Monday, March 16, 2026
 

عید کارڈ کا کلچر اب کہاں !

 



ماضی میں عید کی خوشیوں میں عید کارڈ کا ایک بڑا حصہ شامل ہوتا تھا جو عید شروع ہونے سے قبل عید کا ماحول بنا دیتا تھا۔ ہر کوئی اپنے دوست احباب اور رشتے داروں کو خوشی خوشی عید کارڈ بھیجتا۔ عید کارڈز، خوشبو لگے لفافے، رنگین کاغذ اور اُن پر لکھے گئے چند اشعار جو دل سے نکل کر سیدھے دل تک پہنچتے تھے۔ یہ سارا لطف اور مزہ گزشتہ نسل (جنریشن) کا تھا جو نئی نسل کے حصے میں نہیں آسکا۔ پاکستان اور بھارت میں خاص طور پر 1960 سے 90 کی دہائیوں میں عید کارڈ بھیجنے کا رجحان بڑے عروج پر تھا، ان کارڈ پر خوبصورت خطاطی بھی ہوتی تھی، شاعری بھی ہوتی تھی، تصاویر بھی ہوتی تھیں اور ہاتھ سے لکھے ہوئے مختلف پیغامات بھی ہوتے تھے جو انسان کے جذبات کو بلندیوں پر لے جاتے تھے۔ یہ صرف عیدکارڈ نہیں ہوتے تھے بلکہ وہ جذبات ہوتے تھے جس کا اظہار دوست، احباب اور رشتے دار سب ایک دوسرے سے کرتے تھے اور ان کو پڑھ کے اندازہ ہوتا تھا کہ کون کس سے کتنی محبت کرتا ہے۔ یوں یہ ایک الگ ہی ماحول ہوتا تھا۔ اس زمانے میں جب عید کارڈ کا کلچر اپنے عروج پر تھا، بازاروں میں اس کے باقاعدہ اسٹال لگتے تھے اورگلی محلوں میں بھی یہ اسٹال نظر آتے تھے جہاں سے بچے بڑے سب رمضان کے پہلے ہی ہفتے سے عید کارڈ خرید کر لا تے، انھیں سجا تے، ان میں جذباتی تحریریں لکھتے، اشعار لکھتے اور دور دراز علاقوں میں اپنے رشتے داروں کو، دوستوں کو بھیج دیتے۔ اس موقع پر عید سے پہلے دوست، رشتے دار سب ہی انتظار کرتے کہ ہمیں کس کس نے عید کارڈ بھیجا ہے، کس کا آگیا ہے، کس کا نہیں آیا۔ یہ محبت کی ایک عجیب کیفیت ہوتی تھی، جذبات کا ایک نرالہ ہی انداز ہوتا تھا۔ ایک طرح سے یہ صرف عیدکارڈ نہیں تھے بلکہ اردو ادب کا ایک حصہ بھی تھے، یعنی ان میں بہت خوبصورت اردو زبان لکھی ہی نہیں جاتی تھی بلکہ اردو کے اشعار بھی لکھے جاتے تھے۔ بڑے اور سنجیدہ قسم کے لوگ سنجیدہ قسم کے اور محبت کے حوالے سے اشعار کا انتخاب کرتے تھے جب کہ بچے اور منچلے نوجوان اپنی معصومیت اور مزاح کے مزاج کے اعتبار سے اشعار کا انتخاب کرتے تھے۔ یہ اشعار بھی اس کلچر کا ایک خاصہ تھے۔ آج بھی جب ہم یہ اشعار کہیں سنتے یا کہیں لکھے ہوئے دیکھ لیتے تو ہمیں اپنا بچپن کا زمانہ یاد آجاتا ہے، وہ کلچر یاد آجاتا ہے جو اب ہمیں نظر نہیں آتا۔ ان اشعار میں بچوں کے بڑے معصومانہ قسم کے اشعار ہوتے تھے۔ مثلاً عید عید کرتے ہو عید بھی آ جائے گی پہلے رمضان کے روزے رکھو، عقل ٹھکانے آ جائے گی یا ڈبے میں ڈبہ ڈبے میں کیک میرا دوست لاکھوں میں ایک اسی طرح یہ اشعار بھی۔ گرم گرم روٹی توڑی نہیں جاتی آپ سے دوستی چھوڑی نہیں جاتی سویاں پکی ہیں سب نے چکھی ہیں یار تم کیوں روتے ہو، تمہارے لیے بھی رکھی ہیں …………… پھول تو بہت ہیں مگر گلاب جیسا نہیں دوست تو ہیں مگر آپ جیسا نہیں  اسی طرح بالغ عمرکے لوگ سنجیدہ قسم کے اشعار لکھتے تھے۔ مثلاً قمر بدایونی کا یہ شعر بڑا مشہور ہوا۔ عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالم رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے  اسی طرح امجد اسلام امجد کا یہ شعر۔ جس طرف تو ہے ادھر ہوں گی سبھی کی نظریں عید کے چاند کا دیدار بہانہ ہی سہی  اور نوجوان تو اس قسم کے اشعار لکھتے تھے کہ پڑھ کے اور بھی ہنسی آتی تھی۔ مثلاً عید آئی تم نہ آئے کیا مزہ ہے عید کا عید ہی تو نام ہے اک دوسرے کی دید کا یا چاند نے چاندنی سے کہا عید کب آئے گی چاندنی نے کہا جب میری دوست مسکرائے گی کچھ منچلے یہ شعر بھی لکھتے تھے۔ ڈبے میں ڈبہ ڈبے میں کیک مینوں نئی پتہ، مینوں عیدی بھیج  غرض ان اشعار کی بھی ایک دنیا ساتھ ہوتی تھی، یعنی صرف عید کارڈ نہیں ہوتا تھا، ادبی دنیا بھی ساتھ ساتھ چلتی تھی جو عوامی قسم کی ہوتی تھی جس میں شاعری کے وزن سے زیادہ جذبات کو دخل ہوتا تھا۔اخبارات بھی عید کے خصوصی ایڈیشن شائع کرتے تھے، جس میں تہنیتی اشعار شامل ہوتے تھے اور یہی اشعار بعد میں لوگ اپنی عید کارڈ پر لکھا کرتے تھے۔ ان عید کارڈ کی اپنی ایک تاریخ ہے، اگر اس تاریخ پر ہم نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ برطانوی دورِ حکومت میں جدید طباعتی صنعت نے برصغیر میں فروغ پایا جب کلکتہ، بمبئی اور لاہور جیسے شہروں میں پرنٹنگ پریس قائم ہوئے جہاں مذہبی اور تہواروں سے متعلق کارڈز شائع ہونے لگے۔ ابتدا میں زیادہ تر کارڈز کرسمس اور ہپی نیو ایئر کے لیے ہوتے تھے، لیکن جلد ہی مسلمانوں نے بھی عید کے لیے تہنیتی کارڈز بنوانا شروع کر دیے۔ 20 ویں صدی کے اوائل میں اردو اشعار، اسلامی خطاطی اور چاند ستارے کی علامات والے کارڈز مقبول ہونے لگے۔ پاکستان میں عید کارڈز پر اسلامی خطاطی، مسجدوں کے مناظر اور چاند رات کی جھلکیاں نمایاں ہوتی تھیں۔ 1960ء سے 1990ء تک بازاروں میں خصوصی عید کارڈ اسٹال لگتے تھے۔ لوگ رشتہ داروں، عزیزوں کو اندرون اور بیرونِ ملک ڈاک کے ذریعے کارڈ بھیجتے تھے۔ اسی طرح جب 80 کی دہائی میں پاکستان میں وی سی آر لوگوں کی دسترس میں آیا اور اس کے ذریعے گھر گھر بھارتی فلمیں دیکھی جانے لگیں تو ان فلموں کے مشہور اداکاروں کی تصاویر پر مشتمل عید کارڈ بھی بازار میں آگئے۔ نو جوانوں کی ایک خاص تعداد ان عید کارڈ کو خرید تی تھی۔ یہ کارڈ پوسٹ کارڈ کی طرح ہوتے تھے، جن میں ایک جانب اداکاروں کی تصاویر اور دوسری جانب (پشت پر) پیغام لکھنے کی جگہ ہوتی تھی۔ 2000ء کے بعد انٹرنیٹ اور موبائل فون کے عام ہونے سے عید کارڈز کی جگہ ای کارڈز اور سوشل میڈیا پیغامات نے لے لی۔ فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر پلیٹ فارمز نے تہنیت کے انداز بدل دیے۔ ان نت نئے انداز اور طریقوں سے لوگ اپنے پیاروں کو عید کے پیغامات بھیجتے ہیں جس کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ پیغامات سیکنڈز کے اندر اپنی منزل مقصود پر پہنچ جاتے ہیں جب کہ ماضی کے کلچر میں یہ تیزی نہیں تھی اور یہ تہنیتی پیغامات کئی دنوں میں بعض اوقات ہفتے بھر میں پہنچتے تھے یوں لوگوں کو اپنی پیاروں کی جانب سے بھیجے گئے۔ عید کارڈ کا رمضان کے آخر تک بھی انتظار رہتا تھا۔ گویا عید کارڈ کا یہ کلچر خوشی، انتظار کی کیفیت اور تجسس سے بھی بھر پور ہوتا تھا جو اب ختم ہوگیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل