Monday, March 09, 2026
 

ٹرمپ کے اہداف!

 



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش کے مطابق ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہادت کے بعد ’’رجیم چینج‘‘ کی کوئی صورت بنتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ نہ ہی ٹرمپ کے مطالبے پر ایرانی عوام نے اپنی حکومت کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے اقتدار پر قبضے کا ٹرمپ کا خواب شرمندہ تعبیر کیا بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ایرانی عوام اپنی تاریخ کو دہراتے ہوئے امریکا و اسرائیل کی جارحیت کے خلاف مزاحمت کا استعارہ بن گئے۔ گزشتہ دس روز سے جاری جنگ کے دوران امریکا و اسرائیل نے ایران پر شدید بمباری کرکے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔ صدر ٹرمپ کے بقول ایران کا دفاعی نظام تباہ کر دیا ہے، سب کچھ ختم ہو چکا ہے اور جلد ایران یہ جنگ ہار جائے گا، لیکن بظاہر ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ کیوں کہ ایرانی میزائل نظام اب بھی پوری سرعت کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ ایران نے اسرائیل پر ہائپر سونک میزائل سے حملے کرکے امریکا کو یہ پیغام دیا ہے کہ امریکا اس کی میزائل قوت کو نشانہ بنانے میں ناکام رہا ہے۔ امریکی فوجی ماہرین کے مطابق ایران کے ہائپر سونک میزائل 9,000 سے 11,000 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہیں اور انھیں روکا نہیں جا سکتا اور یہ میزائل ٹرکوں سے داغے جاتے ہیں۔ امریکی ماہرین اس جنگ کو مشکل قرار دے رہے ہیں۔ امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں دنیا بھر کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے سربراہ نے ایران کے خلاف جنگ کو غیر ضروری قرار دے دیا ہے۔ امریکا نے گزشتہ ربع صدی کے دوران افغانستان سے لے کر عراق تک اور لیبیا سے لے کر شام تک غیر ضروری جنگوں کا آغاز کیا۔ صدر ٹرمپ اپنے مختلف انٹرویوز میں خود ان جنگوں کو امریکی صدور کے غلط فیصلے اور پاگل پن قرار دے چکے ہیں۔ 2001 ء میں سانحہ نائن الیون کے بعد اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔ پاکستان کو پتھر کے زمانے میں پہنچانے کی دھمکیاں دے کر عالمی جنگ میں ’’فرنٹ لائن اتحادی‘‘ بننے پر مجبور کیا۔ یہ جنگ افغانستان میں لڑی گئی۔ 20 سال جاری رہنے والی اس جنگ میں 2 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور امریکا کو ڈھائی کھرب ڈالر سے زائد رقم خرچ کرنا پڑی، اس کے باوجود امریکا کو افغانستان سے پسپا ہو کر عالمی رسوائی و بدنامی کا داغ لیے نکلنا پڑا۔ صدر بش نے 2003 میں عراق میں صدام حسین پر یہ جھوٹا اور بے بنیاد الزام لگا کر کہ وہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے کیمیائی ہتھیار استعمال کر سکتا ہے عراق پر حملہ کر دیا جس میں تین لاکھ کے لگ بھگ لوگ مارے گئے، صدام حسین کو معزول کرکے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ امریکا نے لیبیا میں مداخلت کرکے معمر قذافی کو اقتدار سے بے دخل کیا اور شام میں مداخلت کرکے اسد حکومت کا خاتمہ کیا۔ اب ایران کو تختہ مشق بنا لیا ہے۔امریکا اور اس کے بغل بچہ ملک اسرائیل کا ایک ہی مقصد ہے کہ وہ تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ملکوں میں اپنی مرضی کی کٹھ پتلی حکومتیں قائم کرکے ان کے تیل کی ذخائر پر قابض ہو جائیں اور عرب ممالک کے حکمران ان کے مطیع و فرماں بردار بن کر ان کے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی تکمیل میں رکاوٹ نہ بنیں اور خودمختار فلسطینی ریاست کے مطالبے سے دستبردار ہو جائیں۔ ٹرمپ کا فلسطین کے حوالے سے امن بورڈ اسی صیہونی منصوبے کی کڑی ہے۔ انڈونیشیا کے صدر پر ابووو نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر امن بورڈ خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام سے پیچھے ہٹا تو امن بورڈ سے نکل جائیں گے۔ اس ضمن میں پاکستان، سعودی عرب اور دیگر عرب ملکوں نے ابھی اپنا پالیسی موقف واضح نہیں کیا تاہم صورت حال کا تقاضا تو یہی ہے کہ پاکستان اور دیگر عرب ممالک بطور احتجاج ٹرمپ کے امن بورڈ سے نکل جائیں۔ بالخصوص ٹرمپ کو امن بورڈ دینے کی سفارش کا کوئی جواز نہیں۔ کیوں کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے بعد اب کیوبا کو اپنا اگلا ہدف بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ گویا وہ اپنے دعوے کے مطابق دنیا میں جنگیں رکوانے کی بجائے نئی جنگوں کا آغاز کر رہے ہیں اور اس کا اتحادی اسرائیل قدم قدم پر امریکا کے ساتھ کھڑا ہے۔ ایران کے بعد اسرائیل نے اب لبنان پر حملے شروع کر دیے ہیں جو اس امر کا عکاس ہے کہ امریکا اور اسرائیل جنگ کے دائرہ کو وسیع کر رہے ہیں جو تیسری عالمی جنگ کے آغاز کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔امریکا ایران جنگ نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹیں کریش کر گئی ہیں۔ ایران نے دنیا کو 40 فی صد تیل فراہم کرنے والی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ قطر نے ایل این جی کی فراہمی روک دی ہے۔ خلیجی ممالک کی قومی معیشتیں دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں۔ امریکی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک امریکا سے اپنے تجارتی معاہدے ختم کرنے اور سرمایہ نکالنے پر غور کر رہے ہیں جس کے باعث امریکا میں تقریباً 2 ہزار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ پاکستان پر بھی جنگ کے منفی اثرات پڑنا شروع ہو گئے ہیں اور ملک میں توانائی کا بحران جنم لے سکتا ہے۔ حکومت نے فوری طور پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے اور ہفتہ وار قیمتوں کے جائزے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت پاکستان سفارتی سطح پر امریکا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں۔ پاکستان کشیدگی ختم کرانے کے لیے کوشش کر رہا ہے۔ گزشتہ سال جون میں بھی پاکستان کی کوششیں ثمر آور ثابت ہوئی تھیں اور امریکا ایران جنگ رک گئی تھی، لیکن اس مرتبہ صورت حال یکسر مختلف دکھائی دے رہی ہے۔ بقول صدر ٹرمپ کچھ ممالک اگرچہ ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں تاہم جنگ میں ایران کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں، ایران غیر مشروط ہتھیار ڈال دے تو معاہدہ ہوگا ورنہ نہیں۔ ٹرمپ ایران میں اپنی مرضی کی قیادت لانا چاہتے ہیں، انھوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ خامنہ ای کا بیٹا مجتبیٰ خامنہ ای کسی صورت قبول نہیں۔ ایران کو اپنے نئے رہنما کے انتخاب میں مجھے شامل کرنا ہوگا۔ صدر ٹرمپ کا مطالبہ کشیدگی کو ہوا اور جنگ کو طول دے گا جس کے باعث پوری دنیا کو نئے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صورت حال کی نزاکت اور سنگینی کا تقاضا یہ ہے کہ اقوام متحدہ اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی، چین، روس، برطانیہ، فرانس، پاکستان اور دیگر عالمی برادری کو سفارتی سطح پر مشترکہ اور عملی طور پر جوہری کوششیں کرنا ہوں گی۔ امریکا پر پوری قوت کے ساتھ ایران کے خلاف کشیدگی کے خاتمے اور جنگ رکوانے کے لیے سخت دباؤ ڈالنا چاہیے۔ بصورت دیگر مشرق وسطیٰ کا امن برباد اور ٹرمپ کے قدم اپنے اگلے اہداف کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے اور دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچ جائے گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل