Sunday, March 01, 2026
 

میرا تھرپارکر 

 



 صحرائے تھر یا پھر گریٹ انڈین ڈیزرٹ دنیا کا نواں بڑا گرم اور قدرے خشک صحرا ہے جو لگ بھگ 7 ہزار مربع میل رقبے پر پاکستان و بھارت میں پھیلا ہوا ہے۔ اسے دنیا کا واحد سرسبز صحرا بھی کیا جاتا ہے جہان کچھ مقامات پر فصلوں کی کاشت ممکن ہے۔  بھارت میں یہ راجستھان اور گجرات کی ریاستوں جب کہ پاکستان میں پنجاب اور سندھ کے علاقوں میں پھیلا ہے۔  تھر کو سابق ریاست بہاولپور کے علاقوں (بہاولنگر، بہاول پور، رحیم یار خان) میں چولستان یا روہی کہا جاتا ہے، جب کہ شمالی سندھ (خیرپور و سانگھڑ کے اضلاع ) میں نارا اور جنوبی علاقوں میں تھر ہی کہا جاتا ہے، جب کہ تھرپارکر صوبہ سندھ کے جنوب مشرق میں واقع ڈویژن میرپورخاص اور سندھ کا بہ لحاظ رقبہ سب سے بڑا ضلع ہے جس کی تحصیلوں میں مٹھی، ڈپلو، اسلام کوٹ، چھاچھرو، کالوہی، ڈھلی اور نگرپارکر شامل ہیں۔ یہ پاکستان کا واحد ہندو اکثریتی علاقہ ہے۔ سال 1860 سے 1901 تک اس خطے کو مشرقی سندھ سرحدی ضلع (ایسٹرن سندھ فرنٹیئر ڈسٹرکٹ) کہا جاتا تھا جب کہ 1901 سے 1947 تک اسے تھر اور پارکر کہا جاتا تھا۔ کچھ دوست اِس صحرا کو تھرپارکر سمجھتے ہیں جوغلط ہے۔ تھرپارکر ایک علاقے کا نام ہے جس میں واقع صحرائے تھر کہلاتا ہے۔  لگ بھگ آٹھ یا دس ہزار سال پہلے، دریائے گھاگرہ-ہکڑہ کا ایک ذیلی دریا سرسوتی، ستلج میں ضم ہونے کے بعد دریائے سندھ کی ڈیلٹا ندی، نارا ندی میں بہہ گیا، لیکن پھر اس نے اپنا راستہ بدل لیا۔ اس کی وجہ سے گھاگرہ ہاکڑہ، مون سون سے چلنے والے دریاؤں کے نظام کے طور پر رہ گئے۔ یہ اب سمندر تک نہیں پہنچتا اور صحرائے تھر میں ہی کہیں ختم ہو جاتا ہے۔ تھرپارکر کیسے جایا جائے؟ تھرپارکر جانے کے لیے آپ کو پہلے میرپورخاص پہنچنا ہوگا۔ کراچی، لاہور، کوئٹہ و پشاور سے بذریعہ سڑک بھی آپ میرپورخاص پہنچ سکتے ہیں اور حیدرآباد کے راستے ریل پر بھی پہنچ سکتے ہیں۔ ریل نسبتاً ایک محفوظ اور آرام دہ زریعہ ہے سو میں نے دونوں بار ریل کا سفر کیا۔  ریل آپ کو حید آباد جنکشن اتارے گی جہاں سے بس، گاڑی، ویگن پر آپ آسانی سے تھرپارکر جا سکتے ہیں۔ اپنی سواری ہو تو زیادہ اچھا ہے۔ کراچی والے براستہ گھارو، ٹھٹھہ اور بدین بھی جاسکتے ہیں۔ میرپورخاص سے بزریعہ ٹرین بھی آپ دھورونارو اور پھر بس/ویگن عمرکوٹ جا سکتے ہیں۔ ایک راستہ سانگھڑ، کھپرو اور عمر کوٹ سے ہوکر بھی جاتا ہے لیکن یہ لمبا اور قدرے غیرمحفوظ راستہ ہے۔ حیدرآباد سے میرپورخاص اور نوکوٹ والا راستہ مکمل محفوظ اور بہترین ہے۔ میں نے پہلا سفر چوںکہ ایک ہی دوست کے ساتھ کیا تھا سو ہم حیدرآباد سے میرپورخاص اور پھر کرائے کی گاڑی پر وہاں سے عمرکوٹ پہنچے تھے۔ بقیہ سفر لوکل پر کیا تھا۔ اس برس ہم چھے دوست گئے تھے اور زیادہ تر سفر ہم نے آٹھ سیٹر ویگن پر کیا تھا جو حیدر آباد سے شروع ہوا تھا۔ تھر میں کیا دیکھیں؟ جیسے میں نے شروع میں بتایا کہ صحرائے تھر سندھ کے کئی اضلاع میں پھیلا ہوا ہے لیکن زیادہ تر دیکھنے کی جگہیں ضلع تھرپارکر اور پھر عمرکوٹ میں ہیں سو تحریر میں انہیں دو اضلاع کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا۔ نوکوٹ سب سے پہلے نوکوٹ کی سیاحت کریں گے جسے تھرپارکر کا گیٹ وے بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں دو سو گیارہ سال پرانا قلعہ نوکوٹ اور آس پاس چند درگاہیں واقع ہیں جن میں سے ایک راضی شاہ دربار بھی ہے۔ مِٹھی اس کے بعد تھر کا صدر مقام اور مرکزی شہر مِٹھی ہے جہاں ایک الگ دنیا آباد ہے۔ مِٹھی کو میں جنوب کا گلگت کہتا ہوں جس کی جگمگاہٹ آنکھوں کو روشن اور حیران کر دیتی ہے۔ تھر کی ریت پر بچھا یہ شہر یہاں کا ثقافتی مرکز بھی ہے۔ یہاں کچھ مشہور مندر، مقامی کھانے، بازار اور گاڈی بھٹ دیکھنے کی جگہیں ہیں۔ مندروں میں شوالیہ مندر کافی بڑا ہے۔ گاڈی بھٹ اونچائی پر واقع ایک ہوادار مقام ہے جہاں سے پورے شہر کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ اس جگہ کو رات میں دیکھنے کا الگ ہی مزہ ہے۔ اِسلام کوٹ مِٹھی سے آگے مرکزی شاہراہ پر اسلام کوٹ ہے۔ اسلام کوٹ میں مشہور جگہ سنت نینو رام کا آشرم ہے جو ایک مکمل کمپلیکس ہے۔ یہاں کچھ مندر، سمادھیاں، ہال، کھانے کی جگہیں اور پرندوں سے بھرے گھنے پیڑ ہیں۔ اس جگہ کو دیکھنے کے لییے کم از کم دو گھنٹے درکار ہیں۔ اگر شادی کا موسم ہو تو یہاں کئی روایتی دولہا بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس آشرم کے اندر ہنگاج ماتا کا مندر بھی ہے جو ہنگول والے مندر سے الگ ہے۔ گوری و بھالوہ اسلام کوٹ سے اگلی مشہور جگہ سڑک سے کچھ اندر گوری ہے جہاں جین مت کا ایک قدیم مندر واقع ہے۔ گوری ایک گاؤں ہے جہاں مقامی ثقافت بکھری ہوئی ہے۔ یہاں کے کچے گھر اور معصوم بچے ہر سیاح کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔  اس کے قریب ہی بھالوہ میں مشہور داستان عمر ماروی کے کردار، ماروی کا کنواں ہے جہاں وہ پانی بھرنے آیا کرتی تھی۔ یہاں ایک چھوٹاںسا میوزیم بھی بنایا گیا ہے جو بس خانہ پری ہی ہے۔ ویراواہ بھالوہ کے بعد مرکزی سڑک پر ہی ویراواہ ہے۔ جو اپنے قدیم جین مندر کے لیے مشہور ہے۔ یہ مندر کاجل جھیل کے کنارے واقع ہے جو پینے کے پانی کا بڑا ذخیرہ ہے۔ بھوڈیسر بھالوہ سے چند کلومیٹر آگے بھوڈیسر گاؤں ہے جہاں ایک لائن میں قریب قریب پتھر کی پرانی مسجد اور تین جین مندر واقع ہیں جو سب کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔ یہ مندر پاس پاس واقع ہیں جن میں پہلا مندر قدرے بڑا اور مرکزی ہے جس کی دیواروں پر پرانی مورتیاں بنی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ یہاں بھی پانی کا ایک چھوٹا ڈیم موجود ہے۔ نگرپارکر  بھوڈیسر کے بعد تھر کی آخری تحصیل نگرپارکر ہے۔  یہاں ایک قدیم جین مندر، مسکین جہاں خان کھوسو عجائب گھر، کارونجھر دھام اور مقامی ثقافتی رنگ دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہاں ایک نیا اسٹیڈیم بھی بنایا جا رہا ہے۔ کارونجھر کے پہاڑوں میں خوب صورت ندی نالے بھی اس کے حسن کو چار چاند لگاتے ہیں۔ کارونجھر دھام میں ایک مندر اور اشنان کے لیے تالاب موجود ہے۔ کاسبو نگرپارکر کے جنوب میں کاسبو واقع ہے جو ایک چھوٹا سا پرسکون گاؤں ہے۔ اس کی فضا میں کئی مور سانس لیتے اور بھاگتے پھرتے ہیں۔ موروں کے اس گاؤں میں راما پیر کا مندر بھی ہے جسے دیکھنے کئی ہندو دور دور سے آتے ہیں۔ چوڑیو نگرپار کرکے مشرق میں چوڑیو ہے جو تین اطراف سے بھارت میں گھرا ہوا پاکستانی گاؤں ہے۔ یہاں رن آف کچھ واقع ہے۔ ادھر پتھر کے غار میں ماتا کا مندر ہے جہاں صبح شام یاتریوں کا رش لگا رہتا ہے۔ عمر کوٹ تھرپار کرکے بعد عمر کوٹ کا رُخ کرتے ہیں جہاں کا مرکزی پوائنٹ عمرکوٹ کا پرانا قلعہ ہے جس کے اندر عجائب گھر، گورے ڈپٹی کمشنر کی قبر، توپ والا برج، ریسٹ ہاؤس اور کچھ دیگر مانومنٹس واقع ہیں۔ قلعے سے کچھ دور اکبر کی جائے پیدائش کا مقام ہے۔ اسی کے راستے میں شہید عبدالرحیم گرہوڑی لائبریری واقع ہے۔ یہ اس شہر کا سب سے بڑا کتب خانہ ہے جو پڑھنے والوں سے بھرا رہتا ہے۔ عمرکوٹ کے شمال مشرق میں ایک بڑا شو مندر بھی ہے۔ کھانے تھرپارکر کے اکثر نیا آنے والا ان علاقوں میں کھانے پینے کو لے کر بہت پریشان ہوتا ہے۔ یہاں بہت سے مشہور اور مقامی کھانے ملتے ہیں۔ شہری اور دیسی دونوں قسم کے پکوان دست یاب ہیں۔ تھر جانے کے لیے کیوںکہ آپ کو حیدرآباد اور میرپورخاص جانا پڑتا ہے اس لیے ہم وہیں سے شروع کریں گے۔ بھئی حیدرآباد کے کھانوں کا تو میں قائل ہو چکا ہوں۔ میں ہی کیا میری ٹیم کے سب دوست یہاں کے کھانوں کے گرویدہ نکلے۔ حیدرآباد میں اچھا ناشتہ آپ کو منان ہوٹل سمیت کئی ہوٹلوں پر مل جائے گا۔ منان ہوٹل کی نہاری، لسی، لچھے دار پراٹھے اور چائے تو لاجواب تھی۔ باقی پائے میں کھاتا نہیں تو اس پر رائے نہیں دے سکتا۔ دوپہر کے لیے یہاں حامد کا پلاؤ (جسے وہاں کے لوگ بریانی کہتے ہیں) بہت مشہور ہے جو مجھے بہتر لگا۔ حیدرآباد کے جس پکوان کا میں فین ہوں وہ ہے بریانی، اور وہ بھی سبحان اللّہ بریانی والوں کی جو ریلوے اسٹیشن کے پاس سے ملتی ہے۔ اس کی خاص بات کٹی ہوئی ہری مرچ ہے جو اس کے ذائقے کو سوپر سے بھی اوپر بناتی ہے۔ یہاں 114 سال پرانی بومبے بیکری کے کیک اور پیسٹریز بھی ملک بھر میں مشہور ہیں جنہیں لینے کے لیے باقاعدہ لائنیں لگتی ہیں۔ یہاں کا اسٹریٹ فوڈ بھی ایکسپلور کرنے کے قابل ہے جس میں کئی قسم کی زبردست چیزیں شامل ہیں۔ میرپورخاص کے ہوٹل مناسب ہی ہیں یہاں زیادہ اچھا ناشتہ ملتا ہے۔ بہتر ہے آپ حیدرآباد سے کھا کر نکلیں، لیکن گذشتہ سال میں نے یہاں دال کی کچوری کھائی تھی وہ مزیدار تھی۔  اس کے بعد ہے مِٹھی۔  مٹھی سے آپ پنیر کے بنے پکوان اور گوشت دونوں کھا سکتے ہیں۔ لیکن چوںکہ یہ ہندو اکثریتی شہر ہے سو یہاں دودھ اور پنیر کے پکوان زیادہ اچھے ملتے ہیں۔ میں نے اپنے دونوں اسفار میں آتے جاتے یہاں پنیر پر فوکس رکھا اور پنیر کی ہر ڈش (بشمول پالک پنیر، پنیر جلفریزی، پنیر ہانڈٰی، پنیر کڑاہی، پنیر) کھائی جو بہترین تھی۔ کھانے کے لیے میری طرف سے ڈائمنڈ ہوٹل زیادہ ریکمنڈڈ ہے جس کی صفائی ستھرائی اور سروس دونوں بہترین ہیں۔ یہاں کی لسی اور دہی کا تو میرا حافظ آبادی دوست انوار بھی فین ہو گیا تھا۔ اتنا خالص دہی ہے یہاں کا۔ اس کے علاوہ مٹھی کا پپیتا جوس اور کچھ پھل بھی اچھے ہوتے ہیں۔  آگے چلیں تو اسلام کوٹ اور نگرپارکر واقع ہے جہاں سبزیاں زیادہ مقبول ہیں۔ یہاں کی ریڑھیاں رنگ برنگی سبزیوں اور پھلوں سے لدی ملیں گی۔ تربوز، ود، کیر، پیلو، کھجور اور کیلا یہاں اچھا مل جاتا ہے۔ یہاں چوںکہ مسلم اور ہندو دونوں ہوٹل موجود ہیں۔ بریانی بھی مل جاتی ہے لیکن وہ ذائقہ نہیں جو حیدرآباد میں ملتا ہے۔ نگرپارکر میں بھنڈی، دال، سبزی، مونگرے، کھمبیاں اور چِبڑ (ایک مقامی سبزی) بھی کھائے جاتے ہیں۔ چائے، خالص دودھ، پھل بھی ہر جگہ دست یاب ہیں۔ کھانے کا کوئی بڑا اور مشہور ہوٹل نہیں ہیں لیکن ڈھابے بکثرت ہیں۔ روپلو کولہی ریزارٹ میں آرڈر پر اچھا کھانا مل جاتا ہے جیسے دال، چاول، مرغ کڑاہی وغیرہ۔ مجھے ہمارے کارونجھر ریسٹ ہاؤس کی کڑاہی بھی اچھی لگی۔ سموسے، پکوڑے، جلیبی، مٹھائی جیسی سنیکس بھی دست یاب ہیں۔ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اس دوردراز جگہ پر بھی کھانے کا کوئی مسئلہ نہیں۔ بس ہوٹل رات جلدی بند ہوجاتے ہیں اور خالص کولڈ ڈرنک کا کوئی برینڈ یہاں دست یاب نہیں۔ میرا نگرپارکر کا مقامی دوست بھی اپنے گھر سے ہمارے لیئے کچھ دیسی کھانا بنوا کے لایا تھا جس میں چبڑ کی سبزی، جو کی روٹی اور تل گڑ کے لڈو شامل تھے۔ تل گڑ کے لڈو بہت لذیذ تھے۔ عمرکوٹ کا کھانا بھی مناسب ہے۔ مجھے یہاں کی بریانی بہت اچھی لگی ساتھ ہی ایک بیکری ہے، نیو ایانش نام کی ان کے پیڑے اور مٹھائی بھی کمال تھی۔ یہ لوگ ایک دیسی قسم کا پیزا بناتے ہیں وہ بھی کھانا لائق ہے۔ عام پیزا سے ہٹ کے ذائقہ ہے اس کا۔ یہاں ایک اور بڑا مسئلہ پینے کے پانی کا ہے۔ مٹھی کے بعد آپ کو ہر جگہ منرل واٹر پر گزارا کرنا پڑے گا۔ یہاں کا پانی ہر مسافر کو راس نہیں اس لیے میرا مشورہ ہے اپنے پانی کا ذخیرہ ہر جگہ وافر رکھیں کہ اسی پر آپ کی صحت منحصر ہے۔ نیز یہاں کی کھمبیاں کھانے سے پہلے دو بار سوچیں، وہ ہر مسافر کو راس نہیں آتیں۔ پیٹ خراب ہو سکتا ہے۔ اس لیے ایڈونچر کی بجائے پرہیز کریں تو اچھا ہے۔  جلدازجلد تھر جانے کا سوچیں کیوںکہ جاڑے کے کچھ ہی دن باقی ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل