Sunday, March 15, 2026
 

سندھ میں 12سال گزرنے کے باوجود تھیلیسیمیا ایکٹ پر عمل درآمد نہیں ہوسکا

 



سندھ میں 12 سال گزرنے کے باوجود خون کے مرض تھیلیسیمیا کے خاتمے کے لیے منظور کردہ قانون پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوسکا اور اسی طرح 2023 میں مصنوعی ڈبے کے بچوں کے دودھ  کی کھلے عام فروخت پر پابندی کا قانون بھی اج تک نافذ نہیں ہوسکا۔ سندھ اسمبلی نے 2013 میں سندھ پریونیشن اینڈ کنٹرول آف تھیلیسیمیا ایکٹ منظور کیا تھا جس کا مقصد سندھ خون کے مرض تھیلیسیمیا کا خاتمہ کرنا تھا، تھیلیسیمیا ایک موروثی بیماری ہے جو تھیلیسیمیا کے والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے، والدین اگر تھیلیسیمیا مائنر کا شکار ہوں تو دو یا تین میں سے ایک بچہ تھیلیسیمیا میجر کا مرض لے کر پیدا ہوتا ہے، اس بیماری میں  تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچے کو ہر ماہ انتقال خون کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے جو کہ ایک مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے۔ تھیلیسیمیا ایکٹ منظور کرانے کا مقصد یہ تھا کہ نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکی کے تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ یقینی بنایا جائے اور اس ٹیسٹ کی رپورٹ کو نکاح نامہ کے ساتھ منسلک کیا جائے لیکن بدقسمتی 12 سال گزرنے کے باوجود اس ایکٹ پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکا۔ ملک میں کسی بھی بل یا ایکٹ کو منظور کروانے میں حکومت اور عوام کے کروڑوں روپے کے اخراجات آتے ہیں کیونکہ بل کی منظوری کے لیے اسمبلی کا اجلاس منعقد کیا جاتا ہے، جس پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں، حکومت اسمبلی سے بل منظور کروالیتی ہے لیکن اس پر عمل درآمد کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ خیال رہے کہ تھیلیسیمیا کے بل پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے سندھ میں تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کی پیدائش اور مریضوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جس کی وجہ سے بلڈ بینکوں میں خون کی ڈیمانڈ ہولناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ماہر امراض خون ڈاکٹر ثاقب انصاری نے بتایا کہ پاکستان میں ایک لاکھ سے زائد بچے تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہیں، ان بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے سالانہ 24 لاکھ سے زائد خون کی بوتلوں کی ضرورت ہوتی ہے، ہر بچے کو ماہانہ 2خون کی بوتل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں 25 ہزار سے زائد بچے اس مرض میں مبتلاہیں، ہرسال 5 ہزار بچے یہ مرض لے پیدا ہو رہے ہیں، ان بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے ہر ماہ انتقال خون کی ضرورت ہوتی ہے،کراچی میں جناح، سول اور چند ادارے موجود ہیں جو تھیلیسیمیا کے مرض پر کام کررہے ہیں۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر شہروں میں تھیلیسیمیا سینٹر نہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان اور اس کے متعلقہ علاقوں سے بھی تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچے کراچی اپنا علاج کروانے کراچی آتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق سندھ میں ہر ماہ 12سے 15 ہزار تھیلیسیمیا کے بچوں کو خون کی ضرورت ہوتی ہے، اس طرح صرف سندھ میں ہر ماہ 22سے 25ہزار خون کی بوتل کی ضرورت ہوتی ہے جوکہ سالانہ 2 لاکھ 40 ہزار بوتل بنتی ہے۔ سندھ میں بیشتر تھیلیسیمیا سینٹر اپنی مدد آپ کے تحت چل رہے ہیں اور یہ سینٹر اپنی مدد آپ کے تحت خون کے عطیات کے لیے مختلف کیمپس لگاتے ہیں، خون جمع کرنے کے کیمپس مختلف یونیورسٹیوں اور اداروں میں لگائے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر ثاقب انصاری نے بتایا کہ تھیلیسیمیا کے بچوں کو خون کے علاوہ ادویات اور لیبارٹری ٹیسٹ کی بھی ضرورت ہوتی ہے، ایک تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچے کی ادویات کا سالانہ خرچہ 2لاکھ 40ہزار جبکہ ٹیسٹ کے 2لاکھ روپے کے اخراجات آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں تھیلیسیمیا کی صورتحال بہت خراب ہے، حال ہی میں حکومت سندھ نے کچھ تھیلیسیمیا سینٹر کی مدد کرنا شروع کی لیکن یہ ناکافی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ سمیت پاکستان میں سرکاری سطح پر بون میرو ٹرانسپلانٹ کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے، ملک میں تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کی کوئی نیشنل رجسٹری نہ ہونے کی وجہ سے درست اعدادوشمار موجود نہیں ہیں۔ درین اثنا، دیگر طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں تھیلیسیمیا کے حوالے سے کوئی مستند اعدادوشمار موجود نہیں ہیں لیکن 2022 میں ہونے والی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ پاکستان میں تقریبا 9.8 ملین افراد تھیلیسیمیا کے مرض کا شکار ہیں جو کل آبادی کا 11 فیصد بنتا ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تھیلیسیمیا کے مرض کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی وجہ کزن میرج ہے، سندھ پریوینشن اینڈ کنٹرول آف تھیلیسیمیاایکٹ 2013 کی منظوری میں نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکی کے تھیلیسیمیا کے ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا گیا تھا جبکہ اس مرض کی جینیٹک کونسلنگ اور تشخیصی سہولیات متعارف کروائی جانی تھی۔ قانون میں کہا گیا ہے کہ حاملہ خواتین کے تھیلیسیمیا ٹیسٹ بھی کرائے جائیں گے اور اس ٹیسٹ کے نتائج کی رجسٹری بنائی جائے تاکہ صوبے میں اس مرض کے حوالے سے اعداد وشمار مرتب کیے جاسکیں لیکن قانون پر عمل درامد نہ ہونے کی وجہ سے اب تک اس سلسلے میں کوئی اقدامات نہیں کیے جاسکے ہیں جس کی وجہ سے تھیلیسیمیا کے متاثرہ بچوں کی پیدائش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور متاثرہ خاندانوں پر بھی مالی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے کیونکہ اس مرض کے علاج کے اخراجات بہت زیادہ ہے۔ اسی طرح حکومت سندھ نے صوبائی اسمبلی سے سندھ پروٹیکشن اینڈپروموشن آف بریسٹ فیڈنگ اینڈ چائلڈ نیوٹریشن ایکٹ 2023 میں منظور کرایا تھا لیکن ابھی تک اس قانون پر بھی عمل درآمد نہیں کرایا جاسکا اور آج بھی بچوں کے لیے مصنوعی ڈبے کھلے عام فروخت کیے جارہے ہیں۔ صوبائی اسمبلی سے منظورشدہ سندھ پروٹیکشن اینڈپروموشن آف بریسٹ فیڈنگ اینڈ چائلڈ نیوٹریشن ایکٹ 2023 میں واضح طور پر  کہا گیا ہے کہ صوبے کے تمام میڈیکل اسٹوروں پر بچوں کے لیے مصنوعی دودھ ڈاکٹری نسخے کے بغیر فروخت نہیں کیے جاسکے گا، اگر کوئی ڈاکٹر کسی بچے کو غیر ضروری طور پر مصنوعی دودھ تجویز کرتا ہے تو اس ڈاکٹر کو 5 لاکھ روپے جرمانہ اور 6 ماہ کی سزا دی جائے گی۔ قانون کے مطابق اسپتالوں میں مصنوعی دودھ کے تشہیر پر پابندی عائد کی گئی ہے، اگر نوزائیدہ کو کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں مصنوعی دودھ دیا گیا تو اسپتال میں ڈاکٹروں کی ہدایت پر چند دن کے لیے یہ دودھ دیا جاسکتا ہے، اس قاںو ون کا مقصد بچوں کے لیے ماں کے دودھ کی افادیت کو فروغ دینا اور بریسٹ فیڈنگ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ قومی ادارہ برائے اطفال برائے صحت کے سابق ڈائریکٹر اور نیونیٹل چائلڈ انسٹیٹوٹ کے سربراہ  ماہر امراض اطفال پروفیسر جمال رضا، پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن سندھ کے صدر پروفیسر وسیم جمالوی اور ڈاکٹر خالد شفیع نے بتایا کہ پاکستان میں ماں کا اپنے بچوں کو دودھ پلانے کی شرح 48 فیصد ہے جبکہ 52 فیصد مائیں اپنے بچوں کو بریسٹ فیڈنگ نہیں کراتیں جس کی وجہ انہیں وہ تمام غذائیت نہیں ملتی جو کہ بریسٹ فیڈنگ سے ملتی ہے اور نہ ہی بچوں میں قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماں کا دودھ بچوں میں قوت مدافعت اور خود اعتمادی میں بھی اضافہ کرتا ہے، مصنوعی دودھ پینے کی وجہ سے بچے کم عمری میں خسرہ، اسہال، نمونیہ، ٹائیفائیڈ سمیت مختلف انفیکشن کا شکار ہو جاتے ہیں، ہمارے ملک میں بیشتر مائیں مصنوعی یا فارمولا ملک کو ترجیحی دیتی ہیں، مارکیٹ میں ملنے والے مصنوعی دودھ سے بچوں میں قوت مدافعت پیدا نہیں ہوتی جس کی وجہ سے کم عمری میں بچے مختلف امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کے تحت فارمولا دودھ کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئیں ہیں، مصنوعی دودھ کو فروغ دینے والے ڈاکٹروں پر 5 لاکھ روپے جرمانہ اور 6 ماہ تک قید کی سزا ہوگی، اس کے علاوہ، اسپتالوں اور کلینکس میں فارمولا دودھ کے اشتہارات یا پروموشنل مواد کا ڈسپلے نہیں کیا جائے گا۔ مزید بتایا کہ فارمولا دودھ صرف ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہنگامی استعمال کے لیے اجازت دی جائے گی اور ایسے معاملات میں بھی، یہ محدود وقت کے لیے استعمال کرایا جائے گا، یہ قانون سندھ میں بچوں کی صحت کی بہتری اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، جس میں تعمیل کو یقینی بنانے اور ماں کے دودھ کی اہمیت کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے ایک فریم ورک قائم کیا گیا ہے، اس سلسلے میں عمل درآمد یقینی بنانے اور ماں کے دودھ کی اہمیت وافادیت کے بارے میں فریم ورک دیا گیا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل