Loading
اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج نے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا دیا ہے جہاں اپوزیشن اراکینِ پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ ہاؤس اور کے پی ہاؤس میں احتجاجی دھرنے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر اپوزیشن کے متعدد رہنما موجود ہیں جن میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، راجہ ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر سمیت دیگر اراکین شامل ہیں۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھیں گے۔
اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے کہاکہ 100 سے زائد اراکین پارلیمنٹ کو آپ یہاں قیدی بنا کر رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم دھمکیاں دینے والے نہیں حکومت رابطہ کرے یا نہ کرے دھرنا جاری رہے گا، مطالبات نہ مانے گئے تو رمضان میں بھی دھرنا جاری رہے گا، یہیں پر روزے بھی رکھیں گے اور تراویح بھی پڑھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے 3 ڈاکٹرز کے ناموں پر مشتمل خط لکھا تھا جبکہ وزیر اعظم نے اس پر کچھ بھی نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کل بات ہوئی تھی کہ بانی پی ٹی آئی کو الشفا اسپتال لے جانے تک یہاں دھرنا دیں گے۔ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع نہ ہو وہ جس اسپتال میں جانا چاہیں علاج کرائیں۔
دوسری جانب کے پی ہاؤس میں بھی رہنماؤں کی بڑی تعداد موجود ہے جہاں علی امین گنڈا پور اور سہیل آفریدی سمیت دیگر قائدین نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔
دونوں مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل