Loading
جب 21 فروری 1954کو ڈھاکہ میڈیکل کالج اسپتال کے قریب معروف سیاسی رہنما مولانا عبدالحمید خان بھاشانی نے ننگے پاؤں پیدل جاکر ’’ شہداء مینار‘‘ پر حاضری دی تو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ آنے والے وقت میں اقوامِ متحدہ کا ادارہ مقامی زبانوں کو عالمی دن کے طور پر منانے کے لیے 21 فروری کا انتخاب کرے گا اور پوری دنیا میں سو سے زاید مقامات پر’’ شہداء مینار‘‘ قائم کیے جائیں گے۔
البتہ یہ طے تھا کہ نہ صرف بنگالی بلکہ دنیا کے دیگر لوگ بھی اپنی اپنی زبانوں میں تعلیم حاصل کرنے کے بنیادی حق کے لیے آواز بلند کریں گے۔
سابق مشرقی پاکستان میں 1954 میں جب ’’جگتو فرنٹ‘‘ کی حکومت قائم ہوئی اور شیرِ بنگال اے کے فضل الحق وزیرِ اعلیٰ بنے تو اسی تاریخ یعنی 21 فروری 1956کو مولانا بھاشانی نے ایک پروقار تقریب میں ’’ شہداء مینار‘‘ کا دوبارہ سنگِ بنیاد رکھا، جسے بعد ازاں مارشل لا اورکرفیو لگا کر منہدم کردیا گیا تھا۔
یوں یہ تحریک زور پکڑتی چلی گئی اور بالآخر 21 فروری 1963کو اس شہداء یادگارکا افتتاح بنگلا زبان کی تحریک کے ایک شہید ابو البرکات کی والدہ حسینہ بیگم نے کیا۔ افسوس کہ 1971 میں اس مینار کو گرا دیا گیا اور اس مقام پر مسجد کا بورڈ لگا دیا گیا تھا۔
آج اسی جگہ وہی شہید مینار پوری شان و شوکت کے ساتھ کھڑا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ برطانیہ، فرانس، جاپان، آسٹریلیا، جرمنی،کوریا،کینیڈا اور سنگاپور سمیت دنیا بھر میں ایک سو سے زاید شہید مینار تعمیر ہو چکے ہیں۔
قائد اعظم محمدعلی جناح جب 19 مارچ 1948 کو ڈھاکہ گئے اور انھوں نے 21 مارچ 1948کو ڈھاکہ کے ریس کورس گراؤنڈ میں اور 24 مارچ 1948 کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے کانووکیشن میں اپنے خطاب کے دوران اعلان کیا کہ پاکستان میں صرف ایک زبان ’’ اردو‘‘ ہوگی تو اس پر مشرقی پاکستان کی بنگالی آبادی نے اعتراض کیا اورگورنر جنرل کی رائے سے اختلاف کیا، جو ان کا جمہوری حق تھا۔
ان کا مطالبہ تھا کہ بنگالی کو سرکاری زبان قرار دیا جائے اور تعلیم بھی بنگلا زبان میں دی جائے اور بالآخر ان کا یہ مطالبہ 1956 میں تسلیم کر لیا گیا۔
زبان کی بنیاد پر فساد کرانا،کسی بھی باشعور معاشرے میں قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ ہر فرد کو اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا حق ملنا چاہیے، لیکن پاکستان میں یہ حق بھی آسانی سے تسلیم نہیں کیا گیا۔
دھرندرا ناتھ دتہ نے پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں قرارداد پیش کی مگر وزیرِ اعظم لیاقت علی خان نے اسے مسترد کردیا۔ بنگالی کو سرکاری زبان منوانے کے لیے ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ نے احتجاجی تحریک شروع کی۔
6 اپریل 1948 کو مشرقی پاکستان کی مسلم لیگی حکومت کی اسمبلی نے بنگالی کو سرکاری زبان قرار دینے کی قرارداد منظورکی۔ 18 نومبر 1948 کو لیاقت علی خان نے مشرقی پاکستان کا دورہ کیا مگر مسئلہ حل نہ ہو سکا۔
اسی دوران عربی کو سرکاری زبان قرار دینے کے لیے محمد شہید اللہ، آغا خان سوئم، اسٹیٹ بینک کے گورنر زاہد حسین اور سندھ لیجسلیٹو کونسل کے رکن سید اکبر شاہ نے آواز اٹھائی۔
31 جنوری 1952 کو ڈھاکہ یونیورسٹی میں مولانا عبدالحمید خان بھاشانی کی قیادت میں آل پارٹیز سینیٹرل لینگویج کمیٹی قائم کی گئی جس نے 21 فروری 1952 کو احتجاج کی کال دی تو حکومت نے دفعہ 144 نافذ کردی۔
جب طلبہ نے ریلی نکالی تو پولیس نے آنسوگیس کا استعمال کیا اورکئی طلبہ کو گرفتارکر لیا۔ طلبہ نے مشرقی پاکستان اسمبلی کے سامنے احتجاج کیا تو پولیس کی فائرنگ سے چار طالب علم عبدالسلام، رفیق الدین احمد، ابو البرکات اور عبدالجبار شہید ہو گئے، جب کہ سرکاری رپورٹ کے مطابق 69 طلبہ زخمی ہوئے۔ شہر بند ہوگیا، مگر وزیر ِاعلیٰ نور الامین نے زخمیوں کی عیادت سے انکارکردیا۔
22 فروری کو پورے ملک میں دفعہ 144 کے باوجود احتجاج ہوا اور ڈھاکہ میں دو سرکاری اخبارات جوبلی پریس اور مارننگ نیوزکو نذرِ آتش کردیا گیا۔ نماز جنازہ کے بعد نکلنے والے جلوس پر پولیس کی فائرنگ سے مزید دو افراد صفی الرحمان اور ایک کمسن لڑکا وحید اللہ جاں بحق ہو گئے۔
23 فروری کی رات طلبہ نے ’’ یادگارِ شہداء‘‘ تعمیرکی جسے 26 فروری کو پولیس نے گرا دیا۔ 29 فروری کو نارائن گنج میں مزدوروں کے احتجاج پر بھی لاٹھی چارج کیا گیا اور پہلی بار مختلف نوعیت کے سوالات اٹھنے لگے۔
شہداء کی پہلی برسی پر عوام کا سمندر سڑکوں پر امڈ آیا اور مولانا بھاشانی کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ جب وزیرِاعظم محمد علی بوگرہ نے بنگالی کو سرکاری زبان قرار دینے کی حمایت کی تو مولوی عبدالحق نے مخالفت کی، جس کے نتیجے میں مسلم لیگ مشرقی پاکستان میں انتخابات ہارگئی اور جگتو فرنٹ کامیاب ہوا۔
اقتدار میں آتے ہی اس نے ’’ بنگلا اکیڈمی‘‘ قائم کی، مگر گورنر جنرل غلام محمد نے اسمبلی توڑ دی۔ 6 جون 1956 کو جگتو فرنٹ دوبارہ اقتدار میں آیا تو زبان کا دن پُرامن طور پر منایا گیا اور سرکاری تعطیل کا اعلان کیا گیا۔
مرکزی حکومت نے اردو کے ساتھ بنگالی کو بھی سرکاری زبان تسلیم کیا اور اسمبلی میں دونوں زبانوں میں تقاریر کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس سے قبل نوبل انعام یافتہ ادیب رابندر ناتھ ٹیگور کی تحریروں پر بھی پابندی تھی۔
آزادی کے بعد بنگلا دیش کی حکومت نے عالمی سطح پر زبانوں کا عالمی دن منانے کے لیے یونیسکوکو تحریری درخواست دی، جو 17 نومبر 1999 کو یونیسکو کی 30 ویں جنرل کانفرنس میں متفقہ طور پر منظورکی گئی۔
بعد ازاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی 2002 میں قرارداد نمبر 56/262 کے ذریعے 21 فروری کو مادری زبانوں کا عالمی دن منانے کی منظوری دی، جس میں کہا گیا کہ ہر بچے کو بنیادی تعلیم اس کی مادری زبان میں دی جائے۔
پاکستان نے یونیسکو اور اقوام متحدہ کی ان قراردادوں کی حمایت کی، مگر اس کے باوجود پنجابی، پشتو، اردو، سندھی، بلوچی، سرائیکی، گجراتی اور دیگر زبانوں کو مطلوبہ اہمیت نہ مل سکی، جو افسوسناک ہے۔
ہم سندھ کے باسی آج یہ عزم کرتے ہیں کہ سندھ دھرتی پر کسی بھی زبان کا قتل قابل قبول نہیں، خصوصاً گجراتی زبان جس پر 1958 میں جنرل ایوب کی فوجی آمریت کے دور میں پابندی عائد کی گئی تھی۔
ان چاروں گجراتی اسکولوں کو بحال کر کے صبح کی شفٹ میں گجراتی جب کہ شام کی شفٹ میں انگریزی، سندھی اور اردو وغیرہ کی تعلیم دی جائے۔
گجراتی جو کہ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی بھی ماں بولی ہے اور جو کراچی کی بڑی زبانوں میں شمار ہوتی رہی ہے، اسے مصنوعی طور پر ختم کرنے کی ہرکوشش کی مخالفت اور مزاحمت کی جائے گی کیونکہ یہ عمل اقوام متحدہ کے چارٹر کے بھی خلاف ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل