Saturday, February 21, 2026
 

بھارت اور امریکا کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے پر بھارت میں بحث تیز ہو گئی

 



بھارت اور امریکا کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے پر بھارت میں بحث تیز ہو گئی ہے، جبکہ کسان تنظیموں اور اپوزیشن رہنماؤں نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ یہ معاہدہ زرعی شعبے بالخصوص کپاس کے کاشتکاروں پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا سے بعض زرعی اجناس کی کم یا صفر ڈیوٹی پر درآمد کے امکانات نے کسانوں میں تشویش پیدا کر دی ہےمختلف ریاستوں میں کسان تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ بھارتی جریدے India Decoded کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ممکنہ تجارتی رعایتوں کے نتیجے میں لاکھوں کپاس کے کسانوں کو سخت مسابقت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مکئی، کپاس، پھل اور سویا بین کی کم ڈیوٹی پر درآمد مقامی پیداوار اور قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔اپوزیشن جماعت Indian National Congress کے سینئر رہنما Randeep Singh Surjewala نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت پہلے ہی امریکا سے سینکڑوں ملین ڈالر کی کپاس درآمد کر رہا ہے، جس سے مقامی کسان دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق پنجاب، گجرات اور مہاراشٹر میں کپاس کی فروخت اور قیمتوں کے مسائل شدت اختیار کر رہے ہیں، جبکہ کسانوں کے قرض میں اضافے کی شکایات بھی موجود ہیں۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث بعض کسان نسبتاً زیادہ منافع دینے والی فصلوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، جس سے کپاس کی مجموعی پیداوار میں بتدریج کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق، اگر بنگلہ دیشی ٹیکسٹائل مصنوعات کو امریکی منڈی میں زیادہ ٹیرف رعایت ملتی ہے تو اس سے علاقائی برآمدی مسابقت پر اثر پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کم محصول کی سہولت کسی بھی ملک کی مصنوعات کو عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بنا دیتی ہے، جس کے نتیجے میں دیگر برآمد کنندگان کو دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے تاحال معاہدے کی حتمی شرائط پر باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم حکام کا مؤقف ہے کہ تجارتی معاہدے ملکی معیشت، صنعت اور صارفین کے لیے مجموعی طور پر فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل