Loading
گلی محلوں سے موٹرسائیکل اٹھانا ٹریفک پولیس کو مہنگا پڑگیا، شہری نے گھیرے میں لے لیا جس پر ٹریفک پولیس نے چند موٹرسائیکل اٹھانے کے بعد راہ فرار اختیار کی
تفصیلات کے مطابق ٹریفک پولیس نے اب مین شاہراہوں کے ساتھ ساتھ گلی محلوں سے بھی شہریوں کی موٹرسائیکلیں اٹھانا شروع کر دیں اسطرح کا ایک واقع ڈسٹرکٹ سٹی کے علاقے گزدرآباد (رنچھوڑ لائن) میں پیش آیا جہاں گھروں اور دکانوں کے باہر کھڑی موٹرسائیکلیں ٹریفک پولیس کے ٹرک میں لوڈ کر کے لے جائی جا رہی تھی۔
اسی دوران ایک شہری نے موبائل فون سے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کر دی۔ جس میں شہری نے موٹرسائیکل اٹھانے والے ٹرک کے لوڈر اور اس میں سوار پولیس وردی میں ملبوس شخص سے سوال کیا کہ تمھیں گلی محلوں سے بائیکس اٹھانے کی اجازت کس نے دی۔
شہری کے سوال کرنے پر ٹریفک پولیس اہلکار نے اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کی اور فوری طور پر رہا فرار اختیار کی جیسے کوئی چوری پکڑی گئی ہو جبکہ ٹریفک پولیس اہلکار ٹرک میں 5 سے 6 موٹرسائیکلیں بھی اُٹھا کر لے گئے۔
شہری کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کے مہینے میں لوگوں کو تنگ کرنا کہاں کا انصاف ہے ، یہ لوگوں کا کچرا نہیں اٹھائیں گے، گٹر کے ڈھکن نہیں لگائیں گے لیکن رہائشی علاقوں سے بائیکس اٹھالی جاتی ہیں۔
شہری نے کہا کہ ٹریفک کی روانی کے لئے اہلکار نظر نہیں آتے، پریڈی اسٹریٹ، غریب آباد ، لیاقت آباد نارتھ کراچی پاور ہاؤس چورنگی ، ناگن چورنگی ، شفیق موڑکے قریب راشد منہاس روڈ سمیت شہر کی بیشتر شاہراہوں پر فروٹس کے ٹھیلوں کی بھرمار ، سرشاہ سلیمان روڈ عیسیٰ نگری ، پرانی زسبزہ منڈی پر غیر قابونی بکرا منڈی لگی ہوئی انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ، لیکن شہریوں کو کسی نے کسی بہانے تنگ کرنے میں ہر ادارہ ہر محکمہ مصروف ہے۔
ٹریفک پولیس اہلکار پارکنگ مافیا کی سرپرستی میں مصروف ہیں ، شہر میں بے ہنگم پارکنگ کے باعث ٹریفک جام رہنا معمول ہے جس کے لئے ٹریفک پولیس کچھ نہیں کرتی ، ای چالان سسٹم کے باوجود ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں لیکن کوئی ایکشن لینے کو تیار نہیں۔
اس حوالے سے ٹریفک پولیس کی جانب سے کوئی بیان سامنے آیا اور نہ ہی واقعے کی تصدیق و تردید کی گئی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل