Loading
وزیراعظم کے معاون خصوصی سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن عمران خان کی صحت پر سیاست نہ کرے کسی کو کچھ کہنا ہے تو سپریم کورٹ جائے۔
یہ بات انہوں نے سینیٹ کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس کے اظہار خیال کے جواب میں کہی۔
رانا ثنا اللہ نے ایوان میں جواب دیا کہ عمران خان کی صحت پر بیرسٹر سلمان صفدر نے جو رپورٹ دی ہے اس میں تمام سہولیات کا بتایا گیا ہے، جیل میں ایکسرسائز مشینیں، تین وقت کھانے کی رپورٹ دی گئی ہے، چیف جسٹس نے خود کہا ہے سلمان صفدر اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس ایک جیسی ہیں، سلمان صفدر کی رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ ان کے علاج میں انکار کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے جب بھی شکایت کی ان کا علاج کیا گیا، اس معاملے کو سیاسی انداز میں آگے بڑھانا اور کہنا یہ بہت بڑا جرم ہے، بانی پی ٹی آئی کی صحت پر جیل سپرنٹنڈنٹ یا اس سائیڈ سے کوئی شخص سیاست کرے تو وہ بہت بڑا جرم ہے۔
رانا ثنا نے کہا کہ ان کا ملک میں جو سب سے اچھا علاج ہے وہ کرایا گیا ہے، کینسر اسپتال میں پمز سے اچھا کوئی ڈاکٹر ہے تو اس سے بھی چیک کروایا جاسکتا ہے، سپریم کورٹ نے دونوں رپورٹس دیکھ کر کہا ہے انہیں مزید کسی ماہر ڈاکٹر سے چیک کروایا جائے،
بانی پی ٹی آئی کے وکلاء کیساتھ بیٹھ کر جو بھی بات ہوئی ہے اس پر عمل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے کہتا ہوں کہ کسی کی صحت پر آپ کو بھی سیاست نہیں کرنی چاہیے اگر آپ کو اس میں مزید کچھ کہنا ہے تو آپ سپریم کورٹ چلے جائیں علامہ راجہ ناصر عباس صاحب آپ کو بھی اس معاملے پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل