Tuesday, February 24, 2026
 

اسرائیلی فوج نے فلسطینی خواتین کے مردہ جسموں سے اعضا تک نکالے؛ ہولناک انکشافات

 



برطانوی حکمراں جماعت لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کاربن فلسطین میں ڈھائے جانے والے ان مظالم کو سامنے لائے ہیں جو اب تک پوشیدہ رکھے گئے تھے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جیریمی کاربن نے ایک حالیہ ویڈیو میں انکشاف کیا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں ہلاک ہونے والی خواتین کے جسموں کو کھولا اور اعضا نکالے۔ جیریمی کاربن جو اپنی جماعت لیبر پارٹی کو چھوڑ چکے ہیں اور اب ایک آزاد رکن پارلیمنٹ ہیں۔ انھوں نے غزہ کے الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر سے بات کی۔ اسپتال کے ڈائریکٹر نے جیریمی کاربن کو بتایا کہ اسرائیلی فوج نے 60 یا 70 میتیں بھیجی تھیں جو بکسوں میں بند تھیں۔ جب ان بکسوں کو کھولا گیا تو ہر ایک میں ایک فلسطینی کی کھوپڑی پڑی تھی جب کہ باقی اعضا غائب تھے۔ اس کے علاوہ اسپتال کو خواتین کی لاشیں بھی موصول ہوئیں جن کے اعضا پہلے ہی نکال لیے گئے تھے۔ جیریمی کاربن نے کہا کہ یہی کچھ فلسطینی عوام کے ساتھ ہوتا آ رہا ہے۔ یہ ہمارے دور کاسنگین اور درد ناک المیہ ہے۔ یاد رہے کہ غزہ کا الشفا اسپتال حماس کے کنٹرول میں ہے جہاں سے اسرائیلی فوج نے اکتوبر 2025 میں انخلا کیا تھا۔ تب سے فلسطینیوں کی میتیں دفنانے کے لیے اسرائیل سے ریڈ کراس کے ذریعے الشفا اسپتال بھیجی جاتی ہیں اور ایسا آخری بار 29 جنوری کو ہوا تھا۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے حوالے کی گئی ان لاشوں پر بہیمانہ تشدد کے نشانات ہوتے ہیں۔ جسم کٹے پٹے اور اعضا غائب ہوتے ہیں۔ جیریمی کاربن کی یہ ویڈیو سب سے پہلے ویئر دا پیس نامی انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شائع ہوئی تھی جو اپنی آمدنی کا ایک حصہ مختلف انسانی ہمدردی کے کاموں میں عطیہ کرتا ہے۔ اسرائیل نے اس کے جواب میں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق جیریمی کاربن اور ویئر دا پیس کو ہی تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔ اسرائیلی فوج کے انٹرنیشنل ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ندّووشوشانی نے سوال کیا کہ حیران کن بلڈ لیبل پھیلانے سے پہلے حقائق کی جانچ کی گئی؟ انھوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی کے فوجی کئی مہینوں سے الشفاء ہسپتال کے قریب بھی نہیں گئے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ ہمارا دور حقائق کی دوبارہ جانچ کرنے کا ہے اور ایسے صحافیوں پر بھروسہ نہیں جو بے بنیاد کہانیاں پھیلاتے ہیں۔ ان کے بقول اسرائیلی فوج  بین الاقوامی قانون اور داخلی قواعد و ضوابط کے مطابق کام کرتی ہے جو اس طرح کے عمل کی سختی سے ممانعت کرتے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ فلسطینیوں کی میتوں کی واپسی بین الاقوامی رابطے اور ریڈ کراس کی مدد سے کی جاتی ہے۔ There are some who maybe still claim Jeremy Corbyn isn’t an antisemite. But he is one of a number of openly antisemitic Jew haters sitting as MPs. That is frightening. Here he is spreading horrendous lies about Israel - lies of murder and organ removal. These lies are already… pic.twitter.com/ZJduHGbKjP — Nicole Lampert (@nicolelampert) February 23, 2026    

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل