Friday, February 13, 2026
 

پاک بھارت کرکٹ میچ، اچھی خبر

 



پاک بھارت کرکٹ کا تنازع طے ہوگیا۔ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، خلیجی ممالک، یورپ اور امریکا میں آباد تارکینِ وطن جنھیں کرکٹ سے محبت ہے، ان کے لیے یہ ایک انتہائی خوشگوار خبر ہے۔ اس فیصلے سے جہاں سری لنکا کی معیشت کو استحکام حاصل ہوگا، وہیں بھارت اور پاکستان کی اشتہاری صنعت کو معاشی خوشحالی میسر آئے گی۔ کرکٹ کا تنازع بھارت کی دائیں بازوکی حکومت کی مذہبی انتہا پسند پالیسیوں کی بناء پر پیدا ہوا۔ جب مذہبی انتہاپسندوں نے معروف اداکار شاہ رخ خان کی آئی پی ایل ٹیم میں شامل بنگلا دیش کے کھلاڑی مستفیض الرحمن کی شمولیت پر شور مچایا تھا جس پر ٹیم سے مستفیض الرحمن کو نکال دیا گیا۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا کہ ان کی ٹیم کے میچ بھارت سے سری لنکا منتقل کیے جائیں، مگر آئی سی سی کی انتظامیہ نے یہ مطالبہ ماننے سے انکارکیا، یوں بنگلا دیش نے ٹی 20 ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ۔ بنگلا دیش ڈاکٹر محمد یونس کے دور میں پاکستان کے قریب آگیا ہے۔ اس بناء پر پاکستان نے تاریخ میں پہلی دفعہ بنگلا دیش سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ گزشتہ سال مئی میں پاکستان اور بھارت کی فضائیہ کے طیاروں کی ڈاگ فائٹ کے بعد بھارتی حکومت نے ایک انتہا پسندانہ فیصلہ کیا تھا کہ بھارت کی کرکٹ ٹیم پاکستان سے میچ تو کھیلے گی مگر دونوں ممالک کے کھلاڑی ایک دوسرے سے مصافحہ نہیں کریں گے۔ اس احمقانہ فیصلے سے کھیل کے میدان میں بدمزگی پیدا ہوئی۔ بھارت کی کرکٹ ٹیم نے دبئی میں ہونے والا ایشیاء کپ ٹورنامنٹ جیت لیا تھا مگر ٹیم نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے صدر محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہیں کی، یوں دونوں ممالک کے درمیان ایک اور ناخوشگوار واقعہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔ بھارت کے سنجیدہ حلقوں نے بھارت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی۔ کانگریس کے رکن اور معروف دانشور ششی تہور نے بھارتی حکومت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیاست کو کھیل میں لانے سے نقصانات بہت ہو چکے۔ ان کا بیانیہ تھا کہ کھیل سے لوگ جڑے ہیں۔ کھیل کو لوگوں کے درمیان تقسیم کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔ بھارت کی مذہبی حکومت انتہا پسند نظریات سے نہ صرف اپنے ملک میں لوگوں کو تقسیم کر رہی ہے بلکہ اس سے پورے خطے کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے، اگر 80 کی دہائی کا جائزہ لیا جائے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ سابقہ سوویت یونین نے 1980 میں دارالحکومت ماسکو میں اولمپک کھیلوں کی میزبانی کی تھی۔ اس وقت سوویت یونین نے افغانستان میں کمیونسٹ حکومت کو بچانے کیلیے اپنی فوجیں بھیج دی تھیں۔ امریکا اور یورپی ممالک نے افغانستان میں ایک بہت بڑا فوجی پروجیکٹ شروع کیا تھا۔ امریکا کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے اس پروجیکٹ میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت بھی شامل ہوگئی تھی۔ امریکا اور یورپی ممالک نے ماسکو اولمپک کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ اس وقت بھارت میں سیکولر جماعت کانگریس کی حکومت تھی اور مسز اندرا گاندھی وزیر اعظم کے عہدے پر فائز تھیں۔ وزیراعظم اندرا گاندھی نے امریکا کے اس بائیکاٹ کا ساتھ دینے سے انکارکیا اور بھارت نے اپنے کھلاڑیوں کو ماسکو بھیجا۔ جنرل ضیاء الحق کی حکومت امریکی سی آئی اے کے پروجیکٹ میں شریک تھی۔ اس بناء پر پاکستان کی حکومت نے سیاست کو کھیل سے دور رکھنے کے اصول کو توڑا اور پاکستان بھی بائیکاٹ کرنے والے ممالک میں شامل ہوا۔بھارت اور پاکستان ایک ساتھ آزاد ہوئے۔ آزادی کے وقت ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں لاکھوں لوگ مارے گئے اورکروڑوں لوگ دربدر ہوئے مگر پھر دونوں ممالک کی حکومتوں نے اچھے تعلقات کا عزم کیا۔ جب بھارت کی حکومت نے آزادی کے قانون کے تحت پاکستان کو اس کے اثاثے واپس کرنے سے انکارکیا تو مہاتما گاندھی نے یہ اثاثے پاکستان کے حوالے کرنے کے لیے بھوک ہڑتال شروع کردی۔ یہ ہڑتال ایک ہفتے کے قریب جاری رہی۔ بھارت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کی حکومت کو مہاتما گاندھی کا مطالبہ ماننا پڑا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ایک ہندو انتہا پسند تنظیم کے کارکن نے مہاتما گاندھی کو قتل کردیا۔ اس وقت بیرسٹر محمد علی جناح پاکستان کے گورنر جنرل تھے۔ بیرسٹر محمد علی جناح نے مہاتما گاندھی کے قتل کے سوگ میں پاکستان کا پرچم سرنگوں کرنے کا فیصلہ کیا اور بھارت کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے عام تعطیل کا اعلان کیا تھا مگر پھر کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہونے پر دونوں ممالک کے درمیان دو بڑی جنگیں اور پانچ کے قریب چھوٹی جھڑپیں ہوئیں مگر ان تمام جنگوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہوئی اور دونوں ممالک نے امن کے معاہدے کیے۔ 1965 کی جنگ کے بعد معاہدہ تاشقند ہوا اور اسی طرح 1971 میں جنگ کے بعد شملہ معاہدہ ہوا۔ اس کے علاوہ بھی دونوں ممالک کے درمیان پنڈت جواہر لعل نہرو اور نوابزادہ لیاقت علی خان کے دور سے نواز شریف کے دور تک بہت سے معاہدے ہوئے۔ دونوں ممالک کے سربراہوں نے بہت دفعہ ایک دوسرے کے ممالک کا دورہ کیا، مگر تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آئے تو نادیدہ قوتوں نے اسی طرح کی کارروائیاں کیں کہ پھر دونوں ممالک کے درمیان دوری ہوگئی۔ ایک صحافی کا کہنا ہے کہ جب 2008 میں پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو صدر زرداری نے بھارت سے تعلقات کے نئے دورکے آغازکا عزم کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان ویزے کی پابندیاں نرم ہونے کے ایک معاہدے پر اتفاق ہوگیا تھا۔ اس وقت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اس معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے دہلی گئے۔ جس دن اس معاہدے پر دستخط ہونے تھے اسی دن بمبئی میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا اور پھر سب کچھ تبدیل ہوگیا۔ جب میاں نواز شریف وزیراعظم بنے تو وزیراعظم مودی ان کی نواسی کی منگنی میں شرکت کے لیے لاہور آگئے مگر پھر میاں نواز شریف کے خلاف لاہور کی دیواروں پر نعرے لکھ دیے گئے اورکچھ عرصے بعد نواز شریف رخصت ہوگئے۔ جب بھارتی حکومت نے بھارتی آئین میں کشمیر کے خصوصی درجہ کو ختم کیا اور بھارتی یونین کے آئین میں شق 370 کو ختم کرکے کشمیر کو دو ڈویژن میں تقسیم کیا گیا تو اس وقت عمران خان وزیر اعظم پاکستان تھے۔ انھوں نے بھارت کے اس اقدام کے خلاف عالمی رائے عامہ ہموارکرنے کی کوشش کی تو بہت زیادہ مثبت نتائج سامنے نہیں آئے تو انھوں نے بھارت سے ہر قسم کے تعلقات کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا جس کے منفی نتائج برآمد ہوئے۔ بھارت اور پاکستان کے غیر منقسم خاندانوں کے علاوہ سیاحوں کا ایک دوسرے کے ملک جانے کا راستہ بھی بند ہوا۔ پاکستان سے سستا اور معیاری علاج کے لیے بھارت جانے والے مریض بیچارے رل گئے، دونوں ممالک کے درمیان تجارت بند ہوگئی۔ پاکستان میں ویکسین کی قلت پیدا ہوئی اور دوائیوں کا خام مال جو بھارت سے آتا تھا وہ بند ہوگیا۔ اس سے پاکستان کی ادویات کی صنعت متاثر ہوئی اور دونوں ممالک کے انتہا پسند عناصرکو ایک نئی قوت مل گئی۔ دونوں ممالک کی حکومتوں کو دنیا سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ترکیہ، اسرائیل کا شدید مخالف ملک ہے مگر ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان تجارت باقاعدگی سے جاری ہے۔ امریکا کا سارا زور روس اور چین کے خلاف ہے۔ امریکا نے روس اور چین کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں مگر صدر پوٹن اور صدر ٹرمپ کی ملاقاتیں بھی ہوتی ہیں اور دونوں رابطے میں بھی رہتے ہیں۔ اسی طرح صدر ٹرمپ اور چین کے صدر Xi Jinping کے مابین گزشتہ دنوں ٹیلی فون پر مذاکرات ہوئے تھے۔ اسی طرح امریکا کی ان دونوں ممالک سے تجارت ہو رہی ہے۔ اس صورتحال میں اس خطہ کے عوام کا مفاد اسی میں ہے کہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان فوری ملاقات ہونی چاہیے، تاکہ اس خطے میں صورتحال معمول پر آئے اور دونوں ممالک مشترکہ دشمن یعنی غربت کے خلاف جنگ کریں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل