اور بجٹ کا انتظار کیے بغیر مجموعی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ لی جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ چیئرمین ایف بی آر سے ٹیکس اصلاحات پر مکمل پریزنٹیشن لی جائے۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی اصلاحات کے نتائج مثبت آئے ہیں۔ سینیٹر شیری رحمان نے آئی ایم ایف پروگرام پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ میکرو اکنامک استحکام کے ساتھ زمینی حقائق کو بھی دیکھنا ہوگا، جبکہ کور گروتھ کے باوجود عوام کے لیے ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور ادارے بند ہو رہے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ جو ادارے بند کیے جا رہے ہیں انہیں مکمل پیکجز کے ساتھ بند کیا جا رہا ہے اور کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہو رہی۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب بینکنگ سیکٹر کی نجکاری ہوئی تو پچاس ہزار افراد بے روزگار ہوئے تھے۔ اجلاس میں وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران ترقیاتی بجٹ میں اب تک 1.5 ارب روپے استعمال کیے گئے ہیں۔ اس موقع پر چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے ایک ہزار ارب روپے کے آڈٹ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم منصوبے میں تاخیر پر سوال اٹھایا۔ آڈیٹر جنرل کے حکام نے بتایا کہ آڈٹ کے طریقہ کار کو سافٹ ویئر سے منسلک کرنے میں تاخیر ہوئی، تاہم منصوبہ 30 جون 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔ اس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ منصوبہ تو 30 جون 2024 تک مکمل ہونا تھا اور اس بار تکمیل کی کیا گارنٹی ہے، جس پر حکام نے یقین دہانی کرائی کہ تاخیر کی وجوہات دور کر دی گئی ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے پاکستان منٹ منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کا معاملہ بھی اٹھایا، جس پر حکام نے کہا کہ اگر ایک ہی وقت میں مکمل رقم فراہم کر دی جائے تو منصوبے جلد مکمل ہو سکتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ بجٹ میں ایک لاکھ روپے تک تنخواہ والے طبقے پر ٹیکس کم کیا گیا اور اگلے سلیب میں بھی ٹیکس کی شرح کم کی گئی، تاہم زیادہ آمدن رکھنے والوں پر ٹیکس کی شرح برقرار رکھی گئی اور سپر ٹیکس عائد تھا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کمیٹی ارکان کو دستاویزات بروقت ملنی چاہئیں تاکہ وہ مؤثر سوال جواب کر سکیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل