Friday, February 13, 2026
 

شہنشاہ غزل

 



لاہور میں ایک مشاعرہ برپا تھا۔ فیض احمد فیض صاحب صدر محفل تھے۔ آخر میں دعوت کلام دی گئی تو انھوں نے اپنی چند شاندار غزلیں‘ سامعین کے سامنے پیش کیں۔ لوگ‘ فیض کی شاعری پر سردھن رہے تھے۔ اچانک‘ فرمائش کی گئی کہ جناب اپنی مشہور غزل ‘’’گلوں میں رنگ بھرے‘ باد نوبہار چلے‘‘تو سنائیے۔ فیض صاحب‘ یکدم خاموش ہو گئے۔ مائک پر کہنے لگے یہ درست ہے کہ یہ غزل میں نے لکھی ہے، پر جب سے مہدی حسن نے اسے گایا ہے یہ سخن تو صرف ان کا ہی ہو چکا ہے۔ لہٰذا اگر آپ یہ سننا چاہتے ہیں ‘ تو اس عظیم گلوکار سے سنئے جنھیں مہدی حسن کہا جاتا ہے۔ جناب اس وقت ‘ فیض صاحب کے اس کلام کی بدولت‘ مہدی حسن ‘ شہرت کی بلندیوں پر تھے ۔کمال کے غزل گو۔ ایسا بے مثال گائک ‘ جس کی مثال نہیں ملتی۔ انھیں’’ شہنشاہ غزل‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ جے پور ریاست میں 1927 میں پیدا ہونے والا یہ بچہ‘ موسیقی کو اس سطح پر پہنچا دے گا‘ کہ اس کے بعد غزل کے معنی ہی بدل جائیں گے۔ مہدی حسن ایک ‘ موسیقار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان کلونت گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ تقریباً سولہ پشتوں سے یہ لوگ موسیقی سے وابستہ تھے۔ راجے ‘ مہاراجے اور بادشاہ ان کا دم بھرتے تھے۔ متعدد شاہی خاندان‘ ان کے خاندان سے موسیقی کی تعلیم لیتے تھے جن میں نیپال کے بادشاہ بھی شامل تھے۔ مہدی حسن کو موسیقی ورثہ میں ملی تھی۔ مگر اس کو پختہ سے پختہ تر کرنے میں ان کی ذاتی محنت شامل تھی۔ صرف چھ برس کی عمر میں‘ مہدی حسن نے موسیقی ترتیب کرنی شروع کر دی تھی۔ مگر باضابطہ طور پر آٹھ برس کی عمر میں ان کے والد اور چچا نے انھیں کلاسیکی موسیقی کی تعلیم دینی شروع کر دی۔ والد کا نام استاد عظیم خان اور چچا کا نام استاد اسماعیل خان تھا۔ دونوں‘ دھرپت رنگ میں گاتے تھے۔ مہدی حسن نے صرف آٹھ برس کی عمر میں ’’نواب آف برودا‘‘ کے دربار میں گانا سنایا۔ اور سب کو مسحور کر کے رکھ دیا۔ دس برس میں ‘ مہدی حسن نے کلاسیکی موسیقی کے ہر رنگ کو اپنے اندر سمو لیا۔ خیال ‘ دھادرا‘ ٹھمری اور دھرپت پر مکمل عبور حاصل کرلیا۔ بٹوارے سے پہلے‘ مہدی حسن اور ان کے بھائی پنڈت غلام قادر‘ مختلف درباروں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہتے تھے۔یہ وہ دور تھا جس میں گلوکاروں کو دربارکی سرپرستی حاصل تھی۔اب نا وہ دربار رہے اور نہ ہی وہ قدر دان۔ بہر حال استاد عظیم خان نے اپنے بیٹوں کو بہت سخت کوش بنا ڈالا تھا۔ صرف موسیقی کی تعلیم ہی نہیں‘ جسمانی ورزش بھی تربیت کا حصہ تھی۔ مذہب کی طرف خاص میلان تھا۔ عظیم خان کہا کرتے تھے کہ اچھا گانے کے لیے انسان کو طاقتور جسم کا مالک بھی ہونا چاہیے۔ ایک بار‘ انھوں نے مہدی حسن کو تقریباً پچاس گھنٹے مسلسل ریاض کروایا۔ تقسیم ہند کے بعد‘ مہدی حسن اور ان کا خاندان ساہیوال کے ایک گاؤں میں منتقل ہو گیا۔ مالی حالات بہت کمزور تھے۔ چنانچہ مجبوری میں اس نے سائیکلوں کی ایک دکان پر کام کرنا شروع کر دیا۔ ساتھ ساتھ کار اور ٹریکٹر کو ٹھیک کرنے کا کام بھی جاری کر دیا۔ ایک عظیم گلوکار ‘ پیٹ کے دوزخ کو بھرنے کے لیے گاڑیاں‘ سائیکلیں اور ٹریکٹر ٹھیک کرنے میں مصروف ہو گیا۔ مگر اس ہنگام میں بھی وہ اپنے اصل جوہر کو نہ چھپا پایا۔ گانے کی مشق مسلسل جاری رہی۔ 1952 میں ‘ مہدی حسن‘ ریڈیو پاکستان سے منسلک ہو گئے۔ یہاں انھیں‘ زیڈ اے بخاری اور رفیق انور جیسے جہاندیدہ لوگوں کی سرپرستی مل گئی۔ 1956 میں مہدی حسن نے فلموں کے لیے گانا شروع کر دیا۔ پہلی فلم کا نام تھا ’’شکار‘‘۔ اس گانے کے بول ‘ یزدانی جالندھری نے لکھے تھے اور دھن اصغر علی کی ترتیب کی ہوئی تھی۔ بول کچھ یوں تھے۔ ’’نظر ملتے ہی دل کی بات کا چرچہ نہ ہو جائے‘‘۔ مگر ان کی اصل شہرت 1964 میں فیض صاحب کی غرل ’’گلوں میں رنگ بھرے‘‘ سے شروع ہوئی۔ اس کی دھن رشید عطرے نے ترتیب دی تھی۔ اس غزل کے لازوال شعر اور مہدی حسن کی جادوئی آواز نے قیامت برپا کر ڈالی۔ ہر جگہ اس کے چرچے شروع ہو گئے۔ ہر شہر‘ قصبہ‘ محلہ‘ اور کوچہ میں مہدی حسن کی آواز گونجنے لگی۔ غزل اور آواز دونوں امر ہو گئے آج بھی اسے سنا جائے تو انسان پر کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ اپنے پورے کیریئر میں مہدی حسن نے ‘ تین سو سے زیادہ فلموں کے گانے اور غزلیں گائیں۔ انھوں نے غزل کو اس سطح پر پہنچا دیا‘ کہ گائیکی کا ایک نیا اسلوب قائم ہوگیا۔ اگر ان کے شاگردوں کی فہرست دیکھی جائے۔ تو وہ بھی خاصی طویل ہے۔ پرویز مہدی سے لے کر ہری ہرن‘ اور طلعت عزیز سے لے کر اسرار حسین تک‘ ان گنت گلوکار ہیں جنہوں نے باقاعدہ موسیقی ان سے سیکھی۔ شاگردوں کی لسٹ تو ایک طرف مہدی حسن نے طبلہ اور دیگر ساز بجانے والوں کو بھی مشہور کر ڈالا۔ جس نے بھی ان کے ساتھ کام کیا‘ شہرت اس کا نصیب بن گئی۔ استاد تاری خان‘ طبلہ نواز‘ آج بھی مہدی حسن کی سنگت کی بدولت بلند مقام پر فائز ہے۔ 1977 میں مہدی حسن ہندوستان گئے تو وہاں ایک محفل میں لتا منگیشکر بھی تھیں۔ خان صاحب کی آواز سن کر ان کے الفاظ تھے ’’کہ ایسا لگتا ہے کہ مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بول رہا ہے‘‘۔یہ لافانی جملہ لتا جیسی عظیم گلوکارہ نے کبھی کسی اور کے لیے نہیں کہا۔ پاکستان کا کوئی ایسا اعزاز نہیں جو اس گلوکار کو نہیں ملا۔ نشان امتیاز‘ تمغہ امتیاز‘ ہلال امتیاز‘ اور پرائڈ آف پرفارمنس ان میں شامل ہیں۔ دس مرتبہ انھیں نگار ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ 1979 میں ہندوستان میں انھیں کے ایل سہگل ایوارڈ دیا گیا۔ 1983 میں نیپال کی حکومت نے’’گورکھا دکھشنا باہو‘‘ عطا کیا۔ اس کے علاوہ متعدد ممالک نے ان کی عزت افزائی کی۔ یہاںایک بات عرض کرنی ضروری ہے۔ مہدی حسن جیسے باکمال گائک اکثر اوقات اپنے فن کو شاگردی کی شکل میں تقسیم نہیں کرتے۔ بلکہ اسے اپنے آپ اور خاندان تک مقید رکھتے ہیں۔مگر خان صاحب نے یہ روایت بھی توڑ دی۔ انھوں نے متعدد شاگرد بنائے۔ انھیں موسیقی سکھائی‘ اور ان لوگوں نے بھی خوب نام پیدا کیا۔ چند شاگردوں کا ذکر تو میں پہلے بھی اس کالم میں کر چکا ہوں۔ ہر عروج کو زوال ہے۔ مہدی حسن پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا ہو گئے۔ ہندوستان گئے ہوئے تھے۔2000 کی بات ہے۔ کیرالہ میں انھیں فالج کا حملہ ہوا۔ واپس پاکستان آئے۔ 2005 میں آیوویدک علاج کے لیے دہلی چلے گئے۔ وہاںانتہائی تندہی سے ان کا علاج کیا گیا۔ دلیپ کمار‘ لتا جی اور واجپائی نے ان کا خاص خیال رکھا۔ واپس پاکستان آئے تو 2012 میں فالج کا دوسرا حملہ ہوا اور 13جون کو وہ مدھر آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔ ہمارے ملک میں مہدی حسن کی سطح کا دوسرا غزل گو گائک آج تک ناپید ہے۔ ذمے داری سے عرض کر رہا ہوں کہ غزل کے اشعار کی درست ادائیگی اور رچاؤ بھرنا‘ ان کے علاوہ کسی اور کا کام ہے ہی نہیں۔ وہ سرکا بادشاہ تھا اور اسی لیے اسے شہنشاہ غزل کا درست خطاب دیا گیا تھا۔ عرض کرتا چلوں کہ مجھے موسیقی سننے کا کافی شوق ہے ۔ خصوصاً اچھی غزل تو بڑی چاہ سے سنتا ہوں۔ بیگم اختر ‘ فیض آبادی اور کے ایل سہگل کی آوازوں کو کمال گردانتا ہوں۔ میری اسٹڈی میں کتابوں کے علاوہ اگر کچھ موجود ہے تو صرف خوبصورت غزلوں کی باز گشت۔ اس کے علاوہ کچھ بھی پسند نہیں ہے۔ مگر ان دو کے علاوہ‘ جس آواز کو میں غزل کے رنگ میں گردانتا ہوں وہ صرف اور صرف مہدی حسن ہے۔ آج کل موسیقی کا کیا عالم ہے۔ یہ کس مرحلہ سے گزر رہی ہے۔ کم از کم مجھے اس کا کوئی علم نہیں۔ اس لیے کہ نئے گانے والوں کو سننے کا اتفاق کم ہی ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان میں سے چند اچھے گانے والے بھی ہوں مگر وثوق سے نہیں عرض کر سکتا۔ کہ آج کل‘ کون بہتر گا رہا ہے۔ دراصل نئے گانے والے‘ آواز کے زور پر نہیں گاتے‘ بلکہ وہ جدید آلات کی بدولت‘ گلوکار بننے کی کوشش کرتے ہیں۔اب تو ایسے ایسے موسیقی کے آلات موجود ہیں ‘ جو آواز ہی کو بدل ڈالتے ہیں۔ اس میں تغیر پیدا کر دیتے ہیں۔ گونج سامنے آ جاتی ہے۔ مگر سر میں جان نہ ہو‘ ریاض نہ ہو‘ تو خالی آلات آواز کو دائمی نہیں بنا سکتے۔ ویسے ایک دوبار تو ایسے لگا کہ گلوکار یا گلوکارہ باقاعدہ گانے کی جگالی فرما رہے ہیں۔ چلیئے، اس پر کیا بات کرنی۔ جدید موسیقی سے مجھے کوئی شغف ہے ہی نہیں۔ مہدی حسن کے بعد‘ غلام علی نے بھی بہت بہتر انداز سے غزل کا حق پورا کیا ہے۔ کسی کی دل آزاری نہیں کر رہا۔ مہدی حسن جیسی ریاضت کرنا اور پھر حد درجہ محنت سے لفظوں کی ادائیگی کرنا‘ ہر خاص و عام کے بس کی بات نہیں۔ خواتین میں اقبال بانو نے غزل کی عزت میں اضافہ کیا ہے۔ ان کا ذکر نہ کرنا ‘ نا انصافی ہو گی۔ موسیقی کو تھوڑا ساسمجھتاہوں۔ مہدی حسن کے مقام پر‘ کوئی بھی نہیں پہنچ سکا۔ خدا‘ اپنی مخلوق کو تخلیق کرتے وقت‘ آواز کا جادو بہت ہی کم بانٹتا ہے۔ مہدی حسن کو یہ جادوئی آواز ‘ خالق کی طرف سے عطا ہوئی تھی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل