Saturday, February 14, 2026
 

جمہوریت اور مضبوط معیشت

 



ہندوستان اور پاکستان کا وجود میں آنا، دوسری جنگِ عظیم کا تحفہ ہے، اگر دوسری جنگِ عظیم نہ ہوتی تو پاکستان کا قیام ہوتا؟ اور ہندوستان آزاد ہونا ممکن تھا؟ اگر جناح نہ ہوتے تو شاید پاکستان بن نہیں پاتا، اگرہم ان حالات کا جائزہ لیں تو پاکستان ہمارے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ 1857 میں پہلے مسلمانانِ ہند نے بغاوت کی، پھر1940 میں کانگریس نے۔ مختصر یہ کہ دوسری جنگِ عظیم نے دنیا کا نقشہ تبدیل کیا، نہ صرف ہندوستان آزاد ہوا بلکہ پاکستان کا قیام بھی عمل میں آیا بلکہ دنیا کی سپر طاقت برطانیہ سے منتقل ہو کر امریکا کے پاس آئی اور آزادی کے فوراً بعد ہماری جیسی بہت سی ریاستوں نے ایک اورغلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈالا اور وہ ریاستیں اس نیم غلامی سے بچ کر نکلیں جنھوں نے غیر وابستہ ممالک کے نام سے تنظیم بنائی۔ کئی ریاستوں نے سوویت یونین کے اتحاد کو قبول کیا اور سوویت یونین کے بلاک میں شامل ہوگئیں اور ہم امریکا کے اتحادی بنے۔ ان دونوں بلاکوں کو طاقت کے توازن کے لیے اپنے حکمران درکار تھے، جو جمہوریت کے پاسدار تھے، ان کو بھی ہمارے جیسے ملک میں ایک آمر کی ضرورت تھی پھر سوویت یونین کا نظام تو تھا ہی آمرانہ۔ ہماری آزادی جمہوری اقدارکے تحت ضرور ہوئی،کیونکہ ہماری آزادی کا سہرا پانچ اکائیوں کے سر پر تھا۔ پاکستان کا حصہ بننے والے کچھ علاقوں کے مخصوص مائنڈ سیٹ کے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ہم ہندوستان کا حصہ نہیں تھے، انگریز سامراج نے غاصب بن کر ہمیں ہندوستان سے جوڑا تھا، لٰہذا ہم ہندوستان سے بھی آزادی چاہتے تھے۔ دنیا میں امن کی صورتحال پھر ایک عالمی جنگ کی طرف اشارہ کررہی ہے توکیا پھر سے دنیا ایک نئے نقشے میں تبدیل ہوگی؟ نئی سرحدیں بنیں گی؟ سوویت یونین عالمی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نظریہ تھا، ایک سوچ تھی، ایک بڑی کمیونسٹ تحریک تھی۔ امریکا اس وقت دنیا کی واحد عالمی طاقت بنا تھا، جب اس کی قیادت نے جاپان کے شہر ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے۔ امریکا کی نیوکلیئر طاقت کے ساتھ دوسری نیوکلیئر طاقت سوویت یونین تھا۔ سوویت یونین کو نیوکلیئر راز امریکا اور یورپ کے اندر موجود کمیونسٹ تحریک سے وابستہ سائنسدانوں نے بھیجے، یہ سوچ کر کہ سوویت یونین وگرنہ کیپٹل ازم کے سامنے ٹھہر نہیں پائے گا اور اشتراکیت کو نقصان پہنچے گا۔ انھوں نے اپنے نظریے کی بقاء کے لیے، اس نیوکلیئر ٹیکنالوجی کو خفیہ طور پر سوویت یونین کو منتقل کیا۔ یوں دنیا میں جوہری توانائی کی دوڑ کا آغاز ہوا۔29 اگست 1949 کو سوویت یونین نے قازقستان میں ایٹمی دھماکے کیے۔ پھر 1974 میں ہندوستان نے ایٹمی دھماکے کیے اور پھر 1998میں پاکستان نے ایٹمی طاقت کا مظاہرہ کیا اور 2006 میں نارتھ کوریا نے۔ اس دوڑ میں دنیا کی بہت سی ریاستیں شامل ہیں لیکن جوہری توانائی کے حفاظت کے لیے ایک مضبوط ریاست، مستحکم معیشت اور مضبوط جمہوریت کا نظام درکار ہے۔ ایٹمی طاقت کے اعتبار سے سوویت یونین ، امریکا سے زیادہ طاقتور تھا، لٰہذا مغربی ممالک نے سوویت یونین پر بہت سی پابندیاں عائد کیں مگر وہ سوویت یونین کو منتشر نہ کرسکے۔ سوویت یونین داخلی طور پرکمزور معیشت کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا اور بلآخر ٹوٹ کر بکھرگیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا واقعہ سوویت یونین کا ٹوٹنا تھا جس کی وجہ سے بہت سی ریاستیں آزاد ہوئیں۔ بڑی واضح تبدیلیاں دنیا کے نقشے پر رونما ہوئیں۔ دنیا کا نقشہ تبدیل ہوا۔ قازقستان جہاں سوویت یونین نے پہلے بار ایٹمی دھماکہ کیا، اس کے صدرکچھ ہی دن قبل پاکستان کے دورے پرآئے ہوئے تھے۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے اور اب پانچویں نمبرکی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایک فیڈریشن یعنی کثیرالاقوامی ریاست بھی ہے اور ایٹمی طاقت بھی، مگر معاشی اور جمہوری اعتبار سے مضبوط نہیں۔ ہماری جمہوری اقدارکمزور ہیں لیکن ہماری نجات صرف جمہوریت کی مضبوطی میں ہے۔ پاکستان کا کثیر الاقوامی ریاست ہونا، پاکستان کی مضبوطی کا باعث ہے اور اگر پاکستان میں یہ فیڈریشن کمزور ہوئی تو پاکستا ن کا وجود کمزور پڑجائے گا۔ صوبہ سندھ پر سترہ سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ اس حکومت میں سرکاری اداروں کی کارکردگی کمزور ہوئی ہے۔کیا وجوہات ہیں، ان سترہ سالوں میں سندھ میں غربت و افلاس میں مزید اضافہ ہوا ہے اور شمالی سندھ میں ڈاکوؤں کا راج۔ پولیس کا محکمہ نتائج نہیں دے ہے اور وڈیرے و گدی نشین مضبوط ہوئے ہیں۔ ایسی ہی صورتحال خیبر پختونخوا میں ہے، بلوچستان مزید پسماندہ ہوا ہے۔ ساؤتھ پنجاب کے حالات بھی ایسے ہی ہیں۔ پنجاب کے اندر سیلابوں نے بہت کچھ واضح کیا ہے۔ ہندوستان میں داویش کپور اور اروند گوپال جو ماہرینِ معاشیات ہیں۔ ان کی ایک کتاب A sixth of humanity شائع ہوئی ہے، جس کا چند ہفتے پہلے اکانومسٹ میں ایک مضمون شائع ہوا ہے۔ داویش کپور اپنی کتاب میں یہ لکھتے ہیں کہ ہندوستان کی ترقی کا راز مضبوط جمہوریت ہے۔ انھوں نے اپنے دلائل میں مودی کو اس بات کا ذمے دار ٹھہرایا ہے کہ اس نے ہندوستان کی جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے جو بلآخر ہندوستان کی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ جمہوریت اداروں کو مضبوط بناتی ہے۔ سیاسی آڈٹ کو تیزکرتی ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی کو فروغ دیتی ہے، جب کہ آمریت اقرباء پروری کو فروغ دیتی ہے، اظہارِ رائے کی آزادی سلب کرتی ہے۔ پاکستان آزاد ہوا لیکن پاکستانی معاشرہ ہندوستان کے مقابلے میں پسماندہ تھا۔ وڈیرے، پیر ، سردار، قبائلی مشران، نواب اور چوہدری یہاں کی نوے فیصد اشرافیہ تھی۔ یہاں جمہوریت Electables پر تھی۔ جناح صاحب کے پاس یہ موقعہ تھا کی وزیرستان یا فاٹا کے علاقوں میں پاکستانی قانون لاگوکرتے، ہم نے ایسا نہیں کیا اور سرد جنگ میں عالمی قوتوں کی لڑائی میں یہ علاقے فرنٹ لائن کے طور پر استعمال کیے گئے اور جب تک ہمیں یہ بات سمجھ آئی بہت دیر ہو چکی تھی۔ اس معاشرے کی مجموعی طور پر فطری پرورش نہیں ہو سکی۔ نہ جاگیرداری نظام اور نہ ہی وڈیرہ شاہی کوکمزورکیا گیا۔ نہ ہی گدی نشینوں اور قبائلی نظام کی حوصلہ شکنی کی گئی اور یہی اشرافیہ آج افسرِ شاہی کے ساتھ مل کر اقتدار پر قبضہ کیے ہوئے ہے۔ ہم نے ایک مخصوص بیانیہ بنایا کہ تمام سیاستدان کرپٹ ہیں اور پاکستان میں مسائل جمہوریت نے پیدا کیے ہیں۔ یہ جمہوریت ، سیاستدانوں کی کرپشن کی نذر ہو جاتی ہے۔ یہ راگ ہمارے ٹاک شوز میں اکثر الاپا جاتا ہے اور اب نتیجہ یہ ہے کہ اس راگ کو سننے والے بہت کم رہ گئے ہیں اور ہماری نئی نسل جو ساٹھ فیصد ہے ، وہ آزاد تجزیوں کی تلاش میں ہے اور بہت آسان رسائی اس مصنوعی ذہانت کے دور میں دستیاب ہے۔ اس وقت ایک ہائبرڈ جمہوریت ہے جو تاریخی اعتبار سے آمریتی اور جمہوری قوتوں کا پہلا سنگم ہے۔ وسطی و شمالی پنجاب میں نوجوانوں کا ووٹ اہمیت رکھتا ہے مگر سندھ میں اب بھی الیکٹبلزکی اجارہ داری ہے۔ بلوچستان میں پرانا سرداری نظام ہے جس میں نوجوانوں کی ذہنی و معاشی ترقی کے لیے کچھ نہیں ہے جب کہ خیبر پختونخوا میں پشتو بیلٹ قبائلی مشران، سفید پوشوں اور لونگی ہولڈرز کے کنٹرول میں ہے یا طالبان سوچ کے زہر سے آلودہ ہوچکی ہے ۔ جب کہ پاپولس سیاست کی دعویدار سیاسی جماعتوں کی قیادت بھی ماڈرن دورکے نوجوانوں کی نمایندہ نہیں ہے۔ ہماری ایٹمی طاقت دفاعی اعتبار سے ہمیں مضبوط تو بناتی ہے لیکن ہماری معیشت ، جمہوریت، عدلیہ کی آزادی، قانون کی بالادستی بحران کا شکار ہے۔ موجودہ دور میں ہماری معیشت سنبھلی ضرور ہے مگر کسی وقت بھی بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ دنیا کے اندر بہت تیزی سے تناؤ بڑھ رہے ہیں۔کسی وقت بھی حالات بگڑ سکتے ہیں لہذا پاکستان کو اپنی معیشت کو مضبوط بنانا ہوگا، جمہوری اقدار کو فروغ دینا ہوگا۔ پاکستان کو ایٹمی طاقت، مضبوط معیشت اور مضبوط جمہوریت بیرونی خطرات سے بچا سکتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل