Loading
بنگلہ دیش میں جمعرات کو ہونے والے13ویں عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے کل300 میں سے212 نشستیں جیت کر دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے۔
جماعت اسلامی کی زیرقیادت اتحاد 77 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا ،نیشنل سٹیزن پارٹی صرف 6 سیٹیں جیت پائی ہے۔ دارالحکومت ڈھاکہ کی 13 نشستوں میں سے7 پر بی این پی کوکامیابی ملی ہے جب کہ 5 پر جماعت اسلامی کے امیدوارجیتے ہیں، ایک نشست طلبہ تحریک کے امیدوار حسنات عبداللہ نے جیتی ہے جو شہید عثمان ہادی کے جانشین ہیں۔
بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کے مطابق پارلیمنٹ کی کل 300 میں سے299 نشستوں پرہونے والے انتخابات میں ٹرن آؤٹ59 فیصد رہا۔ پارلیمنٹ کی 50 سیٹیں خواتین کے لیے مختص ہیں، ان سیٹوں پر سیاسی جماعتیں اپنی امیدوار نامزد کریں گی۔
متناسب نمائندگی کی بنیاد پربی این پی کو مزید 36 جب کہ جماعت اسلامی کو تقریباً 12 مخصوص نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ بی این پی کی کامیابی کے بعد اس جماعت کے سربراہ طارق رحمن متوقع وزیراعظم ہیں۔
وہ بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالد ضیاء اورسابق صدرضیاء الرحمٰن کے صاحبزادے ہیں۔ ان کی عمر 60 سال ہے۔ اس الیکشن میں ریفرنڈم بھی شامل تھا، جس کے تحت بنگلہ دیش کے آئین میں کچھ تبدیلیاں کی جائیں گی۔
ان تبدیلیوں میں وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے 10سال کی حد مقرر، غیرملکی سرمایہ کاری کے لیے ماحول کو سازگار بنانے اور انسدادِ بدعنوانی کے خلاف اقدامات کے نکات شامل ہیں۔
بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کی وزیراعظم خالدہ ضیاء اور ان کی حکومت کے خلاف زبردست عوامی تحریک چلی تھی۔ اس تحریک کی قیادت بنگلہ دیش طلبہ کر رہے تھے۔
اس تحریک کے نتیجے میں عوامی لیگ کی حکومت کا خاتمہ ہوا جب کہ حسینہ واجد کو فرار ہو کر بھارت میں پناہ لینا پڑی۔ بنگلہ دیش کی نامور شخصیت، گرامین بینک کے سربراہ اور نوبل انعام یافتہ محمد یونس کو عبوری سیٹ اپ کا سربراہ بنایا گیا تھا۔
ان کی زیرنگرانی حالیہ انتخابات ہوئے ہیں۔ ان انتخابات میں عوامی لیگ کو حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش پر عائد پابندی بھی محمد یونس کی حکومت کے دور میں ختم ہوئی۔
یوں جماعت اسلامی نے برسوں بعد انتخابات میں حصہ لیا اور اچھا پرفارم کیا۔ جماعت اسلامی کے بارے میں خیال تھا کہ وہ شاید الیکشن میں سب سے بڑی پارٹی کے طو رپر ابھرے گی تاہم وہ نشستوں کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر رہی ہے۔
بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمن نے الیکشن نتائج کو تسلیم کر لیا ہے اور اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان کیا ہے۔
بنگلہ دیش کے الیکشن کو عالمی سطح پر بھی بڑے غور سے دیکھا جا رہا ہے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ بھارت کی حکومت نے بھی اس الیکشن کو تسلیم کیا ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمٰن کو فون کرکے عام انتخابات میں تاریخی اور شاندار کامیابی پر پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے مبارکباد دیتے ہوئے بنگلہ دیش کی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تاریخی و برادرانہ تعلقات کو یاد کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ باہمی مفاد کے تمام شعبوں کے ساتھ ساتھ علاقائی امن اور ترقی کے لیے ایک دوسرے کی خودمختاری کے مکمل احترام کے ساتھ باہمی فائدہ مند دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
خوشگوار بات چیت کے دوران دونوں رہنماؤں نے بیگم خالدہ ضیا کا ذکر کیا اور پاکستان بنگلہ دیش تعلقات میں ان کی نمایاں خدمات اور دونوں ممالک کے عوام کو قریب لانے میں ان کے کلیدی کردار کو خراج عقیدت پیش کیا۔
وزیراعظم نے طارق رحمن کو جلد از جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ بی این پی کے سربراہ اور متوقع وزیراعظم بنگلہ دیش طارق رحمن نے بھی وزیراعظم کو بنگلہ دیش کا دورہ کرنے کی دعوت دی ۔
دونوں رہنماؤں نے آنے والے دنوں میں قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا تاکہ دونوں لوگوں کی بہتری کے لیے کام کیا جا سکے۔پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے بھی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے رہنما طارق رحمن کو بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات میں شاندار کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔
صدرمملکت نے اپنے تہنیتی بیان میں کہا ہے کہ پاکستان بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے ساتھ تجارتی، دفاعی، ثقافتی تبادلوں اور علاقائی فورمز میں تعاون کو مضبوط کرنے کے لیے کام کرنے کا منتظر ہے۔
بنگلہ دیش میں ہونے والے یہ عام انتخابات جین زی کی جانب سے چلائی گئی اس احتجاجی لہر کے بعد منعقد ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا اور وہ بھارت چلی گئیں۔
بی این پی نے قومی پارلیمانی انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرنے پر اپنی قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ’’جمہوریت کی ماں‘‘ مرحومہ بیگم خالدہ ضیاء کی مغفرت اور ملک و قوم کی بھلائی کے لیے مساجد میں خصوصی دعاؤں کا اہتمام کرنے کی اپیل کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کی جانب سے کوئی جشن، ریلی یا عوامی اجتماع منعقد نہیں کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اپنی شکست کو تسلیم کرتی ہے اور وہ مخالفت کی سیاست کے بجائے مثبت سیاست کے تحت آگے بڑھے گی۔
انھوں نے بی این پی کے سربراہ طارق رحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی ہے ۔ ادھر جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ پرامن اور مثبت ماحول میں بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے پر عوام کے شکر گزار ہیں تاہم کچھ حلقوں میں انتخابی نتائج کے عمل پر تحفظات ہیں۔
11 جماعتی اتحاد کے متعدد امیدوار مختلف حلقوں میں انتہائی معمولی فرق اور مشکوک انداز میں ہارے ہیں، جس کی تحقیقات ہونے چاہیے۔عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس نے جمعرات کو ووٹ ڈالنے کے بعد الیکشن کو ڈراؤنے خواب کا خاتمہ اور نئے سپنے کا آغاز قرار دیا تھا۔
بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے بعد سیاسی منظرنامہ خاصی حد تک واضح وہ گیا ہے۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کو دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بنگلہ دیش کے آئین میں خاصی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں گی۔
بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے سامنے خاصے بڑے چینلجز موجود ہیں۔ طارق رحمن پہلی دفعہ وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ بنگلہ دیش کو کیسے چلاتے ہیں اور بنگلہ دیش کی معیشت کو ترقی دینے کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں جب کہ عوامی لیگ کے حامیوں کے بارے میں کیا پالیسی اختیار کی جاتی ہے۔
بنگلہ دیش کے انتخابات میں کئی باتیں سامنے آئی ہیں۔ ناقدین کا خیال ہے کہ ان انتخابات میں سیاسی جماعتوں نے براہ راست الیکشن لڑنے کے لیے خواتین کی کم تعداد کو ٹکٹ جاری کیے ہیں۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی مختلف قسم کی آراء موجود ہیں۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ماضی میں بھی حکمران رہی ہے۔ وہ ایک معتدل مزاج کی سیاسی جماعت ہے، اس لیے امید یہی ہے کہ بی این پی کے دور میں بنگلہ دیش میں سیاسی خلفشار کم ہو گا جب کہ معیشت کے حوالے سے بہتر پالیسیاں اختیار کی جائیں گی۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات ماضی کے مقابلے میں بہت بہتر ہیں۔ نئی حکومت کے ساتھ بھی صورت حال بہتر رہے گی۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت میں اضافہ ہو گا اور دونوں ملک ایک دوسرے کی منڈیوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔
پاکستان کی حکومت نے اب تک بنگلہ دیش کے حوالے سے اچھی پالیسی اختیار کی ہے۔ بنگلہ دیش کی برسراقتدار جماعت اور اپوزیشن جماعت دونوں پاکستان کے بارے میں اچھے خیالات رکھتے ہیں۔
یہ پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کی ایک مثال ہے۔ پاکستان کو بنگلہ دیش میں دوستانہ اور برادرانہ ماحول کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیے بروقت اور دیرپا پالیسی کرنی پڑے گی۔
آنے والے دنوں میں بنگلہ دیش کی حکومت اور پاکستان کے درمیان اچھے تعلقات کے نئے دور کا آغاز دیکھنے کو ملے گا۔ ماضی میں جو سردمہریاں تھیں، اس کی بنیادی وجہ حسینہ واجد کی پالیسیاں تھیں۔
بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت ان پالیسیوں کے حق میں نہیں ہے۔ یوں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی اور معاشی تعلقات ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ مضبوط ہوں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل