Loading
29دسمبر2025 کو صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو کے مابین فلاڈلفیا میں ایک اہم ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں نتن یاہو کے اصرار پرطے ہوا کہ دونوں ممالک ایران پر حملہ کر دیں گے۔ملاقات کے نتیجے میں ہونے والے اس فیصلے کو پردے میں رکھنے کے لیے امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کیے۔یہ مذاکرات محض ایک دکھاوا تھے۔ان کی آڑ میں حملے کی پلاننگ،ملٹری بلڈ اپ اور وار مشین کو اپنی اپنی جگہوں پر ڈپلائے کرنا تھا۔یہ عمل مکمل کرنے کے ساتھ ہی ایران پر حملہ کر دیا گیا۔ایران نے ابتدائی نقصانات اُٹھا کر اسرائیل،امریکی حملہAbsorbکر لیا ہے۔دنیا حیران و ششدر ہے کہ ایران پر ہر سمت سے آگ برس رہی ہے لیکن جھک نہیں رہا،ایرانی ریاست قائم ہے، اس کے ادارے کام کر رہے ہیں، ایرانی عوام حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑے نہیں ہوئے بلکہ زندگی رواں دواں ہے۔
بازار کھلے ہیں۔کہیں پینکPanicخریداری نہیں ہو رہی۔ہر کوئی اپنی باری پر خرید رہا ہے۔دوائیں دستیاب ہیں، بازاروں میں معمول کی گہما گہمی ہے۔ہر ایک اپنی بساط کے مطابق اپنے وطن کی جس طرح خدمت کر سکتا ہے ،کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ایران کے سب سے اعلیٰ انتخابی ادارے مجلسِ خبرگان نے طویل مشاورت کے بعد جناب خامنہ ای کی جگہ نیا رہبرَ معظم چن کر امریکا اسرائیل و مغرب کو حیرت زدہ کر دیا ہے کیونکہ نئے رہبر کوئی اور نہیں بلکہ مرحوم خامنہ ای کے فرزند جناب مجتبیٰ خامنہ ای ہیں۔نئے سپریم لیڈر کے انتخاب سے عیاں ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجودState apparatusابھی تک برقرار اور مکمل فعال ہے۔
اسرائیل اور امریکا دونوں مختلف اہداف لیے اس جنگ میں کودے۔امریکا کا کوئی واضح ہدف نہیں تھا۔صدر ٹرمپ جب بھی بیان دیتے ہیں کوئی انوکھا اور نیا ہدف سامنے لے آتے ہیں۔ایک امریکی لا میکر کے بقول ان کا ہدف ہر گھنٹے بدل رہا ہے۔صاف ظاہر ہے امریکا نے یہ جنگ نتن یاہو کے کہنے پر چھیڑی اس لیے امریکا کا اپنا کوئی واضح ہدف نہیں ہو سکتا۔ایک امریکی ہدف بہرحال نظر آتا ہے کہ ہر صورت میں یہودی صیہونی ریاست اور اس کے انتہائی Ambitious وزیرِ اعظم کا حکم ماننا ہے۔ البتہ نتن یاہو کا ہدف ہے کہ وہ ایران کی موجودہ حکومت کو گرا کر ایران کے ٹکڑے اور ملیامیٹ کرنا چاہتا ہے۔وہ بہت لمبے عرصے سے یہ ہدف زبان پر بھی لا رہا ہے۔
اسرائیل، امریکا کا اندازہ تھا کہ جناب خامنہ ای کی شہادت کے ساتھ ہی ایرانی عوام اُٹھ کھڑے ہوں گے اور حکومت گر جائے گی۔جنگ شروع ہوئے کئی روز ہو گئے ہیں اور ایرانی بہت پامردی اور عقل و فہم کے ساتھ مزاحمت کر رہے ہیں۔اسرائیلی موساد نے کردوں کے اندر گھس کر بہت انویسٹ کیا ہے۔یوں اسرائیل اور امریکا خیال رکھتے تھے کہ کرد گریٹر کردستان کا علم بلند کیے ایرانی ریاست سے ٹکرا جائیں گے۔وہ یہ بھول گئے کہ امریکا کئی مرتبہ کردوں کو نظر انداز کر کے اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔امریکا و اسرائیل ایرانی بلوچوں سے بھی بڑی امید لگائے ہوئے تھے۔ان کے خیال میں ایرانی بلوچ پاکستانی بلوچوں کے ساتھ مل کر اورموقع دیکھ کر علمِ بغاوت بلند کر دیں گے، حالانکہ ایرانی بلوچ اپنی شناخت مذہب پر رکھتے ہیں۔ وہ حنفی سنی ہونے پر نازاں ہیں۔ان کے مقابلے میں پاکستانی بلوچ اپنی شناخت زبان کی بنیاد پر رکھتے ہیں۔اس طرح ایرانی بلوچوں اور پاکستانی بلوچوں میں بہت کم قدرِ مشترک ہے۔اسی لیے نہ تو کردوں نے اور نہ ہی بلوچوں نے ابھی تک بغاوت کی ہے۔
ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور خلیج فارس میں متعین امریکی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی Assets کو اس لیے نشانہ بنایا گیا تاکہ یہ امریکا،اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے کام نہ آ سکیں۔ایران نے بہت کامیابی سے قطر، بحرین، کویت،اردن ،عراق اور امارات میں امریکی کمیونی کیشن آلات کو نشانہ بنا کر ناکارہ کر دیا۔یہ بہت قیمتی اور کارآمد کمیونیکیشن آلات تھے جو اب ناکارہ ہو چکے ہیں۔ان کو جلدی سے ری پلیس بھی نہیں کیا جا سکتا اور اگر کرنے کی کوشش ہو گی تو ایران دوبارہ حملہ کر کے ناکارہ بنا سکتا ہے۔قطر میں لگے ایسے سسٹم کی کم از کم لاگت1.1ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔قطر اور بحرین میں ناکارہ ہو جانے والے سسٹم کو دوبارہ بنانے کے لیے 77کلو گرام کیلیم دھات درکار ہو گی جس کا 98فی صد صرف چین کے پاس ہے۔
قطر میں لگے سسٹم کو بنانے میں پانچ سے چھ سال اور بحرین میں لگے سسٹم کو دوباہ بنانے میں ایک سے دو سال درکار ہوں گے۔قطر میں لگے سسٹم سے امریکا 5ہزار کلو میٹر دور تک دیکھ اور سن سکتا تھا۔ان Assets کے ناکارا ہونے سے جو مالی نقصان ہوا وہ تو اپنی جگہ لیکن امریکا اب بہت دور تک دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے۔۔ان حملوں سے ایران نے خلیجی ممالک کو یہ باور کرایا کہ امریکی اڈے اپنی حفاظت نہیں کر سکتے تو ان ممالک کی کیا حفاظت کریں گے۔الٹا یہ اڈے خلیجی ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔امریکا اب ان اڈوں کے لیے یوکرین،جنوبی کوریا اور جاپان میں لگے سسٹمز کو لانے کی سوچ رہا ہے مگر یوں کرنے سے ان ممالک میں دفاعی صلاحیت ڈاؤن گریڈ ہو جائے گی۔
جنگ صدر ٹرمپ کی خواہشات کے مطابق نہیں جا رہی۔جنگ شروع ہونے سے پہلے پینٹاگان میں 18امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایک رپورٹ دی کہ جنگ سے نہ تو ایران میں حکومت تبدیل ہو سکے گی اور نہ ہی ایران کولیپس کر جائے گا۔شاید اپنی عمر اور بیماریوں کی وجہ سے صدر ٹرمپ انھیں دی جانے والی بریفنگ میں پوری توجہ نہیں دے پاتے۔ وہ مزاجاً بھی بڑبولے ہیں۔ نیٹو ممالک اس جنگ میں کھل کر امریکا کا ساتھ نہیں دے رہے۔ صدر ٹرمپ اس مہینے کے آخر میں چین جا رہے ہیں۔ انھیں اپنے اس اہم دورے کو کامیاب بنانا ہے۔صدر ٹرمپ نے روس کے صدر پیوٹن سے ٹیلیفون پر بات کی ہے۔اس گفتگو کے فوراً بعد امریکی صدر نے کہا کہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔صدر ٹرمپ کی اپروول ریٹنگ میں کمی واقع ہوئی ہے۔
امریکا میں مڈ ٹرم الیکشن قریب آ لگے ہیں۔اگر جنگ جاری رہی اور امریکا و اسرائیل نقصانات اٹھاتے رہے تو جنگ کے برے اثرات سے ری پبلکن پارٹی کو بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ خلیجی عرب ممالک بھی صدر ٹرمپ پر جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہوں۔جنگ بھی لمبی اور تعطل کا شکار ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ٹرمپ کو جنگ ختم کرنے کے لیے فیس سیونگ چاہیے۔عین ممکن ہے کہ صدر ٹرمپ یک طرفہ طور پر اپنی فتح کا اعلان کر کے جنگ بندی کی طرف چلے جائیں۔یہی نظر آتا ہے کیونکہ اسرائیل و امریکا نے جو اندازے لگائے تھے وہ بالکل غلط ثابت ہو رہے ہیں۔وہ یہ جنگ نہیں جیت سکتے ۔امریکا و اسرائیل جارح ہیں انھیں فتح کی ٹرافی دکھانی ہے جب کہ ایران صرف دفاع کر رہا ہے اسے ٹرافی نہیں بلکہ حوصلہ دکھانا ہے۔اگر امریکا و اسرائیل واضح فتح نہیں دکھا سکتے اور جنگ اسٹیل میٹ پر ختم ہوتی ہے تو امریکا کی ہوا اکھڑ جائے گی۔آیندہ امریکا کا رعب، دھونس و دھاندلی نہیں چلے گی۔
اسرائیل یتیم ہو جائے گا۔ امریکی دفاعی چھتری کے بغیر اس کا جو حال ہوگا وہ سوچا بھی نہیں جا سکتا۔یہ بھی ممکن ہے کہ نیا ورلڈ آرڈر ابھر کر سامنے آئے جس میں چین بہت ممتاز ہو۔نتیجہ کچھ بھی ہو پہلے والی دنیا نہیں ہو گی۔تعطل کی صورت میں ایران کی پروفائل میں کئی گنا اضافہ ہو گا۔ایران مذہبی قیادت کے دور سے پاکستان کا ایک مشکل ہمسایہ رہا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل