Friday, February 13, 2026
 

بھارتی اقلیتیں ہر طرح کے شکنجے میں

 



مقبوضہ جموں و کشمیر میں گذشتہ تین ماہ سے مساجد کی پروفائلنگ ہو رہی ہے۔ اس پروفائلنگ سے مندر ، چرچ اور گوردوارہ فی الحال مستثنٰی ہیں۔مساجد کی انتظامی کمیٹی سے لے کر امام ، موزن اور خادم تک سب کو ایک چار صفحاتی پروفارما بھرنا پڑتا ہے۔ اس فارم میں جو تفصیلات مانگی گئی ہیں ان میں مسجد کا نام ، فقہ یا فرقے کا نام ، تعمیر کی تاریخ ، آمدنی و ماہانہ اخراجات کا ذریعہ ، نمازیوں کی گنجائش ، مسجد کی زمین کے مالکان کی تفصیل۔جب کہ مسجد سے منسلک افراد سے جو سوال پوچھے گئے ہیں ان میں نام ، ولدیت ، گھر کا پتہ ، موبائل نمبر ، ای میل ایڈریس ، پاسپورٹ ، کریڈٹ کارڈ ، بینک اکاؤنٹس اور ذاتی سواری کی تفصیلات ، کنبے کے کتنے افراد جموں و کشمیر سے باہر یا بیرونِ ملک ہیں اور ان کے سیاسی و سماجی رجحانات کیا ہیں۔ ایک امام مسجد نے خدشہ ظاہر کیا کہ اب اگلا قدم یہ ہوگا کہ اماموں کو خطبے اور خطاب کا متن بھی انتظامیہ سے منظور کروانا ہوگا۔متحدہ مجلسِ علما کشمیر نے دیگر عبادت گاہوں کو چھوڑ کے صرف مساجد اور ان سے جڑے مدارس کی تفصیلات جمع کرنے کو امتیازی سلوک قرار دیا ہے۔اگست دو ہزار انیس میں کشمیر کی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے سری نگر کی مرکزی جامع مسجد کو قریباً دو برس تالہ لگا رہا اور اب بھی وقتاً فوقتآ بند کر دی جاتی ہے۔جب کہ جامع مسجد کے احاطے میں نمازِ عید کے اجتماع میں بھی ایک مخصوص تعداد شریک ہو سکتی ہے۔ کشمیری مسلمانوں کی نئی پود پر تعلیمی دروازے رفتہ رفتہ کس طرح بند ہو رہے ہیں۔اس کی ایک حالیہ مثال جموں کے ضلع ریسی میں قائم ویشنو دیوی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کی رجسٹریشن کی منسوخی ہے۔اس کالج میں ایم بی بی ایس کے پہلے پنج سالہ بیج کی پچاس نشستوں میں سے بیالیس سیٹیں مسلمان امیدواروں نے تحریری امتحان میں اوپن میرٹ کی بنیاد پر حاصل کر لیں۔چنانچہ مقامی ہندو تنظیموں نے احتجاج شروع کر دیا۔ ان تنظیموں کا موقف تھا کہ چونکہ یہ میڈیکل کالج کشمیر کے مقدس مقام ویشنو دیوی کے بھگتوں کے چندے سے قائم ہوا ہے لہذا یہاں مسلمان طلبا کا داخلہ نہیں ہونا چاہئیے۔ہندو تنظیموں نے کالج کے گیٹ کے باہر کئی ہفتے دھرنا دیا۔بی جے پی کے مقامی ارکانِ اسمبلی نے بھی اس مطالبے کی حمائیت میں ریاست کے لیفٹیننٹ گورنر کو خط لکھا۔چنانچہ چھ جنوری کو نیشنل میڈیکل کمیشن نے اس بہانے میڈیکل کالج کا لائسنس منسوخ کر دیا کہ یہ ادارہ میڈیکل ایجوکیشن کے لیے درکار اکثر انتظامی شرائط پوری کرنے سے قاصر رہا ہے۔کونسی انتظامی شرائط پوری نہیں ہوئیں ؟ یہ واضح نہیں۔ انتظامی شرائط پوری نہیں ہوئیں تو میڈیکل کالج کو کس بنیاد پر لائسنس دیا گیا۔یہ بھی واضح نہیں۔ ریاست کے وزیرِ اعلی عمر عبداللہ نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے ویشنو دیوی کالج کے متاثرین کو ریاست کے دیگر میڈیکل کالجوں میں ایڈجسٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ریاست چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں مسیحی برادری اس بار کرسمس نہیں منا سکی کیونکہ انتہا پسند ہندوؤں نے مقامی گرجوں میں گھس کے توڑ پھوڑ کی اور کرسمس کی ڈیکوریشن فروخت کرنے والی دوکانوں پر بھی حملے کیے۔ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسلام اور مسیحت بیرونی مذاہب ہیں اور ان کا بھارتی تاریخ و ثقافت سے کوئی لینا دینا نہیں۔پولیس نے تھوڑ پھوڑ کے الزام میں صرف چھ بلوائیوں کو حراست میں لیا اور ان کی بھی ایک روز بعد ضمانت ہو گئی۔وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اگرچہ کرسمس کے موقع پر دلی کے ایک کیتھولک چرچ میں کچھ وقت گذارا مگر کرسمس تہہ و بالا کرنے کے واقعات پر چپی سادھے رکھی۔ دلی میں بی جے پی کے ایک رکنِ اسمبلی کی قیادت میں مجمع نے نابینا بچوں کے کرسمس لنچ کی تقریب تتر بتر کر دی۔جن بچوں نے سانتاکلاز کی ٹوپی پہن رکھتی تھی ان کی ٹوپیاں نوچ لی گئیں۔کیرالہ کی ریاست میں مقامی بی جے پی کی جانب سے کرسچن اسکولوں کو دھمکیاں دی گئیں کہ کرسمس منانے کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔حالانکہ بھارت میں اسی فیصد ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد چودہ فیصد اور کرسچنز دو اعشاریہ تین فیصد ہیں۔مگر پروپیگنڈہ یہ ہے کہ مسلمان لو جہاد اور بھومی جہاد کر رہے ہیں اور مسیحی مشنریز دلت ہندوؤں کا مذہب بکثرت تبدیل کروا رہے ہیں۔ امریکی ادارے انڈیا ہیٹ لیب کی رپورٹ برائے سال دو ہزار پچیس کے مطابق سیاسی ریلیوں ، عوامی اجتماعات اور سوشل میڈیا کے رویوں میں شدت کے سبب اقلیتوں کے خلاف نفرتی واقعات میں سال بہ سال اضافے کو خاموش ریاستی تائید حاصل ہے۔ ریٹنگ حاصل کرنے کے لیے اس آتش گیر دوڑ میں مین اسٹریم میڈیا پوری طرح شریک ہے۔ رپورٹ کے مطابق دو ہزار تئیس میں مذہبی نفرت کی چھ سو اڑسٹھ وارداتیں ہوئیں جو دو ہزار پچیس میں دوگنی ہو کر تیرہ سو سے بھی تجاوز کر گئیں۔یعنی اوسطاً تین نفرتی وارداتیں روزانہ۔اٹھاسی فیصد واقعات ان ریاستوں میں ہوئے جہاں بی جے پی اور اتحادی جماعتیں برسرِ اقتدار ہیں۔اس عرصے میں مسیحوں کے خلاف نفرت میں بھی اکتالیس فیصد اضافہ ہوا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی بھارتی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے سماجی و معاشی بائیکاٹ کے روز افزوں رجحان پر متعدد مختصر اور تفصیلی رپورٹیں شائع کی ہیں۔نفرتی جرائم میں کرائے پر مکان یا دوکان نہ دینے سے لے کر اقلیتی کاروبار کے بائیکاٹ ، تعلیمی اداروں اور دفاتر میں انھیں الگ تھلگ کرنا یا امتیازی سلوک ، عبادت گاہوں پر حملے ، مذہبی تہواروں اور رسومات کو متشدد انداز میں روکنا ، گھروں کو بلڈوز کرنا ، تھانوں اور عدالتوں میں متعصبانہ و منتقمانہ سلوک اور گؤ رکھشکوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی لنچنگ سمیت سب ہی کچھ شامل ہے۔ بنیادی مقصد اقلیتوں کو خاموش اور بے شناخت بنانا ہے۔ کچھ عرصے پہلے بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوال نے دلی میں ینگ لیڈرز ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ماضی میں ہمارے گاؤں جلائے گئے ، ہماری تہذیب پر حملے ہوئے ، مندروں کو لوٹا گیا۔ہم بے بسی سے تماشا دیکھتے رہے۔ہمیں اپنی تاریخ کا بدلہ لینا ہے۔ اس دیش کو وہاں تک لانا ہے جہاں ہم اپنے حقوق ، نظریات اور عقائد کی بنیاد پر ایک عظیم بھارت بنا سکیں ‘‘۔ (وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل