Loading
ڈھاکا کی ایک نشست سے کامیاب جماعت اسلامی کے امیدوار بیرسٹر احمد بن قاسم ارمان نے اپنی حریف بی این پی امیدوار سنجیدہ اختر کے گھر پہنچ گئے جہاں جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بیرسٹر احمد بن قاسم کے والد میر قاسم علی جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما تھے جنھیں 2016 میں حسینہ واجد نے پھانسی دی تھی۔
خود احمد بن قاسم کو بھی ان کے گھر سے اغوا کرکے 8 سال تک لاپتہ رکھا گیا تھا اور حسینہ واجد کا تختہ الٹنے کے بعد رہائی ملی تھی۔
اسی حلقے سے بی این پی کی امیدوار سنجیدہ اختر تھیں جن کی والدہ حاضرہ خاتون نے حسینہ واجد کے دور میں اپنے بیٹے کے لاپتا ہونے پر "مایر داک" (ماں کی آواز) نامی تحریک چلائی تھی۔
اس تحریک کا مقصد حسینہ واجد کے دور میں جبری طور پر لاپتا کیے جانے والے سیاسی کارکنان کی بازیابی کے لیے آواز اُٹھانا تھا۔
اس جدوجہد کے دوران ان کے اپنے بیٹے ساجد الاسلام ثمن جو 2013 سے لاپتا تھے تاحال گھر نہ لوٹے لیکن انھوں نے ہمت نہ ہاری۔
جس پر بنگلادیش نیشلسٹ پارٹی نے ان کی بیٹی کو لاپتا بیٹے کے بدلے ٹکٹ دیا تھا تاہم وہ جماعت اسلامی کے امیدوار سے ہار گئیں۔
View this post on Instagram
جماعت اسلامی کامیاب امیدوار احمد بن قاسم لاپتا ہونے کا درد سمجھتے ہیں اور اپنے باپ کو پھانسی چڑھتا بھی دیکھ چکے ہیں۔
اس لیے اپنی کامیابی کے فوری بعد سنجیدہ اختر کے گھر گئے اور لاپتا افراد کی آواز اُٹھانے والی ان کی ماں کو خراج تحسین پیش کیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل