Saturday, February 14, 2026
 

شہرِ نا پُرساں

 



کراچی، جوکبھی روشنیوں کا شہرکہلاتا تھا،آج خوف، اندھیروں، دھوئیں اور سسکتی ہوئی امیدوں کا مسکن بن چکا ہے۔ یہ محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ہے، مگر افسوس کہ اس شہ رگ کو ہر گزرتے دن کے ساتھ بے رحمی سے کاٹا جا رہا ہے۔ یہ شہر اب کسی سیاسی خیرات، وقتی امدادی پیکیج یا الیکشن سے قبل کیے جانے والے قسط وار وعدوں سے بہلنے والا نہیں۔ اس کے زخم اتنے گہرے ہو چکے ہیں کہ اب محض مرہم پٹی سے کام نہیں چلے گا، بلکہ اسے ایک مکمل جراحی (سرجری) کی ضرورت ہے۔ یہ شہر اب ادھورے حل نہیں بلکہ ایک ایسا فعال اور خود مختار نظام مانگتا ہے جہاں اقتدار کی بنیاد ’’ اختیار‘‘ پر نہیں بلکہ ’’جوابدہی‘‘ پر رکھی گئی ہو۔ ریاستی ڈھانچے کی اصل روح یہ ہوتی ہے کہ ادارے عوام کے خادم ہوں، نہ کہ عوام اداروں کے رحم وکرم پر ہوں۔کسی بھی مہذب معاشرے میں ذمے داری محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک مقدس عہد ہوتا ہے۔ جب کوئی ادارہ اس مقصد کو پورا کرنے میں ناکام ہو جائے جس کے لیے اسے بنایا گیا تھا، تو اس کے سربراہان کو عہدوں سے چپکے رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں رہتا، اگر شہر کی سڑکیں مقتل بن رہی ہوں، اگر پانی کی بوند بوند کے لیے شہری ترستے ہوں اور اگر آگ لگنے پر فائر بریگیڈ کی گاڑیاں خالی ملتی ہوں، تو یہ محض حادثہ نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت ہے۔ کسی میں اخلاقی جرات نہیں کہ وہ ذمے داری قبول کرے،کیونکہ ہمارے ہاں کرسی سے چمٹے رہنے کی روایت نے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ ہماری سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے ناکامیوں پر سوال اٹھانے کے بجائے سمجھوتہ کرنا سیکھ لیا ہے۔ ہم ایک ایسے متوازی نظام کے عادی ہوگئے ہیں جس نے ہمیں انفرادی طور پر تو شاید سہولت دے دی، مگر اجتماعی طور پر ہمیں ایک مردہ قوم بنا دیا۔ ہمارا رویہ بن چُکا ہے کہ اگر ’’ پانی نہیں آرہا تو ٹینکر منگوا لیں گے، بجلی گئی تو سولر لگوا لیں گے اور تحفظ چاہیے تو اپنی گلی میں پہرے دار بٹھا لیں گے، تو درحقیقت ہم نے ریاست کو اس کی ذمے داریوں سے مستثنیٰ کر دیا۔‘‘ ہم نے اپنے ٹیکسوں کے بدلے ملنے والی سہولیات کو دوبارہ اپنی جیب سے خریدنا شروع کیا اور یہی وہ لمحہ تھا جب حکمران طبقہ بے خوف ہوگیا۔ انھیں معلوم ہو گیا کہ یہ عوام اپنا انتظام خود کرلیں گے، لہٰذا انھیں جوابدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ گل پلازہ کا حالیہ سانحہ اسی اجتماعی بے حسی اور ریاستی یتیمی کا ایک ہولناک ثبوت ہے۔ وہاں جلنے والا سامان محض کپڑا یا الیکٹرانکس نہیں تھا، بلکہ وہ ہزاروں خاندانوں کا مستقبل اور برسوں کی محنت تھی۔ وہ لوگ کسی سیاسی گروہ کا حصہ نہیں تھے، وہ تو صرف رزقِ حلال کی تگ و دو میں مصروف شہری تھے جو ریاست کو ٹیکس دیتے تھے تاکہ بدلے میں انھیں تحفظ مل سکے، مگر جب آگ لگی تو نظام کا کھوکھلا پن عیاں ہوگیا۔ سوال یہ نہیں کہ چنگاری کہاں سے اٹھی، سوال یہ ہے کہ اس آگ کو بجھانے کے لیے وہ نظام کہاں تھا جس پر اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں؟ ہم نے ماضی میں بھی ایسے کتنے ہی بازاروں اور کارخانوں کو راکھ ہوتے دیکھا، مگر ہر بار ہم نے اسے ’’ اللہ کی رضا ‘‘ کہہ کر خاموشی اختیار کر لی۔ ہماری یہ خاموشی دراصل ان جرائم میں برابرکی شریک ہے۔ ہم کبوترکی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ شاید اگلا شکار ہم نہیں ہوں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب محلے میں آگ لگتی ہے تو کوئی بھی گھر محفوظ نہیں رہتا۔ آج اگرگل پلازہ کے تاجر برباد ہوئے ہیں، توکل کسی کھلے گٹر میں گرنے والا بچہ آپ کا ہوسکتا ہے،کسی اسٹریٹ کرائم کی زد میں آنے والا نوجوان آپ کا بھائی بھی ہوسکتا ہے اورکسی غیر قانونی عمارت کے ملبے تلے دبنے والے آپ کے پیارے بھی ہوسکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام اپنے حق کے لیے کھڑے ہونا چھوڑ دیتے ہیں، تو حادثات ان کا مقدر بن جاتے ہیں۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے میں جتنا وقت ضایع ہوگا، اس کی قیمت اتنی ہی زیادہ چکانی پڑے گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ’’ تماشائی‘‘ کا لبادہ اتار پھینکیں اور اس شہر کے ’’مالک‘‘ اور Stakeholders بن کر سامنے آئیں۔ مالک وہ نہیں ہوتا جو صرف جائیداد سے فائدہ اٹھائے، بلکہ مالک وہ ہوتا ہے جو اپنی ملکیت کی حفاظت کرتا ہے اور اس پر ہونے والے ہر وارکا جواب دیتا ہے۔ ہمیں اپنے اندر وہ شعور بیدارکرنا ہوگا جو ارباب اختیار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کرسکے۔ ہمیں یہ باورکروانا ہوگا کہ ہم اب مزید ’’ متبادل نظام‘‘ خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ہمیں پانی، بجلی، سڑک اور تحفظ چاہیے اور یہ ہمارا وہ حق ہے جس کے لیے ہم ریاست کو ٹیکس دیتے ہیں۔سوشل میڈیا پر افسوس کا اظہارکرنا اور حادثات کی ویڈیوز وائرل کرنا کافی نہیں ہے۔ یہ وقت عوامی دباؤ کو ایک منظم تحریک میں بدلنے کا ہے۔ جب تک عوام سڑکوں پر نکل کر پرامن مگر بھرپور احتجاج کے ذریعے حساب نہیں مانگیں گے، یہ نظام نہیں بدلے گا۔ ہمیں اداروں کو مجبور کرنا ہوگا کہ وہ عوام کے سامنے جوابدہ ہوں، اگر پولیس تحفظ نہیں دے سکتی توکیوں؟ اگر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نقشے پاس کرنے کے بعد حفاظتی اقدامات نہیں دیکھتی تو کیوں؟ یہ ’’ کیوں‘‘ ہی وہ پہلا قدم ہے جو ہمیں غلامی سے نجات دلا کر شہریت کے مقام پر کھڑا کرے گا۔اگر ہم نے آج بھی خود کو نہ بدلا، اگر ہم نے آج بھی مصلحت پسندی کی چادر نہ اتاری، تو کل کا سورج ایک اور سانحہ لے کر طلوع ہوگا۔ ہم ایک بار پھر ویڈیوز بنائیں گے، ایک بار پھر پریس کلب کے باہر موم بتیاں جلا کر اپنے دکھ کا اظہار کریں گے اور پھر چند دن کے سوگ کے بعد اپنی اپنی انفرادی زندگیوں میں مگن ہو جائیں گے، لیکن یاد رکھیے، تباہی اب ہمارے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔ کراچی کو بچانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اس کے ڈھائی کروڑ عوام ایک آواز ہوکر یہ اعلان کریں کہ ’’ یہ شہر ہمارا ہے اور ہم اب اس کی بربادی کا مزید تماشہ نہیں دیکھ سکتے۔‘‘ یہ شہر تماشائی نہیں، مالکان چاہتا ہے، ایسے مالکان جن کے پاس سوال کرنے کی جرات اور حساب لینے کی طاقت ہو۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل