Loading
اپنے گزشتہ کالم میں، میں نے لکھا تھا کہ ہمارا عہد بظاہر ترقی کا عہد ہے۔ انسان نے فضا کو مسخرکیا، یہ AI کا دور ہے۔ انسان اس وقت سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت ترقی کرچکا ہے اورکرتا چلا جارہا ہے۔
مگر اسی چمک دمک کے پیچھے ایک ایسا اندھیرا بھی پل رہا ہے جسے دیکھنے کی ہمت ہم میں کم ہوتی جا رہی ہے۔ جیفری ایپسٹین کا معاملہ محض ایک فرد کی اخلاقی گراوٹ کا قصہ نہیں، یہ ہمارے عہدکی اجتماعی خاموشی کا نوحہ ہے۔
میں اس موضوع کو سنسنی کے لیے نہیں چھیڑ رہی۔ نہ ہی مجھے کسی کے نجی گناہوں کی تفصیل میں دلچسپی ہے۔ میرا سوال کچھ اور ہے، وہ کون سا نظام ہے جو طاقتورکو اتنا بے خوف کردیتا ہے کہ وہ معصومیت کو روند ڈالے اور برسوں تک قانون اس کے دروازے تک نہ پہنچ سکے؟
وہ کون سی دیواریں ہیں جو دولت کے گرد کھڑی ہو جاتی ہیں اور وہ کون سی آنکھیں ہیں جو جانتے ہوئے بھی بند رہتی ہیں؟
اخلاقیات کا پہلا اصول رضامندی ہے، دوسرا انسانی وقار اور تیسرا کمزور کا تحفظ۔ ایک بچہ رضامندی کے مفہوم سے ناواقف ہوتا ہے۔
اس کی خاموشی اجازت نہیں ہوتی، اس کی کمزوری دعوت نہیں ہوتی۔ اس پر دست درازی دراصل انسانیت کے مستقبل پر حملہ ہے۔ اس جرم کی کوئی توجیہ نہیں، کوئی جواز نہیں۔
یہ محض درندگی ہے اور درندگی جب طاقت کے ساتھ مل جائے تو اور بھی خوفناک ہو جاتی ہے۔ ہم اکثر زنا اور بے وفائی کی بات کرتے ہیں۔
بلاشبہ عہد شکنی ایک اخلاقی مسئلہ ہے، ازدواجی رشتے میں دھوکا ایک گہرا زخم ہے، مگر میں یہ فرق واضح کرنا چاہتی ہوں کہ دو بالغ افراد کے باہمی فیصلے اور ایک کمزور پر جبر ایک ہی ترازو میں نہیں تولے جا سکتے۔
ایک میں اخلاقی لغزش ہو سکتی ہے، دوسرے میں ظلم ہے۔ ایک میں اعتماد ٹوٹتا ہے، دوسرے میں معصومیت کو روندا جارہا ہوتا ہے۔
ایپسٹین کے قصے میں مجھے سب سے زیادہ جو چیز لرزا دیتی ہے، وہ جرم سے زیادہ اس کے گرد بُنی گئی خاموشی ہے۔ طاقتور حلقوں کی رفاقت، اداروں کی بے بسی اور سماج کی کمزوری کہ وہ طاقت کے آگے کچھ نہ کرسکے۔
گویا ایک پورا جال تھا جو ایک شخص کو بچاتا رہا۔ کیا یہ صرف ایک فرد کی کہانی ہے؟ یا اس نظام کی جہاں سرمایہ اور اقتدار اس قدرگٹھ جوڑ کر لیں کہ انصاف کی آنکھوں پر پٹی بندھ جائے اورکوئی کچھ نہ کرسکے۔
ہم ایک ایسے عہد میں زندہ ہیں جہاں جسم بھی بازارکا حصہ ہے۔ اشتہاروں میں، تفریحی صنعت میں، سوشل میڈیا پر،انسان کی ذات کو شے میں بدلنے کا عمل جاری ہے۔ جب انسان شے بن جائے تو پھر خرید و فروخت آسان ہو جاتی ہے۔
یہی وہ زمین ہے جہاں استحصال کی فصل اگتی ہے۔ طاقتور خریدار بنتا ہے کمزور جنسِ بازار۔ اور پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ایسے اسکینڈل کیوں جنم لیتے ہیں۔میں مغرب کی بات کرتے ہوئے اپنے سماج کو نہیں بھولتی۔
ہر ملک میں طاقتور طبقہ موجود ہے، ہر جگہ ایسے چہرے ہیں جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں، اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ یہ مسئلہ کسی اور دنیا کا ہے تو ہم اپنے گھروں کے اندرکے اندھیروں کو نظر اندازکر رہے ہوں گے۔
بچوں کا تحفظ عالمی مسئلہ ہے، انسانی وقارکی حفاظت سرحدوں سے آزاد ہے۔کچھ لوگ آزادی کے نام پر ہر حد کو مٹا دینے کے قائل ہیں۔ میں آزادی کی مخالف نہیں، مگر آزادی کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہ کسی کمزورکی تباہی نہ بنے۔
جب طاقت اور آزادی کا امتزاج جوابدہی کے بغیر ہو تو وہ آزادی نہیں رہتی جبر بن جاتی ہے اور جبر کو جب خاموشی سے ڈھانپ دیا جائے تو وہ معمول بن جاتا ہے۔
میری فکرکا مرکز وہ بچیاں اور بچے ہیں جن کی آوازیں دب گئیں۔ وہ خاندان جو رسوائی کے خوف سے خاموش رہے۔ وہ سماج جو طاقت کے سامنے جھک گئے۔
تمدن کا اصل معیار یہی ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین افراد کو کتنا محفوظ رکھ سکتا ہے، اگر ہم اپنے بچوں کو تحفظ نہیں دے سکتے تو ہماری ترقی ہماری معیشت ہماری سیاست سب کھوکھلی ہیں۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا ہم واقعی انصاف چاہتے ہیں یا صرف تماشا کمزور کو کٹہرے میں کھڑا کرنا آسان ہے، طاقتورکو قانون کے سامنے لانا مشکل۔ مگر اگر انصاف طاقت کے سامنے لرز جائے تو پھر وہ انصاف نہیں رہتا، محض رسم رہ جاتی ہے۔
میں یہ نہیں کہتی کہ اخلاقیات کا پیمانہ صرف ایک ہی ہو۔ سماج بدلتے ہیں، رویے بدلتے ہیں مگرکچھ اصول ایسے ہیں جو ازل سے قائم ہیں، معصومیت کی حفاظت، کمزور کی مدد، طاقت کی جوابدہی۔ اگر ہم ان اصولوں سے دستبردار ہو جائیں تو ہماری تہذیب کا چہرہ مسخ ہو جائے گا۔
ایپسٹین شاید تاریخ کا ایک باب بن جائے مگر یہ سوال باقی رہے گا کہ کیا طاقت اخلاق سے بالا ہے؟ یا ہم میں اتنی ہمت ہے کہ ہم طاقت کو بھی قانون اور ضمیرکے سامنے جھکا سکیں؟ جب طاقت بے لگام ہوجائے تو سب سے پہلے معصومیت زخمی ہوتی ہے۔
اور جب معصومیت زخمی ہو تو تہذیب کی ساری روشنیاں مدھم پڑ جاتی ہیں۔ جیفری ایپسٹین کا معاملہ اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ اس نے یہ آشکارکیا کہ طاقت کے ایوانوں تک رسائی کس طرح احتساب کی راہوں کو پیچیدہ بنا دیتی ہے۔
وہ محض ایک دولت مند فرد نہیں تھا بلکہ سیاسی، سماجی اور معاشی اشرافیہ کے حلقوں تک اس کی رسائی تھی۔ یہی قربتیں وہ حصار بن گئیں جنھوں نے برسوں تک سوالوں کو دبائے رکھا۔
یہ صورتِ حال ہمیں مجبورکرتی ہے کہ ہم اس تعلق کو سمجھیں جو سرمایہ، شہرت اور سیاسی اثر و رسوخ کے درمیان قائم ہو جاتی ہے۔ جب یہ عناصر ایک دوسرے میں پیوست ہو جائیں تو انصاف کی رفتار سست پڑجاتی ہے اور سچ سامنے آنے میں دہائیاں لگ سکتی ہیں۔
ایپسٹین کی موت نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا مگر اس سے زیادہ اہم وہ سوال ہے جو زندہ رہ گیا، کیا ہمارا نظام اتنا مضبوط ہے کہ وہ طاقتورکو بھی اسی پیمانے پر پرکھ سکے جس پرکمزورکو پرکھا جاتا ہے؟
اگر نہیں تو پھر ہمیں اپنی قانونی اور سماجی ساخت پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔ کسی ایک فرد کا انجام مسئلے کا حل نہیں ہوتا، اصل ضرورت اس ماحول کو بدلنے کی ہے جو ایسے افراد کو پنپنے کا موقع دیتا ہے۔ جب تک شفافیت جوابدہی اور اخلاقی جرات کو ادارہ جاتی شکل نہیں دی جائے گی، ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل