Saturday, February 21, 2026
 

پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2026 سامنے آگیا

 



قبضہ مافیا کیخلاف سخت سزائیں اور جرمانوں کا پنجاب حکومت پنجاب پروٹیکشن آف اونرشب پراپرٹی آرڈیننس دوبارہ لے آئی جب کہ پنجاب حکومت  پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2026 سامنے آگیا۔ غیر قانونی قبضہ قابل سزا جرم قرارہوگا، سزا پانچ سے دس سال یا قید ہوگی، پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2026 میں پانچ سیکشن کو ختم کر دیا گیا ہے۔ محکمہ قانون نے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2026 کو پنجاب  اسمبلی بھجوا دیا، ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں اسکروٹنی کمیٹی قائم کی جائے گی۔  کمیٹی میں ڈی پی او، اے ڈی سی ریونیو، اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر افسران شامل ہوں گے، کمیٹی فریقین کو طلب کر کے ریکارڈ کی جانچ اور بیانات قلمبند کرے گی، کمیٹی مصالحتی حل کی کوشش بھی کرے گی۔ مصالحت، صلح کی صورت میں تحریری معاہدہ ٹریبونل کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ آرڈیننس کے مطابق  غیر قانونی قبضے پر ایک کروڑ روپے تک جرمانہ یا قید و جرمانہ دونوں سزائیں دی جائیں گی، ترمیمی آرڈیننس کے تحت "ملزم" کی تعریف میں کمپنی، ادارہ، ٹرسٹ، سوسائٹی اور دیگر ادارے بھی شامل کر دیے گئے ہیں، کسی ادارے کے ذمہ دار افسران، ڈائریکٹرز، پارٹنرز اور بینیفشل اونرز بھی قانون کے دائرے میں آئیں گے۔ ڈسپیوٹ ریزولوشن" کی جگہ "اسکروٹنی" کا لفظ شامل کر دیا گیا۔ جج سے مراد اب ٹریبونل کا نامزد پریزائیڈنگ آفیسر ہوگا، پنجاب پراپرٹی ٹریبونل کا قیام ہر ضلع میں کیا جائے گا، ایڈیشنل سیشن جج کو ٹریبونل جج مقرر کیا جائے گا، جعلسازی، دھوکہ دہی، جبر یا طاقت کے ذریعے قبضہ بھی جرم تصور ہوگا۔ جرم میں معاونت، سہولت کاری یا سازش پر ایک سے تین سال قید کی سزا ہوگی، آرڈیننس کے مطابق قبضہ کی معاونت پر دس لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا،   مالک براہ راست متعلقہ ٹریبونل میں شکایت دائر کر سکے گا۔ شکایت میں ملکیت کا ثبوت، جائیداد کی تفصیل اور ملزم کی معلومات دینا لازمی ہوگا، شکایت موصول ہونے کے تین دن کے اندر معاملہ اسکروٹنی کمیٹی کو بھیجا جائے گا،  اسکروٹنی کمیٹی تیس دن میں رپورٹ ٹریبونل کو پیش کرنے کی پابند ہوگی۔ ٹریبونل کو عبوری احکامات جاری کرنے کا اختیار دیا گیا،  ٹریبونل جائیداد سیل کرنے یا ضمانت لینے کا حکم دے سکے گا، کیس کے دوران جائیداد کے قبضے کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار ٹریبونل کو حاصل ہوگا،  ٹریبونل کو جائیداد کی ملکیت کا فیصلہ کرنے کا خصوصی اختیار دیا گیا۔ جھوٹی یا بدنیتی پر مبنی شکایت دینے والے  کو ایک سے پانچ سال قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا، ٹریبونل مقدمات کا فیصلہ تیس دن کے اندر کرنے کا پابند ہوگا، مقدمات کی روزانہ بنیاد پر سماعت ہوگی، سات دن سے زائد التوا نہیں دیا جائے گا، ٹریبونل غیر قانونی قبضے پر جائیداد کی مالیت کے برابر کم از کم ہرجانہ مقرر کر سکے گا۔ ناجائز منافع یا تعمیرات کا فائدہ بھی قانونی مالک کو دلایا جا سکے گا، ہرجانہ اور اخراجات لینڈ ریونیو بقایا جات کے طور پر وصول کیے جائیں گے، ٹریبونل کو ملزم کی گرفتاری کا اختیار حاصل ہوگا، گرفتاری کے بعد ضمانت کا اختیار صرف لاہور ہائی کورٹ کو ہوگا۔ زیر التوا مقدمات ٹریبونل کو منتقل کیے جا سکیں گے، ٹریبونل کو مقدمہ اسی مرحلے سے آگے بڑھانے کا اختیار ہوگا جہاں سے منتقل ہوا، فیصلہ سناتے وقت ٹریبونل باقاعدہ ڈگری جاری کرے گا۔  کارروائی مکمل ہونے پر قانونی مالک کو فوری قبضہ دلانے کا حکم دیا جائے گا، پولیس اور دیگر سرکاری ادارے قبضہ واگزاری میں معاونت کے پابند ہوں گے، ٹریبونل کے حتمی فیصلے کے خلاف تیس دن میں لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جا سکے گی۔  عبوری یا درمیانی حکم کے خلاف اپیل یا نظرثانی کی اجازت نہیں ہوگی، شکایت دائر ہونے کے بعد جائیداد کی خرید و فروخت یا منتقلی کالعدم تصور ہوگی، مقدمہ زیر سماعت ہونے کے دوران کسی بھی قسم کی الاٹمنٹ، گفٹ یا لیز پر پابندی ہوگی۔ نیک نیتی سے کام کرنے والے سرکاری افسران کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا، بعض سابقہ دفعات کو ختم کر کے قانون کو موثر اور جامع بنایا گیا، ترامیم کا مقصد غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف سخت کارروائی اور اصل مالکان کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل