Loading
دنیا کی معیشت اس وقت ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ یہ دور آزاد تجارت کا نہیں بلکہ ہر ملک اپنی منڈی کو بچانے کے لیے قوانین بدل رہا ہے۔ یہاں تک کہ ترقی یافتہ ممالک بھی اپنی منڈی کو بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک سخت امتحان کا دور ہے کیونکہ پاکستان کی معیشت پہلے ہی درآمدی بن چکی ہے۔
درآمدی ایندھن، درآمدی مشینری، درآمدی خام مال یہاں تک کہ درآمدی فوڈز پرکھڑی ہے۔ عالمی منڈی میں ذرا سی بھی جنبش پاکستان کو ہلا کر رکھ دیتی ہے، اگر عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھیں یا تجارتی پابندیاں سر اٹھانے لگیں تو پاکستان اسے سب سے زیادہ محسوس کرتا ہے،کیونکہ پاکستان کی برآمدات سے دگنی تو درآمدات ہو چکی ہیں۔ حالیہ بیرونی تجارت کے اعداد و شمار دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستان کس مقام پر کھڑا ہے۔
جولائی تا جنوری 2026 ان 7 ماہ میں پاکستان کی کل برآمدات 18 ارب 19 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز اور درآمدات 40 ارب 23 کروڑ30 لاکھ ڈالرز کے اعداد و شمار ہی حکومت کو چونکا دینے کے لیے کافی ہیں۔ عالمی منڈی میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستانی معیشت بے یقینی کا شکار ہے۔ دنیا کے بازار میں اب وہی ملک زندہ رہ سکتا ہے جو اپنی بنیاد مضبوط کرے،کیونکہ تجارت اب صرف تجارت نہیں بلکہ سیاست بن چکی ہے اور سیاست میں ہمیشہ کمزور معیشت قربانی کا بکرا بنتی ہے۔ تجارت خارجہ کے یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہم عالمی منڈی میں داخل ہی نہیں ہوئے بلکہ دروازے پر کھڑے ہیں۔
یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان اب بھی درآمدی غلامی کے پنجرے میں ہے۔ برآمدی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان اب بھی اپنی ہی فرسودہ پالیسیوں کی قید میں ہے۔ ہم ہر وقت خود سے یہی پوچھتے ہیں کہ ڈالر کہاں سے آئے گا؟ جب کہ ہم ڈالر کمانے کا ہنر نہیں جانتے اور ڈالر خرچ کرنے کا ہنر خوب جانتے ہیں۔ ان 7 ماہ کی برآمدات اور درآمدات سے صاف ظاہر ہے 7 ماہ میں 18 ارب ڈالر کی برآمدات کو اگر ہم امید کی شمع قرار دیتے ہیں تو 40 ارب ڈالر کی درآمدات کو طوفان سمجھنا چاہیے اور شمع طوفان کے سامنے کب تک ٹھہر سکتی ہے۔ یہی وہ سوال ہے جسے کچھ لوگ معیشت کے کاغذ پر لکھتے ہیں لیکن یہ قوم کے مستقبل پر لکھا ہے۔
یہ وہ سوال ہے جو وزیر کے بیان سے نہیں غریب کے چہرے پر نظر آ رہا ہے، اگر پاکستان نے اپنی برآمدات کو طاقت نہ دی، اپنی صنعتوں کو سہارا نہ دیا، اپنی پالیسیوں کو وقت کے تقاضوں پر نہ ڈھالا تو دنیا تو چال چل چکی ہے۔ ایک طرف بھارت، یورپ تجارتی معاہدہ ہو گیا اور پاکستان کا جی ایس پی پلس کا مستقبل خطرے میں پڑگیا، بھارت کو امریکی تجارت میں مراعات مل گئیں، وہ 18 فی صد ٹیرف پر آگیا اور پاکستان زیادہ پر ہی ہے۔ اپنے گھر سے اصلاح کرنا ہوگی، کیوں کہ دنیا آج تجارت کی نئی جنگ میں داخل ہو چکی ہے۔
امریکا اپنی صنعت بچانے کے لیے ٹیرف بڑھاتا ہے۔ ایسے میں پاکستان جیسے ملک کے لیے برآمدات بڑھانا آسان نہیں۔40 ارب ڈالر کی درآمدات یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ وہ دروازہ ہے جو ہم نے اپنی کمزور برآمدات کے سامنے کھول دیا ہے۔ ہم کیا منگواتے ہیں، تیل جس کی ہمیں ضرورت ہے جو ہماری گاڑیوں میں جلتا ہے، مشینریاں جو صنعت کے لیے ضروری ہیں مگر ہماری صنعتیں اتنی بڑھ نہیں رہیں جتنی ہمیں ضرورت ہے۔ موبائل فون کیونکہ بہت سے لوگ ہر وقت خوابوں کی دنیا میں کھوئے رہنا چاہتے ہیں اس کا درست اور مناسب استعمال کے لیے درآمد کرنا ضروری ہے لیکن غیر ضروری استعمال کے لیے بھی درآمد کیے جاتے ہیں، کہیں قیمتی موبائل فون کو بچوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ مغرب کے طور طریقے سیکھیں، نتیجہ کیا نکل رہا ہے اور پھر ہم کہتے ہیں کہ بچے نافرمان ہو رہے ہیں اور اولڈ ہاؤس آباد ہو رہے ہیں۔
کھانے پینے کی اشیا بڑی مقدار میں درآمد کر رہے ہیں، اپنی زراعت کو اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہونے دیتے۔یہ بڑھتی ہوئی درآمدات جوکہ کچھ غیر ضروری بھی ہیں غذائی درآمدات، فرنیچر، اعلیٰ اقسام کی سینیٹری کا سامان، سامان آرائش، قیمتی سے قیمتی لگژری گاڑیاں، صرف نام و نمود کی خاطر قیمتی سے قیمتی موبائل فون، بیش قیمت گھڑیاں، ان سب کو خرید کر ہم ڈالر کا خون کرتے ہیں کیونکہ ہم کماتے کم ہیں اور ڈالر خرچ زیادہ کرتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ ہماری معیشت کی کوئی کل سیدھی کیوں نہیں ہوتی۔ 7 ماہ میں پاکستان نے 18 ارب ڈالر کی کمائی تو کر لی لیکن 40 ارب ڈالر کی درآمدات سے ایسا معلوم دے رہا ہے کہ ان ملکوں نے لوٹ سیل لگا رکھی ہو۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل