Monday, March 09, 2026
 

غزوۂ بدر

 



نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم کے مکہ سے مدینہ ہجرت کے دوسرے سال سترہ رمضان المبارک کو غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ بدر ایک بستی کا نام ہے جو مدینہ منورہ سے تقریباً 120 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ بستی بدر بن حارث سے منسوب ہے جس نے یہاں کنواں کھودا تھا یا بدر بن مخلد بن نصر بن کنانہ سے منسوب و مشہور ہے جس نے اِس جگہ پڑاؤ کیا تھا۔ بعض کہتے ہیں وہاں ایک بوڑھا شخص مدتوں سے رہتا تھا جس کا نام بدر تھا اِس بنا پر اِس بستی کو اِسی کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔ غزوہ بدر اسلام کی تاریخ کا پہلا فیصلہ کن معرکہ ہے۔ قریش کا ایک قافلہ جو مکے سے شام کی طرف جاتے ہوئے نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم کی گرفت سے بچ نکلا تھا، یہی قافلہ جب مکہ واپس آنے لگا تو رسول اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم نے حضرت طلحہ بن عبیداللّہ اور سعید بن زید رضی اللّہ عنہما کو اس کا پتا لگانے کے لیے روانہ فرمایا۔ یہ دونوں حضرات مقام حورا تک جا پہنچے اور رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم کو قافلے کی اطلاع دی۔ قریش کے اس قافلے میں بہت زیادہ سازوسامان تھا۔ ایک ہزار اونٹ تھے، جن پر کم از کم پچاس ہزار دینار تھے لیکن اس کی حفاظت کے لیے صرف چالیس افراد تھے۔ یہ اہلِ مدینہ کے لیے ایک بہترین موقع تھا کہ مالِ غنیمت حاصل کرلیا جائے۔ چناںچہ صحابہ کرامؓؓ کو نکلنے کا حکم دیا گیا لیکن کسی پر پابندی عائد نہیں کی گئی، کیونکہ بہت بڑی جنگ کا ارادہ نہ تھا۔  مسلمانوں کی تعداد 313  تھی جن میں ستتر (77)  مہاجرین تھے اور دو سو چھتیس (236)  انصار تھے۔ اِن تین سو تیرہ (313)  میں سے آٹھ صحابہ کرام وہ تھے جو کسی عذر کی بنا پر میدانِ بدر میں حاضر نہ ہوسکے مگر اموالِ غنیمت میں ان کو حصہ عطا فرمایا گیا۔ ان میں سے تین مہاجرین تھے ایک امیرالمومنین حضرت سیدنا عثمان بن عفانؓ تھے جو حضورصلی اللّہ علیہ وسلم کے حکم سے اپنی زوجہ محترمہ حضرت سیدہ بی بی رقیہؓ کی علالت کی وجہ سے تیمار داری میں رکے تھے۔ دوسرے حضرت سیدنا طلحہؓ اور حضرت سیدنا سعید بن زید ؓتھے جو مشرکین مکہ کے قافلے کی جستجو میں گئے تھے۔ اِن کے علاوہ پانچ انصار تھے۔ اِس غزوہ میں مسلمانوں کے پاس صرف 2 گھوڑے، 70 اونٹ 6  زرہیں اور8  شمشیریں تھیں۔ گھوڑے حضرت زبیرؓ بن عوام اور حضرت اسود کندی ؓ کے پاس موجود تھے۔ ایک ایک اونٹ پر تین تین افراد کو سوار کیا گیا جو باری باری بیٹھتے تھے۔ چناںچہ نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم حضرت سیدنا علیؓ اور حضرت مرثد غنوی ایک اونٹ پر اور حضرت سیدنا ابوبکرصدیقؓ، حضرت عمروؓ اور حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ دوسرے پر باری باری سوار ہوتے تھے۔  ؎تھے ان کے پاس دو گھوڑے چھ زرہیں آٹھ شمشیریں پلٹنے آئے تھے یہ لوگ دنیا بھر کی تقدیریں نہ تیغ و تیر پہ تکیہ، نہ خنجر پر نہ بھالے پر بھروسا تھا تو اِک سادی سی کالی کملی والے پر (حفیظ جالندھری)  قافلہ کفار کی صورتِ حال یہ تھی کہ ابوسفیان (جو فتح مکہ کے بعد ایمان لے آئے اور صحابیؓ کے درجے پر فائز ہوئے) جو کہ حد درجہ محتاط تھا۔ قدم قدم پر وہ خبریں وصول کرتا اور پیش قدمی کرتا رہا۔ ابوسفیان نے ایک قاصد مکے کی جانب بھیجا، جس نے مکے والوں کو مدد کے لیے پکارا۔ چوں کہ قافلے میں سب کا کچھ نہ کچھ سامان موجود تھا تو اس لیے مدد کے لیے ہر گھر سے کوئی نہ کوئی نکلا۔ سوائے ابولہب کے جس نے اپنے مقروض کو جنگ میں بھیجا، تقریباً سبھی بڑے بڑے سردار اس میں شامل تھے۔ ابوسفیان نے بعد میں یہ خبر بھیجی کے قافلہ بچ نکلا ہے اور مدد کے لیے نہ آئیں۔ لیکن ابوجہل ایک متکبر شخص تھا، اس نے کہا آج ہم مسلمانوں کو سبق سکھا دیں گے۔ قریش مکمل تیاری کے ساتھ نکلے تھے۔ ابتدا میں تعداد تیرہ سو تھی۔ ایک ہزار گھوڑے تھے اور اونٹ کثیر تعداد میں موجود تھے، اس لیے ان کی تعداد معلوم نہ ہوسکی۔ قریش کی بنو بکر سے دشمنی چل رہی تھی۔ انھیں مکے پہ حملے کا خدشہ محسوس ہوا۔ لیکن شیطان مردود، سردارِ کنانہ سراقہ بن مالک کی شکل میں آیا اور کہا: میں بھی تمہارا رفیق کار ہوں، اور اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ بنو کنانہ تمہارے خلاف کوئی بھی ناگوار کام نہ کریں گے۔ یہ سن کے مکہ والوں کے حوصلے بلند ہوئے اور وہ ابوجہل کی قیادت میں جنگ کے لیے روانہ ہوئے۔ ادھر رسول اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم نے حالات کا بغور مشاہدہ کیا تو یہ محسوس کیا کہ اب ایک عظیم الشان ٹکر ہونے والی ہے۔ آپ صلی اللّہ علیہ وسلم نے مجلس شوری بلائی اور عام آدمیوں اور کمانڈروں کے ساتھ اظہارِخیال کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمررضی اللّہ عنھما نے نہایت اچھی بات کہی۔ حضرت مقداد بن عمرو ؓکچھ اس طرح گویا ہوئے:’’خدا کی قسم! ہم آپ صلی اللّہ علیہ وسلم سے وہ بات نہیں کہیں گے جو بنی اسرائیل نے حضرت موسی علیہ السلام سے کہی تھی کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم یہیں بیٹھے ہیں۔‘‘ چوں کہ یہ سب مہاجر تھے تو رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ انصار بھی کچھ کہیں، تو رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے دوبارہ ارشاد فرمایا کہ مجھے مشورہ دو۔ حضرت سعد بن معاذؓؓ نے یہ بات بھانپ لی۔ انھوں نے کہا: ’’ہم نے تو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آپ جو کچھ لائے ہیں سچ ہے اور ہم نے آپ صلی اللّہ علیہ وسلم کو سمع و اطاعت کا عہد و میثاق دیا ہے، لہٰذا یارسول اللّہ! آپ کا جو ارادہ ہے اس کی طرف پیش قدمی جاری رکھیے۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللّہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اگر آپ صلی اللّہ علیہ وسلم کے ساتھ سمندر میں بھی کود جانا پڑا تو کود جائیں گے۔ ہمارا ایک آدمی بھی پیچھے نہ رہے گا۔‘‘ حضرت سعدؓ کی یہ بات سن کر رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ آپ پر نشاط طاری ہوگئی۔ آپ صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا: چلو اور خوشی خوشی چلو۔ لشکرِاسلام نے بدر کے نزدیک ایک چشمے پر پڑاؤ ڈالا۔ رات کو اللّہ تعالی نے بارانِ رحمت کا نزول فرمایا، جو کافروں پر موسلا دھار برسی لیکن مسلمانوں پر پھوار بن کر برسی اور انہیں پاک کردیا۔  ریت پر قدم جمنے کے قابل ہوگئے۔ لشکراسلام نے بدر کے قریب ترین چشمے پر قدم جمالیے اور باقی سارے چشمے بند کردیے۔ اس کے بعد حضرت سعد ؓکے مشورے پر رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم کے لیے ایک چھپر تعمیر کیا گیا۔ اس پر رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے انہیں دعا دی۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے لشکر کی ترتیب فرمائی اور میدان جنگ میں تشریف لے گئے اور فرماتے رہے کہ یہ جگہ فلاں کی قتل گاہ ہے اور یہ فلاں کی۔ 17رمضان المبارک 2 ہجری کا دن تھا۔ لشکر اسلام اور لشکر کفار آمنے سامنے ہوئے۔ ایک طرف ایک ہزار کا لشکر اور سازوسامان سے بھرپور اور دوسری طرف 313 اور صرف دو گھوڑے اور ستر اونٹ۔ صحابہ کرامؓؓ کا ایمانی جذبہ تھا کہ تعداد میں کمی کو نہیں دیکھا بلکہ اپنے ایمان کی حرارت کو دیکھا ۔ نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم نے میدانِ جنگ میں صفیں درست فرمائیں۔ پھر جب صفیں درست ہوچکیں تو رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنگ تب تک شروع نہ کرنا جب تک آخری ااحکام موصول نہ ہوجائیں۔  اس معرکے کا پہلا شکار اسودبن عبد الاسد مخزومی تھا۔ یہ بڑا اڑیل اور طاقت ور تھا، یہ کہتا ہوا نکلا کہ اللہ کی قسم! میں ان کے حوض کا پانی پی کر رہوں گا، یا اسے ڈھا دوں گا یا اس کے لیے جان دے دوں گا۔ سید الشہداء حضرت حمزہ ؓنے اسے کیفر کردار تک پہنچا دیا۔ اس سے جنگ بھڑک اٹھی۔ اس کے بعد قریش کے تین بڑے سردار عتبہ، شیبہ اور ولید نکلے۔ انہوں نے مسلمانوں کو للکارا تو مقابلے میں رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے حضرت عبیدہ بن حارثؓ ، حضرت حمزہؓ اور حضرت علی ؓ کو بھیجا۔ حضرت حمزہ ؓاور حضرت علی ؓ نے فورا اپنے شکار کو ختم کر دیا لیکن حضرت عبیدہؓ کے ساتھ بھر پور مقابلہ ہوا۔ دونوں اپنے شکار سے فارغ ہوکر حضرت عبیدہ ؓکے شکار کی جانب لپکے اور اسے بھی قتل کردیا۔ حضرت عبیدہ ؓکو زخم آئے اور آواز بند ہوگئی، بعد میں اسی زخم سے واپسی پر آپ کی شہادت ہوئی۔ فضائے بدر کو اک آپ بیتی یاد ہے اب تک یہ وادی نعرہ توحید سے آباد ہے اب تک اس کے بعد کفار نے یک بارگی حملہ کردیا ان کے حواس کھو چکے تھے کیوںکہ ان کے تین بڑے سردار مارے جا چکے تھے۔ دوسری طرف مسلمان اللّہ تعالٰی کی مدد و نصرت سے پر سکون تھے۔ رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: یااللّہ! تو نے جو مجھ سے وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما دے۔ یااللّہ! میں تجھ سے تیرے وعدے کا سوال کرتا ہوں۔ اللّہ تعالٰی نے ایک ہزار فرشتے مدد کے لیے نازل فرمائے۔ صحابہ کرام ؓفرماتے ہیںکہ ہماری تلوار پہنچنے سے پہلے ہی کفار کی گردن کٹ چکی ہوتی تھی اور یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ قتل کسی اور نے کیا ہے۔ جنگ میں کفار کا لشکر تتر بتر ہوگیا۔ حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ روایت کرتے ہیں کہ میرے اردگرد دو نو عمر سپاہی تھے۔ ایک کا نام معاذ اور دوسرے کا معوذ تھا، انہوں نے مجھ سے ایک دوسرے کو چھپاتے ہوئے ایک ہی بات پوچھی کہ چچا ابوجہل کدھر ہے؟ میں نے ابوجہل کی طرف اشارہ کردیا۔ دونوں اس کی طرف لپکے اور ابوجہل کو قتل کردیا۔ حضرت معوذ اسی معرکے میں شہید ہوئے۔ رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے جنگ کے اختتام پر فرمایا کہ ابوجہل کا کیا بنا؟ صحابہؓ ابوجہل کو ڈھونڈنے نکلے۔ حضرت عبداللّہ ابن مسعود ؓنے دیکھا کہ ابوجہل کی سانسیں ابھی چل رہی ہیں۔ آپ نے ابوجہل کا سر کاٹا اور رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے نعش دکھاؤ، نعش دیکھ کر رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’یہ میری امت کا فرعون ہے۔‘‘ جنگ اپنے اختتام کو پہنچی۔ مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ کفار کے ستر افراد قتل اور ستر قید ہوئے۔ 14صحابہ کرام رضوان اللّہ علیہم اجمعین نے جامِ شہادت نوش کیا اور ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید ہوگئے۔ ہمیں اس معرکے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے آج ہمارے پاس سب کچھ ہے جدید ٹیکنالوجی موجود ہے لیکن اگر نہیں ہے تو بس وہ 313 جیسا لشکر و ایمان نہیں ہے۔  ؎ہتھیار ہیں اوزار ہیں افواج ہیں لیکن وہ تین سو تیرہ کا لشکر نہیں ملتا  اگر ایمان بدر والوں جیسا ہوتو فرشتے اب بھی مدد ونصرت کو آسکتے ہیں فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل