Loading
میرے سامنے وہ پیارا سا چہرہ تھاجسے اس کے بعد میں نے کبھی نہیں دیکھنا تھا، اس چہرے نے چند گھنٹوں کے بعد تہ خاک جا کر خاک کا حصہ بن جانا تھا اور ہمارے پاس اس کی یادیں ہی باقی رہ جانا تھیں۔
اپنے کسی پیارے کے جانے کا دکھ آپ کے پورے جسم کو ناطاقتی دے دیتا ہے، کمزوری محسوس ہوتی ہے اور آپ حد سے زیادہ حساس ہو جاتے ہیں۔ میں اس وقت بیٹھے اپنے ارد گرد سے بے نیاز تو تھی مگر جانے کیوں ہمہ تن گوش تھی۔
’’ بڑی اچھی عورت تھی، اﷲ اس کے لیے آسانیاں کرے!‘‘ یکدم دروازے کی طرف سے شور اٹھا تھا، کوئی نیا گروپ آیا تھا جس میں عورتیں بین کرتی ہوئی گھرمیں داخل ہوئی تھیں۔
کچھ آگے بڑھ کر ان کے گلے لگیں تو کئیوں نے اپنی نشستوں سے اٹھ کرا نہیں بین کرنے سے منع کیا اور چند ایک نے ان سے گلے مل کر اس غوغے میں اضافہ کیا ۔
چند سیکنڈ تک تو یوں لگا کہ آنے والیاں ہی سب سے زیادہ غم میں مبتلا ہیں اور ان کے بین اور آہوں کے بیچ سب کے نئے پرانے دکھ تازہ ہو گئے تھے، ہلکی ہلکی سسکیوں سے سب رونے لگیں اور آنسوؤں کی تسبیح سمرنے لگیں۔
جونہی وہ میت کی قریبی رشتہ دار عورتوں کو مل کر اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھیں تو وہ بالکل نارمل ہو چکی تھیں اور ان کے آنے سے قبل زیر بحث موضوعات پھر تازہ ہو گئے اور چند تازہ موضوعات پر بھی نئی نئی سرگوشیاں ہونے لگیں ۔
’’ زبیر کی بڑی بیٹی کو طلاق ہو گئی ہے، چاربچوں سمیت باپ کے گھر آ کر بیٹھ گئی ہے بے چاری!‘‘ میرے دائیں کان کی طرف سے کسی کی بلند سرگوشی کم از دس لوگوں کے کانوں کو چھو گئی تھی، ’’ لاالہ… ‘‘ ساتھ ہی ایک اور خاتون کی آواز آئی۔
’’ وہ تو تھی ہی ایسی، مجھے پہلے ہی اندازہ تھا‘‘۔ جواب دینے والی کی سرگوشی اور بھی بلند تھی، ’’ لاالہ الا اللہ‘‘ کئی عورتیں ان سرگوشیوں سے چونک گئیں ۔
(میں نے دل ہی دل میں استغفار کی) ہم جو ارد گرد بیٹھے تھے، نہ چاہتے ہوئے بھی کان انھی کی طرف لگے تھے۔ زبان پر کلمہء طیبہ کا ورد اور آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی، دماغ میں یادوں کی چلتی ہوئی فلم۔
دو تین اور خواتین نے بھی سرگوشیوں میں ہی ان معلومات میں اضافہ کیا اور ان بلند سرگوشیوں کے ذریعے جنھوں نے نہیں بھی اس بارے میں سنا تھا، انھوںنے بھی سن لیا تھا۔ جانے ان باتیں کرنے والیوں کے اپنے گھروں میں کتنے مسائل ہوں گے مگر اس کی فکر تو کسی اور کو ہونا تھی جیسے انھیں دوسروں کی فکر تھی۔
’’ مبارک ہو، سنا ہے تمہارا بیٹا یونان چلا گیا ہے‘‘ ایک خاتون کی آواز آئی، اسے بھی مبارک باد دینے کے لیے شاید یہی وقت اور موقع ملا تھا۔ ’’ خیر مبارک! ‘‘ پہلے والی نے اس کے بیٹے کے جانے کی تفصیل پوچھی، ’’کون سا ایجنٹ تھا، کتنی رقم لی اس نے… بیٹے کو کتنے عرصے میں ملازمت مل جائے گی؟‘‘
جواب میں ایجنٹ کی تفصیلات کا تبادلہ ہوا ا، کس ملک میں گیا، کتنی رقم خرچ ہوئی ، ان سب سوالات کے جوابات دیے گئے اور اس دوران ان دونوں کے ہاتھوں سے شمارے گرتے رہے تھے۔
کسی کے پکارنے کی آواز سے میں چونکی تھی، مجھے باہر سے بلایا گیا تھا ۔ میں معذرت کر کے اپنی نشست سے اٹھی اور باہر گئی تو مجھے بتایا گیا کہ اگلے نصف گھنٹے میں، جونہی اذان ہو گی تو جنازہ اٹھانے والے اندر آ جائیں گے اور جب جنازہ اٹھا لیا جائے تو ہمیں اس وقت عورتوں کو اٹھ کرجانے سے روکنا ہو گا تا کہ سب عورتیں کھانا کھا کر جائیں۔
( یعنی جس وقت گھر میں میت رکھی ہوتی ہے، اس وقت سارا اہتمام اس بات کا ہوتا ہے کہ کھانا میت اٹھانے سے پہلے پہلے تیار ہو جائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کھانا لیٹ ہوجائے اور لوگ بھوکے پیٹ ہی اٹھ کر چلے جائیں۔)
دیہات میں اس بات کو بڑی بے عزتی سمجھا جاتا ہے کہ شادی ہی نہیں، مرگ کے گھر سے بھی کوئی کھانا کھائے بغیر چلا جائے۔
’’جو عورتیں چل کر باہر صحن میں نہیں جا سکتیں، ان کے لیے اندر کمرے میں ہی کھانا بھجوا دیا جائے گا۔ ‘‘ میں نے تمام ہدایات سنیں اور واپس آئی تو میری نشست پر کوئی اور خاتون بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں ایک ستون کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی تھی اور اپنے اد گرد ہونے والی سرگوشیاں سننے لگی۔
آپس میں بچوں کے رشتے طے ہورہے تھے، دوسری عورتوں کے زیورات اورملبوسات پر تبصرے ہو رہے تھے۔ لوگوں کے نوجوان بچوں کے حدوداربعہ چیک کیے جا رہے تھے ۔
اپنی شان و شوکت اور دولت کی نمائش کی جا رہی تھی، لوگوں پر منفی تبصرے کیے جا رہے تھے ، حسدکے باعث لوگوں کی اچھائیوں پر بھی تنقید کی جا رہی تھی، جانے کسی کو یاد بھی تھا کہ نہیں کہ ہم کس موقع پر اور کیوں جمع تھے۔
اس روز باہر لان اور برآمدوں میں بچے بھاگ دوڑ رہے تھے، ان کی مائیں ان کے پیچھے پیچھے ان کے لیے ہلکان ہو رہی تھیں۔ اندر کلمہء طیبہ کے ورد کی بجائے نفرتیں، بغض اورکدورتیں گفتگو سے ابل ابل کر باہر نکل رہی تھیں، کسی کو خوف خدا تھا نہ سن لیے جانے کا خیال۔
خوف خدا اور خیال خلق کے لیے سامنے چارپائی پر سفر آخرت کے لیے تیار میت سے زیادہ کون سا جواز ہو سکتا تھا لیکن لگتا تھا کہ لوگوں کو اس بات پر یقین ہوتا ہے۔
… وے بلہیا اسیں مرنا ناہیں، گور پیا کوئی ہور!!
صرف وہ ایک وجود تھا جو اس وقت مکفن اور سکون میں تھا، اس وجود میںکوئی منفی جذبہ تھا نہ سوچ، وہ اپنے حصے کی فکریں گزار کراس وقت صامت، اس کے ارد گرد ہم جیتے جاگتے لوگ، اپنی اپنی نفرتوں کو زبان دیتے ہوئے سانس لے رہے تھے۔
جنازہ اٹھا لیا گیا تو کھانا سرو ہو گیا تھا، یہی رواج اور رسم ہے۔ ہم سب اہل خاندان اپنے اپنے غم کو سینے میں گھونٹے ، اس فکر میں مبتلا کہ کوئی بھوکا نہ چلاجائے۔
کھانے کے دوران بھی دل کو جلا دینے والی باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ گوشت نہیں گلا، تیل زیادہ ہے، نمک کم ہے، روٹیاں جلی ہوئی ہیں، پانی بوتلوں والا نہیں ہے… لوگوں کو خوش کرنا بھی مشکل اور ان سے بے نیاز ہوجانا بھی ناممکن۔ صرف وہ ان باتوں اور طعنوں تشنوں سے بے نیاز ہوتا ہے جس کی نماز جنازہ اس وقت ادا ہو رہی ہوتی ہے اور چند منٹوں میں اسے اس دنیا سے بالکل دور چلے جانا ہوتا ہے۔
ہم نے کہنا نہیں خدا حافظ، ہم نے ایک دم ہی بچھڑ جانا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل