Tuesday, March 03, 2026
 

رات دیر سے سونے کی عادت صحت کےلیے خطرناک، ماہرین کی وارننگ

 



بدلتے طرزِ زندگی اور موبائل و دیگر اسکرینز کے بڑھتے استعمال نے لوگوں کے سونے جاگنے کے معمولات کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ ماہرین صحت خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کوئی شخص مستقل طور پر رات 11 بجے کے بعد سونے کا عادی ہو جائے تو یہ عادت مستقبل میں مختلف جسمانی اور ذہنی بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے، جن میں ذیابیطس، دل کے امراض اور ذہنی دباؤ شامل ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق صحت مند زندگی کے لیے روزانہ 7 سے 9 گھنٹے کی معیاری نیند نہایت ضروری ہے۔ نیند کے دوران جسم اور دماغ خود کو بحال کرتے ہیں، ہارمونز کا توازن برقرار رہتا ہے اور جسم سے مضر مادوں کے اخراج کا عمل بہتر ہوتا ہے۔ اگر نیند پوری نہ ہو یا اس کا معیار خراب ہو تو دن بھر تھکن، چڑچڑاپن اور توجہ میں کمی جیسی مشکلات سامنے آ سکتی ہیں۔ دل کے امراض کے حوالے سے تحقیق کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ رات 10 سے 11 بجے کے درمیان سونا دل کی صحت کے لیے زیادہ موزوں سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس دیر سے سونے کی عادت جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی کو متاثر کرتی ہے، جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر، شوگر لیول اور دل کی دھڑکن کے نظام میں بے ترتیبی پیدا ہو سکتی ہے اور طویل مدت میں امراضِ قلب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو افراد رات گئے تک جاگتے ہیں وہ اکثر غیر صحت بخش اسنیکس کا استعمال کرتے ہیں، جس سے وزن میں اضافہ اور میٹابولزم کی رفتار میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہاضمے کے مسائل اور توانائی کی کمی بھی سامنے آ سکتی ہے، جس سے روزمرہ کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ رات دیر تک جاگنا ذہنی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے کیونکہ دماغ کو مکمل آرام نہیں مل پاتا۔ اس سے ذہنی دباؤ، بے چینی اور موڈ میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ طلبا اور ملازمت پیشہ افراد میں توجہ کی کمی اور کام کی صلاحیت میں کمی بھی دیکھی گئی ہے۔ مسلسل نیند کی کمی مدافعتی نظام کو بھی کمزور کر دیتی ہے، جس سے عام بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل اور دیگر اسکرینز کا استعمال محدود کر دیا جائے اور روزانہ سونے اور جاگنے کا ایک مقررہ وقت اپنایا جائے۔ اس کے علاوہ کیفین اور بھاری غذا سے پرہیز، پرسکون اور تاریک ماحول میں نیند اور باقاعدہ روٹین اختیار کرنا ایسی احتیاطی تدابیر ہیں جو مستقبل میں بڑی بیماریوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل