Saturday, February 14, 2026
 

ایپسٹین فائلز اور دین اسلام

 



ایپسٹین فائلز نے دنیا کی آنکھیں کھول دیں، یہ کیا ہو چکا ہے اور ہوتا رہا ہے؟ کیا واقعی ایسا ہی تھا۔ ایسا تو کہانیوں کی کتابوں اور ہارر فلموں میں دیکھا تھا لیکن ایسی کوئی حقیقت بھی ہو سکتی ہے، سوچنا بھی دشوار ہے۔ ایپسٹین کون تھا، کیا کرتا تھا اور کیوں کرتا تھا؟ انسانی سوچ حیران ہے، لیکن عیاں ہو چکا ہے کہ شیطان انسان کی سوچ، خیالات کو اس طرح سلب کر لیتا ہے کہ اسے غلط صحیح اور صحیح غلط لگنے لگتا ہے۔ نیکی اور بدی کی تمیز کھو دیتا ہے۔ سچائی کا رستہ چھوڑ کر گمراہی کے رستے پر چل نکلتا ہے اور گمراہی ہی کو اپنی زندگی کا اصل مقصد بنا لیتا ہے۔ انسانی گوشت کھانے والے کو آدم خورکہا جاتا ہے، بچپن سے کئی کہانیاں سنتے آئے تھے لیکن دنیا کے اس ہجوم میں دنیا کے کرتا دھرتا، انسانیت کے علم بردار، تحقیقات کے ماہر، مشہور شخصیات جن کا تعلق مختلف شعبہ ہائے زندگی سے ہے، ایسا کر چکے ہیں۔ معصوم بچیوں کو اس عجیب انداز سے استعمال کرنا، معصوم بچوں کے اعضا کھانے یہاں تک کہ ان کے خون اور دہشت ناک انداز میں استعمال کیا جاتا رہا، محض اس لیے کہ جوان رہ سکیں۔ ایک طویل مدت کے لیے یا شاید ترقی کی راہیں بڑھتے رہنے کے بعد اب ایسا کیا کیا جائے کہ ماڈرن کہلایا جائے جو عام انسان نہیں کر سکتے۔ ایک عام انسان بچوں سے پیارکرتا ہے، ان کی دیکھ بھال کر کے مستقبل کے لیے تیارکرتا ہے تاکہ اپنے آپ کو جوان رکھنے کے لیے بچوں کا استعمال کیا جائے۔ ایک کے بعد ایک خوفناک ویڈیوز نے یہ ظاہر کردیا ہے کہ ایسا ہو چکا ہے۔ انسانیت کا پرچارکرنیوالے دراصل ڈھکوسلے تھے۔ ان رازوں سے پردہ اٹھا تو کیسے؟ اسے عیاں کرنے کی اجازت دینے والے کون تھے،کیا یہ قدرت کی جانب سے ہے کہ بس اب بہت ہو چکا؟ ابھی چند سالوں پہلے کی بات ہے جب چین سے یہ خبر سنی گئی کہ وہاں چھوٹے بچوں کا اغوا کثرت سے ہو رہا ہے، اس سے پہلے ایک خبر یہ بھی سنی گئی تھی کہ خواتین کی جلد کو جوان رکھنے کے سلسلے میں جو سیرم اور مصنوعات استعمال ہوتی ہیں ان میں نومولود بچوں کا گوشت شامل ہوتا ہے، اس خبر پر کافی لے دے ہوئی، پھر یہ بھی کہا گیا کہ ایسی بے سروپا خبریں عوام میں گمراہی پھیلاتی ہیں۔ بھارت سے بھی ہر سال ہزاروں بچوں کو اغوا کی خبر نے کافی شور مچایا، یہی نہیں بلکہ پاکستان میں بچوں کے اغوا کے سلسلے میں بھی کچھ عرصے سے خبریں سرگرم ہیں، اس پر بھی عوام میں سوالات ابھرتے رہے ہیں۔ لیکن ان تمام مسائل کا حل کوئی نہ نکلا، لیکن کیا ان تمام خبروں کا ماخذ ایک ہی ہے؟ بات اس وقت کچھ اور بھی گمبھیر ہوگئی جب مودی کا نام اور تصویر ان فائلز میں نظر آیا جب کہ پاکستان کے حوالے سے پراسرار، شیطان کے پجاری صرف اس شیطانی آئرلینڈ تک ہی محدود نہیں بلکہ وقتاً فوقتاً مختلف تنظیموں کے حوالے سے سوشل میڈیا میں نظر آنے لگے ہیں۔ شیطان کے پجاری اور اس کی رسومات سے ہوتی بات خانہ کعبہ کے غلاف کے ٹکڑے تک کیسے پہنچ گئی؟ ایک کے بعد ایک شیطانی سلسلہ قیامت کی نشانیوں کو واضح کر رہا ہے۔ دنیا ان شیطانی فائلوں کے پنڈ سے کیا کیا نکالتی ہے، کسے قبول کرتی ہے، کسے سزاوار سمجھتی ہے یا یہ کہ اس کا کچھ بن بھی سکے گا یا عوام کے حیرت سے کھلے منہ یوں ہی رہیں گے اور کوئی مجرم پکڑا نہ جائے گا اور وہ بھی جو پکڑا گیا پراسرار انداز میں مرا پایا جائے گا۔ دنیا ایک خوف ناک جیل خانہ بنتی جا رہی ہے، ایسے میں یہ سوچ مضبوط ہوتی ہے کہ اسلام کے خلاف شور مچانے والے دراصل شیطان کے پیروکار ہی تھے، یہ خوش نصیبی رب العزت نے ہمیں عطا کی ہے کہ ہم مسلمان ہیں، ایک واحد طاقتور رب العزت کے آگے سجدہ کرنے والے، جو آنکھ بند کرکے اپنے رب پر یقین رکھتے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ دنیا میں امن و امان قائم کر سکتے ہیں، کیونکہ دنیا میں سکھ، آشتی پھیلانے کا واویلا کرنے والے حضرات کے اپنے ہاتھ اور وجود گناہوں سے لتھڑے ہوئے ہیں۔ کیا دنیا ان سے اچھی امید رکھ سکتی ہے؟ رب العزت نے اسلام کی صورت میں ہمیں زندگی گزارنے کا ایک مکمل پیکیج فراہم کر دیا ہے جس سے ہم دینی و دنیاوی مقاصد کو بہتر طریقے سے حاصل کر سکتے ہیں۔ مثلاً یوگا کے ماہرین کے حوالے سے ایک خوب صورت بات یہ کہ پنج وقت نماز کی ادائی یوگا کی ورزشوں سے بہت بہتر اور صحت بخش ثابت ہوتی ہے۔ خاص طور پر نماز کے لیے صاف ستھرا اور باطہارت رہنا، مسواک اور نماز کا اہتمام، رکوع و سجود اور دعا ہمارے پورے جسم کے لیے ذہنی سکون اور توانائی کا باعث ہوتے ہیں۔ نماز کی ادائیگی میں خشوع و خضوع ڈپریشن سے نجات کا بہترین ذریعہ ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ انسان اخلاقی اور ذہنی بیماریوں سے دور رہتا ہے، کفر و بغاوت، سرکشی اور حسد و کینہ جیسے مسائل بھی سلجھتے ہیں۔ مسلمان ہونے کے فوائد کی بات کی جائے تو بات طویل ہو جائے گی لیکن یہی ایک شفاف حقیقت ہے کہ انسانی سوچ اور رویوں کو مذہب کی لگام نہ ڈالی جائے تو یہ سرکش ہو کر ایپسٹین جیسی صورت حال پیدا کر دیتی ہے۔ ہمیں وضو کرنے کا جو طریقہ سنت سے ملا ہے، اس میں ہمارے لیے کس قدر فوائد پوشیدہ ہیں اس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے، چینی ایکیوپنکچر وضو کے حوالے سے کئی حقائق بیان کر چکے ہیں، کیا چودہ سو سال پہلے انسانی صحت کے حوالے سے ایسا کچھ سوچا بھی جا سکتا تھا۔ لیکن ہمیں وہی بتایا گیا جو ہمارے لیے بہترین ہے اور آج اسے ماڈرن دنیا کس حوالے سے دیکھتی ہے لیکن یہ سب کچھ ماننے اور قبول کرنے میں ہچکچاتی ہے بلکہ اسے فرسودہ کہہ کر بارہا مسترد کیا جا چکا ہے۔ ایپسٹین فائلز کے کھل جانے کے بعد بھی کیا دنیا اسلام کے صحت مندانہ رجحان کو قبول کرے گی یا پھر سے کسی فائل کی تیاری میں مگن ہو جائے گی؟

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل