Wednesday, February 11, 2026
 

خاندان کی کفالت کیلئے مردوں کا بھیس بدل کر نوکری کرنے والی افغان لڑکی گرفتار

 



افغانستان کے صوبہ ہلمند میں طالبان فورسز نے مردانہ لباس پہن کر کام کرنے والی ایک نوجوان لڑکی کو گرفتار کر لیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 13 سالہ نوریہ نامی لڑکی گزشتہ تین برس سے "نور احمد" کے نام سے ایک کیفے میں ملازمت کر رہی تھی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں نوریہ نے بتایا کہ والد کے انتقال کے بعد وہ اپنے خاندان کی واحد کفیل تھی اور شدید غربت کے باعث مردانہ لباس پہن کر کام کرنے پر مجبور ہوئی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کی تاہم آخرکار اس کا راز فاش ہوگیا اور اسے حراست میں لے لیا گیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں خواتین کی تعلیم، ملازمت اور نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ سرکاری و نجی شعبوں میں خواتین کے کام کرنے پر قدغنوں کے باعث ہزاروں خواتین روزگار سے محروم ہوچکی ہیں۔ نوریہ کی گرفتاری نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے اور ایک بار پھر افغان خواتین کو درپیش مشکلات اور بنیادی حقوق کے مسئلے کو اجاگر کر دیا ہے۔         View this post on Instagram                        

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل