Monday, March 16, 2026
 

آبنائے ہرمز، کشیدگی کا خطرناک منظرنامہ

 



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اتحادی ممالک اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے اور محفوظ بنانے میں امریکا کی مدد نہیں کریں گے، تو نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا سے کبھی جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور ملک جب تک ضروری ہوا اپنے دفاع کے لیے تیار رہے گا۔ امریکا کا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست اور بین الاقوامی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی اتحادوں کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کے حوالے سے عالمی طاقتوں سے کی گئی اپیل اور ایران کی جانب سے سخت ردعمل نے ایک ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے جس میں کسی بھی لمحے کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔ اس تمام پس منظر میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ آیا دنیا ایک نئے بڑے بحران کی طرف بڑھ رہی ہے یا ابھی بھی سفارت کاری کے ذریعے اس آگ کو بجھانے کا کوئی راستہ باقی ہے۔ آبنائے ہرمز کو دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ خلیج فارس کو بحرِ عمان اور پھر عالمی سمندروں سے ملانے والا یہ تنگ مگر انتہائی اہم راستہ عالمی معیشت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا کے کئی بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنی برآمدات اسی راستے کے ذریعے دنیا تک پہنچاتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی ایک بڑی مقدار روزانہ اس گزرگاہ سے گزرتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات پوری دنیا میں فوری طور پر محسوس کیے جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی آبنائے ہرمز کے حوالے سے کشیدگی بڑھتی ہے تو عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا ہو جاتی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ شروع ہو جاتا ہے۔ امریکا طویل عرصے سے اس خطے میں ایک اہم فوجی اور سیاسی کردار ادا کرتا آیا ہے۔ خلیجی ممالک میں اس کے فوجی اڈے اور بحری بیڑے اسے اس قابل بناتے ہیں کہ وہ خطے کے سمندری راستوں کی نگرانی کرے اور اپنے مفادات کا تحفظ کرے۔ تاہم حالیہ بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکا اب اس ذمے داری کو تنہا اٹھانے کے لیے تیار نہیں بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اس کے اتحادی ممالک بھی اس میں اپنا کردار ادا کریں۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ اگر اتحادی ممالک آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں امریکا کی مدد نہ کریں تو نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے، دراصل ایک بڑا سیاسی پیغام ہے۔ یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ امریکا اپنے اتحادیوں سے زیادہ عملی تعاون کی توقع رکھتا ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اس اتحاد کی نوعیت اور سمت پر بھی سوال اٹھ سکتے ہیں۔ دوسری جانب یورپی ممالک اکثر یہ شکایت کرتے رہے ہیں کہ امریکا اپنے فیصلوں میں اتحادیوں کو مکمل طور پر اعتماد میں نہیں لیتا، جب کہ امریکا کا مؤقف یہ رہا ہے کہ یورپی ممالک دفاعی اخراجات میں مناسب حصہ نہیں ڈال رہے۔ آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی یہی اختلافات ایک بار پھر نمایاں ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ یورپی ممالک اس گزرگاہ کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں، لیکن وہ اس معاملے میں براہ راست فوجی کردار ادا کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایسا کوئی بھی قدم انھیں براہ راست ایران کے ساتھ تصادم کے خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ یورپی ممالک عمومی طور پر ایران کے ساتھ سفارتی روابط برقرار رکھنے کے حامی رہے ہیں اور وہ اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ دوسری طرف ایران کا مؤقف اس معاملے میں نہایت سخت اور واضح ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یہ کہہ کر صورتحال کو مزید واضح کر دیا ہے کہ ایران نے امریکا سے کبھی جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور نہ ہی وہ اس وقت کسی قسم کے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے اور اگر اس پر حملے کیے گئے تو وہ بھرپور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ایران کی قیادت بارہا یہ مؤقف دہرا چکی ہے کہ وہ دباؤ کے تحت کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں ہوگی۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف مقامات پر فضائی حملوں کی اطلاعات اور تہران کے اوپر ایرانی فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ خطے میں ایک غیر اعلانیہ جنگ جاری ہے۔ اگرچہ یہ جنگ ابھی محدود نوعیت کی ہے، لیکن اس کے پھیلنے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ چھوٹے پیمانے پر شروع ہونے والے تنازعات بھی بعض اوقات بڑے علاقائی یا عالمی بحرانوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ دراصل جاری کشیدگی کے اثرات صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے میں پھیل سکتے ہیں۔ خلیجی ممالک کی معیشتیں بڑی حد تک توانائی کی صنعت اور عالمی تجارت پر انحصار کرتی ہیں، اس لیے کسی بھی قسم کا عدم استحکام ان کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم اس پورے بحران کا سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ عالمی سطح پر اعتماد کی فضا کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات گزشتہ چار دہائیوں سے کشیدہ ہیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر عدم اعتماد کا شکار ہیں۔ جوہری معاہدے کے بعد کچھ عرصے کے لیے امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہو جائے گی، لیکن بعد کے واقعات نے اس امید کو زیادہ دیر قائم نہ رہنے دیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے اقدامات کو دشمنی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ امریکا، ایران کی علاقائی سرگرمیوں کو اپنے اتحادیوں کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے، جب کہ ایران کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل خطے میں اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے اسے نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس طرح ایک ایسا ماحول پیدا ہو گیا ہے جس میں غلط فہمیوں اور غلط اندازوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔  عالمی برادری کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ اس کشیدگی کو کس طرح کم کیا جائے۔ جنگ کسی بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ مشرق وسطیٰ کی گزشتہ دہائیوں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جنگوں نے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیلا ہے۔ عراق کی جنگ، شام کا بحران اور یمن کی خانہ جنگی نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا اور پورے خطے کو انسانی اور معاشی بحرانوں میں مبتلا کر دیا۔اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت کم نہ کیا گیا تو خدشہ ہے کہ یہ بحران مزید سنگین شکل اختیار کرسکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش یا اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے شدید دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں رکاوٹ اور مالیاتی منڈیوں میں عدم استحکام جیسے اثرات فوری طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں عالمی طاقتوں کو ذمے داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایران اور امریکا دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مسلسل تصادم کی پالیسی کسی بھی فریق کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگی۔ اسی طرح خطے کے دیگر ممالک کو بھی چاہیے کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی طاقتیں اس خطے کو ایک اور جنگ کی طرف دھکیلنے کے بجائے امن اور استحکام کی راہ تلاش کریں۔ آبنائے ہرمز کی سلامتی یقینی بنانا یقیناً ایک اہم مقصد ہے، لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے ایسا راستہ اختیار کرنا ہوگا جو تصادم کے بجائے تعاون اور اعتماد کو فروغ دے۔اگر عالمی قیادت نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور سفارتی کوششوں کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا تو ممکن ہے کہ موجودہ بحران کو ایک بڑے تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔ بصورت دیگر یہ کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک نئے اور خطرناک دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل