Loading
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ افغان حکومت نے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا کر سرخ لکیر پار کردی ہے۔ افغان حکومت دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کی یقین دہانیوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مصروف عمل ہے۔
دوسری جانب چین نے ہمسایہ ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرانے کے لیے متحرک سفارتی کوششیں بھی تیز کر دی ہیں، چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تنازع اور مسائل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اورمکالمے کے ذریعے طے کریں۔
حالیہ دنوں میں افغان سرزمین سے پاکستان کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے مبینہ ڈرون حملوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری کا یہ بیان کہ افغان حکومت نے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا کر’’ سرخ لکیر‘‘ عبور کر لی ہے، دراصل پاکستان کے اندر پائی جانے والی شدید تشویش اور غم و غصے کی عکاسی کرتا ہے۔
کسی بھی ریاست کے لیے اس کے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ سب سے پہلی ذمے داری ہوتی ہے، اگرکسی دوسرے ملک کی سرزمین سے ایسے اقدامات کیے جائیں جو شہری آبادی کو نشانہ بنائیں تو یہ نہ صرف بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ دو ہمسایہ ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو بھی بری طرح متاثرکرتا ہے۔ پاکستان کی قیادت کا یہ واضح پیغام کہ ملک کی مسلح افواج اور سیکیورٹی ادارے ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں، اس بات کی علامت ہے کہ قومی سلامتی کے معاملے میں پاکستان کسی قسم کی کمزوری دکھانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
دوسری جانب افغان حکومت کی طرف سے یہ مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ افغانستان کسی بھی ملک کے ساتھ فوجی تصادم نہیں چاہتا اور اس کی سرزمین کسی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے بیانات میں بظاہر کشیدگی کم کرنے کی خواہش جھلکتی ہے، تاہم زمینی حقائق اس سے مختلف نظر آتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان نے متعدد مرتبہ یہ شکایت کی ہے کہ افغان سرزمین پر موجود بعض شدت پسند گروہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ ان گروہوں کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہونے کے شواہد بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سرحدی علاقوں میں عدم استحکام اور سیکیورٹی کے مسائل ایک مستقل چیلنج بن چکے ہیں۔
افغانستان کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے اس کے تاریخی پس منظر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران افغانستان مسلسل جنگ، بیرونی مداخلت اور سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔ سوویت یونین کی مداخلت سے لے کر خانہ جنگی، طالبان کے پہلے دور حکومت، نائن الیون کے بعد امریکی قیادت میں نیٹو افواج کی موجودگی اور پھر 2021 میں امریکی انخلا کے بعد طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی تک افغانستان نے مسلسل ہنگامہ خیز حالات کا سامنا کیا ہے۔
اس طویل عرصے میں افغان ریاستی ادارے کمزور ہوتے گئے اور ملک کی معیشت اور سماجی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔ پاکستان اس پورے عرصے میں افغانستان کے حالات سے براہ راست متاثر ہوتا رہا ہے۔ لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی، سرحدی سکیورٹی کے مسائل اور دہشت گردی کے خطرات پاکستان کے لیے مستقل چیلنج بنے رہے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ مختلف ادوار میں پاکستان نے افغان مفاہمتی عمل کی حمایت کی اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن کے لیے سفارتی کوششیں بھی کیں۔
تاہم موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے، افغان سرزمین سے پاکستان کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی جو کوششیں ہوئی ہیں تو یہ ایک انتہائی تشویشناک پیش رفت ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں ۔ عالمی برادری پہلے ہی طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے معاملے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، افغانستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدگی میں ملوث ہے تو اس سے اس کی سفارتی تنہائی مزید بڑھ سکتی ہے۔
اس تناظر میں چین کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ چین نہ صرف پاکستان کا قریبی دوست اور اسٹرٹیجک شراکت دار ہے بلکہ افغانستان کے ساتھ بھی اس کے سفارتی روابط موجود ہیں۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای کا افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے رابطہ اور دونوں ممالک کو مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی تلقین اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ چین خطے میں استحکام کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
چین کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول علاقائی تعاون اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ جنوبی اور وسطی ایشیا میں امن کے بغیر ترقی کے بڑے منصوبے کامیاب نہیں ہو سکتے۔چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اس خطے کا ایک اہم منصوبہ ہے جس کے ذریعے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی روابط کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پورے خطے کو تجارتی اور اقتصادی مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں، اگر افغانستان میں امن اور استحکام قائم ہو جائے تو یہ ملک بھی علاقائی رابطوں اور تجارت کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔
چین اس امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے افغانستان کو علاقائی اقتصادی نظام میں شامل کرنے کا خواہاں ہے۔ تاہم اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات قائم کرے اور خطے میں دہشت گردی کو فروغ نہ دے۔افغانستان کو اپنے علاقے میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنا ہوں گی۔اگر افغانستان نے دہشت گردوں کی پشت پناہی کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی نہ کی تو افغانستان پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بنا رہے گا اور خطے کے دیگر ممالک اس صورتحال کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کریں گے۔
پاکستان کے لیے یہ ایک حساس مرحلہ ہے۔ ایک طرف اسے اپنی قومی سلامتی کا تحفظ یقینی بنانا ہے تو دوسری طرف خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنی ہیں۔ صدر آصف علی زرداری کا بیان اسی توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک جانب انھوں نے افغان حکومت کو واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان کے شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے، اور دوسری جانب انھوں نے اس عزم کا بھی اظہارکیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔موجودہ صورتحال میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ افغانستان دہشت گردی کے حوالے سے علاقائی ممالک کے لیے مسائل نہ پیدا کرے اور پورے خطے میں امن قائم کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کرے۔ سرحدی سلامتی، دہشت گردی کے خطرات اور باہمی اعتماد کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک جامع میکنزم تشکیل دیا جانا چاہیے۔ علاقائی طاقتوں، خصوصاً چین کی سفارتی معاونت بھی کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
میڈیا اور عوامی حلقوں کی ذمے داری بھی اس موقع پر کم نہیں ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے عوام کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔افغان حکومت کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیے کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کر کے افغانستان کبھی ترقی نہیں کرسکتا،اگر افغانستان نے ترقی کرنا اور تجارت کو فروغ دینا ہے تو اسے خطے کے ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرنا ہوں گے۔آخرکار یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار امن دونوں ممالک کے عوام کے بہتر مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔ جنگ اور کشیدگی نے پہلے ہی اس خطے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ افغانستان دہشت گردی کے خاتمے میں تعاون کر کے پورے خطے میں ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھ سکتا ہے جس سے امن، ترقی اور خوشحالی کو فروغ حاصل ہو۔
عالمی سیاست تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ معاشی تعاون، علاقائی رابطے اور مشترکہ ترقی اب بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی ستون بن چکے ہیں، اگر افغانستان اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں مثبت کردار ادا کرے تو نہ صرف اس کے اپنے عوام کو فائدہ ہوگا بلکہ پورا خطہ بھی استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو موجودہ کشیدگی کے بادلوں کو چھانٹ کر ایک روشن اور پرامن مستقبل کی نوید دے سکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل