Loading
پاکستان کو اس وقت داخلی ، علاقائی اور عالمی سطح پر کئی چیلنجز درپیش ہیں ۔ جو چیلنجز ابھر کر سامنے آئے ہیں ان میں مختلف ممالک کے درمیان تنازعات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جنگ کے عملی مناظر ہیں جس کی وجہ سے دنیا کے کئی ممالک کو ایک ہی وقت میں سیاسی ، سیکیورٹی ،دفاعی ، خود مختاری اور معاشی چیلنجز کے مراحل سے گزرنا پڑ رہا ہے یا ان کو جنگوں کی حمایت اور مخالفت میں دھکیلا جا رہا ہے ۔
پاکستان بھی علاقائی اور عالمی سیاست کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اس کشیدگی اور جنگ سے متاثر ہونے والا ملک ہے۔یہ ہی وجہ ہے ان حالات سے سفارت کاری کی سطح پر نمٹنے کے لیے خود پاکستان کو ایک مربوط طرز کی سیاسی ، سفارتی اور دفاعی حکمت عملی درکار ہے ۔پاکستان کو حالیہ امریکا اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ جو 28 فروری 2026کو شروع ہوئی ہے جس میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو نشانہ بنایا گیا اور مزید افراد کو نشانہ بنانے کا یہ عمل جاری ہے۔
اس جنگ کے نتیجہ میں خلیجی ممالک پر اس کے اثرات جیسے اسٹریٹ آف ہرمز کی بندش،تیل کی برآمدات میں رکاوٹ ،معاشی نقصانات اور ایرانی جوابی حملوں سے سعودی عرب ،قطر اور یو اے ای کے حالات میں خرابی سمیت پاک افغان کشیدگی ،پاکستان کی فضائی کارروائیوں اور افغا ن جوابی حملوں سے ’’اوپن وار ‘‘جیسی صورتحال میں ہمیں سفارت کاری پر غیر معمولی اقدامات درکار ہیں ۔
پاکستان نے اب تک جو پالیسی امریکا اسرائیل اور ایران یا خلیجی ممالک کے بارے میں اختیار کی ہے وہ توازن پر مبنی ہے ۔کیونکہ اس وقت ہماری پالیسی کا اختیار کرنا خود ہمارے لیے ایک نازک کھیل ہے اور ہمیں بڑی احتیاط کے ساتھ اپنے سفارت کاری کے کارڈز کھیلنے ہیںاور اسی میں خود ہمارے ریاستی مفاد بھی جڑا ہوا ہے کیونکہ ایک طرف حالیہ کچھ عرصوں میں پاک امریکا تعلقات میں بہتری کا پیدا ہونا اور خود امریکا کی طرف سے بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے مجموعی کردار کی تعریف، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم کے امریکا سے دو طرفہ تعلقات میں گرم جوشی ،امریکا اور آئی ایم ایف پر معاشی انحصار، سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ،خلیجی ممالک سے ترسیلات زر،جب کہ ایران سے سرحدی قربت، ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے پر بڑھتا ہوا دباؤ جیسے سنگین مسائل ہمارے سامنے ہیں۔
یہ ہی وجہ ہے کہ اب تک کی پالیسی میں ہم نے کوئی براہ راست سطح پر کسی بھی ممالک کے خلاف کوئی بڑی مہم جوئی نہیں کی۔ آج بھی ہماری سیاسی اور عسکری حکمت عملی فوری جنگ بندی کا خاتمہ، ایران اور سعودی سطح یا خلیجی ممالک کے درمیان تناؤ کا خاتمہ اور خلیج کے ممالک پر مزید حملے نہ ہونا جیسے امور سرفہرست ہیں۔حالیہ دنوں میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کا دورہ سعودی عرب اور وہاں کی قیادت سے براہ راست ملاقات اور دیگر خلیجی ممالک بشمول ایران کے وزرائے خارجہ سے مسلسل ٹیلی فونک باہمی رابطے ظاہر کرتے ہیں کہ ہم موجودہ صورتحال سے غافل نہیں ہیں۔
اسی طرح پاکستان افغان کشیدگی کو کم کرنے میں چین کی سہولت کاری یا ثالثی کا نیا بھرتا ہوا کردار ،سعودی عرب ،قطر اور ترکی کی معاونت جیسے امور بھی اہمیت رکھتے ہیں ۔ یہ بات پہلے بھی لکھی تھی کہ چین اور بڑی طاقتوں کی ثالثی کے بغیر پاک افغان تعلقات میں بہتری ممکن نہیں ہوسکے گی اور کچھ ایسے ہی حالات پاکستان کے حق میں بن بھی رہے ہیں۔خود افغان طالبان حکومت کو اندازہ ہوا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہی ان کے مفاد میں ہے ۔
مسئلہ یہ ہے کہ اگر فوری طور پر امریکا اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی نہیں ہوتی اور جس انداز سے جنگ کا دائرہ کار یا دورانیہ میں اضافہ ہورہا ہے اس سے معاشی حالات اور سیکیورٹی کے معاملات میں غیرمعمولی خرابیاں پیدا ہونگی اور خود پاکستان بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی اور پاکستان کی ترسیلات،درآمد اور توانائی خطرے میں ہیں۔بالخصوص خلیجی ممالک میں ایران کے حملے وہاں کے انتظامی ڈھانچہ کو بری طرح سے متاثر کررہے ہیں۔اسی طرح یہ سوال اہمیت رکھتا ہے کہ کیا ہم اپنی سفارت کاری کی مدد سے امریکا کو ایران کے خلاف روک سکیں گے اور جو کچھ خلیجی ،ممالک بشمول سعودی عرب میں ہورہا ہے کیا ہم ایران کو بھی روک سکیں گے۔یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ہم بھی کوئی بہت زیادہ آپشن نہیں رکھتے اور ہمیں کمزور معیشت سمیت سیاسی داخلی اور سیکیورٹی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے ۔ویسے بھی دنیا کی سفارت کاری میں بڑی طاقتوں کا ہی قبضہ ہوتا ہے اور چھوٹے ممالک کو خود کو بڑی طاقتوںکے ساتھ ہی کھڑا کرنا ہوتا ہے۔اس بات کا اندازہ خود پاکستان کو ہے اور یہ جو بہت زیادہ تحمل یا احتیاط کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اس کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
ہمیں ایک ہی وقت میں مشرقی وسطیٰ کا بحران، پاک افغان کشیدگی اور پاک بھارت تعلقات میں موجود بگاڑ یا بھارت افغان گٹھ جوڑ جیسے مسائل بھی درپیش ہیں ۔سفارت کاری کے محاذ پر ایک سفارت کاری وہ ہوتی ہے جو پردہ اسکرین پر ہورہی ہوتی ہے اور جب کہ دوسری پردہ کے پیچھے جسے بیک ڈور ڈپلومیسی کا نام دیا جاتا ہے۔پاکستان کو ان حالات میں بہتری کے لیے ان دونوں چینلز کو استعمال کرنا ہوگا ۔اس میں وہ لوگ جو آج یا ماضی میں بہتر سفارت کاری کے ماہر رہے ہیں ان کی خدمات سے ہمیں ان دونوں چینلز پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔جب کہا جاتا ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ میں ہمیں عالمی دنیا میں سفارت کاری کے میدان میں کافی پذیرائی ملی ہے تو اب وقت ہے کہ اس پذیرائی کو اپنے حق میں استعمال کیا جائے۔
ہمیں سعودی عرب ایران اور امریکا ایران کے درمیان بات چیت کے امکانات کو بڑھانا ہوگا بالخصوص سعودی عرب اور ایران تعلقات کی بہتری ہماری بڑی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔اس وقت ہماری موجودہ نیشنل سیکیورٹی پالیسی کا یہ نقطہ ہے کہ اب ہم دنیا میں کسی بھی ملک کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے اور اپنی توجہ علاقائی تعلقات کی بہتری اور نئے معاشی ترقی کے امکانات تک محدود رکھیں گے۔ اس لیے کسی کے ساتھ جنگ کی حمایت اور مخالفت میں الجھنے کو کم سے کم کرکے ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں ۔ ہمیں یہ یقین دہانی سعودی عرب اور ایران سے لینی ہوگی کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف ریڈ لائن کراس نہ کریں اور ایک دوسرے کی خود مختاری کو چیلنج نہ کیا جائے۔ اگر یہ جنگ آگے بڑھتی ہے تو کئی اسلامی ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں،پاکستان کو دیگر ممالک بالخصوص چین ،روس، برطانیہ ،جرمنی ،ترکی کی مدد سے اقوام متحدہ اور او آئی سی پر دباؤ ڈالنا ہوگا کہ وہ اس نازک موڑ پر جنگ کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل