Loading
امریکا وزیر توانائی کرس رائٹ نے ایران کے ساتھ جنگ اگلے چند ہفتوں میں ختم ہونے کا امکان ظاہر کردیا ہے جبکہ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے جنگ بندی کی درخواست یا مذاکرات کے تاثر کو رد کردیا ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ توقع ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اگلے چند ہفتوں میں ختم ہوجائے گی۔
انہوں نے کہا کہ تیل کی سپلائی دوبارہ معمول پر آئے گی اور توانائی کی قیمتیں بھی اس کے بعد گر جائیں گی۔
خبرایجنسی کے مطابق تین باخبر ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کی جانب سے سفارتی مذاکرات شروع کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا اور ایران نے بھی واضح کر دیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملے بند ہونے تک کسی بھی جنگ بندی کے امکان کو قبول نہیں کرے گا، جس سے اس تنازع کے جلد خاتمے کی امیدیں مزید کمزور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران نے جنگ بندی کی درخواست کبھی نہیں کی اور یہاں تک ہم نے مذاکرات کے لیے بھی نہیں کہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں امریکیوں کے ساتھ بات کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آرہی ہے کیونکہ ہم اس وقت ان کے ساتھ بات کر رہے تھے جب انہوں نے ہم پر حملہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکا کی خواہش کی جنگ ہے اور ہم اپنا دفاع جاری رکھیں گے۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ خود اس کے خواہاں نہیں ہیں کیونکہ شرائط ناکافی ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل