Loading
شہر قائد، جو روشنیوں کا شہر کہلاتا ہے، بدقسمتی سے اب ٹریفک حادثات، ہیوی گاڑیوں کی بے قابو رفتار اور اسٹریٹ کرائمز کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے باعث شہریوں کے لیے خوف اور عدم تحفظ کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ سڑکیں مزید خطرناک اور گلیاں اور محلے مزید غیر محفوظ محسوس ہونے لگے ہیں۔
11 مارچ کی شب شارع پاکستان عائشہ منزل کے قریب ٹریفک کا المناک حادثہ اور 9 مارچ کی شب کشمیر روڈ چائنہ گراؤنڈ کے قریب جم سے جانے والے شہری کی ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے کے واقعات نے عید کی خوشیوں کو اہلخانہ کے لیے ماتم میں بدل دیا۔
11 مارچ کی شب شارع پاکستان عائشہ منزل فرنیچر مارکیٹ کے قریب ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار ایک بھائی جاں بحق جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا، جو بعد ازاں عباسی شہید اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گیا۔ ٹریفک کے اس دلخراش واقعے میں جاں بحق ہونے والے 2 سگے نوجوان بھائیوں کی شناخت 17 سالہ عاطف اور 16 سالہ تابش ولد محمود کے نام سے کی گئی، جو کہ فیڈرل بی ایریا بلاک 16 امراض قلب ہسپتال کے قریب کے رہائشی تھے۔
دونوں بھائی ہنر مند بننے کے لیے فریج اور ایئر کنڈیشن کی مرمت کا کام سیکھ رہے تھے۔ واقعے کے وقت دونوں بھائی عید کے موقع پر سلوائے گئے نئے کپڑے ٹیلر سے لینے جا رہے تھے، ٹریفک کے افسوسناک حادثے میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے اور انھیں اپنے عید کے نئے کپڑے پہننا بھی نصیب نہ ہو سکے۔ جاں بحق بھائیوں کے والد نے بتایا کہ وہ سرکاری کالج میں گریڈ 2 کا ملازم ہیں، بچوں کی تدفین حافظ آباد میں کی جائیگی۔
انہوں نے حادثہ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ جاں بحق 2 سگے بھائیوں کی والدہ نے زارو قطار روتے ہوئے بتایا کہ جان لیوا ٹریفک حادثے نے میرے 2 لخت جگر مجھ سے چھین لیے، میرے بچے اسکول میں پڑھتے اور 3 سال سے اے سی اور فریج کا کام سیکھ رہے تھے جنھیں روزانہ 200 روپے ملتے تھے۔ ایک حادثے نے ہمارا سب کچھ برباد کر دیا، ماں باپ کا سہارا بننے والے بیٹے ہی ہم سے چھین لیے گئے۔ حادثے کی خبر ملتے ہی متوفین بھائیوں کے اہلخانہ اور عزیز و اقارب اسپتال پہنچ گئے، جہاں پر کئی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔
والدین اپنے جوان سال بیٹوں کی نعشیں دیکھ کر اپنے حواس کھو بیٹھے جبکہ دیگر افراد گلے مل کر دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے دکھائی دیے۔ ٹریلر حادثے میں زندگی کی بازی ہارنے والے دونوں سگے بھائیوں کے بڑے بھائی نے بتایا کہ ہم 4 بھائی اور ایک بہن ہیں، دونوں چھوٹے بھائی والدہ اور والد کے ساتھ رہتے تھے۔ شہر میں مال بردار گاڑیاں شہریوں کی دشمن بن گئی ہیں، جان لیوا ٹریفک حادثے میں دونوں بھائیوں کے جاں بحق ہونے کے واقعے نے عید سے قبل ہی گھر میں قیامت برپا کر دی۔ عید کی تیاریوں میں مصروف گھر ماتم کدہ بن گیا۔ دونوں بھائی عید کی تیاری کے لیے بہت پرجوش تھے، شہر میں روز کی بنیاد پر ٹریفک حادثات میں خواتین، بچے اور نوجوانوں سمیت دیگر افراد جان کی بازی ہار رہے ہیں۔
دوسری طرف عزیز آباد پولیس نے شارع پاکستان عائشہ منزل پر موٹر سائیکل سوار 2 سگے بھائیوں کو کچل کر جاں بحق کرنے والے ٹریلر کے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا۔ اس دلخراش حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آ گئی، جس میں بغیر کنٹینر لدا ہوا ٹریلر موٹر سائیکل سوار بھائیوں کو روند کر گزرتے ہوئے دکھائی دیا، جبکہ حادثے کا ذمہ دار ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا تھا۔
ایس ایچ او عزیز آباد شاہد تاج سخت جدوجہد کے بعد ڈرائیور کا سراغ لگا کر اسے گرفتار کر لیا جس کی شناخت محمد چاند کے نام سے کی گئی۔ ترجمان چھیپا فاؤنڈیشن چوہدری شاہد کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے دوران 11 مارچ تک ٹریفک کے جان لیوا خونی حادثات میں مجموعی طور پر 206 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 147 مرد، 29 خواتین، 21 بچے اور 9 بچیاں شامل ہیں، جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 2 ہزار 80 کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ جبکہ تشویشناک بات یہ ہے کہ رواں سال کے صرف 70 دنوں میں ہیوی گاڑیوں کے حادثات میں 67 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں سب سے زیادہ 35 حادثات ٹریلر کی ٹکر سے پیش آئے ہیں۔
یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ شہر قائد کی سڑکوں پر ہیوی ٹریفک شہریوں کی زندگیوں کے لیے بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ شہر میں موت بانٹتے بڑھتے ہوئے جان لیوا ٹریفک حادثات کے پیش نظر شہری روزانہ گھروں سے نکلتے وقت یہ دعا کرتے ہیں کہ وہ محفوظ طریقے سے واپس لوٹ آئیں۔ خاص طور پر موٹر سائیکل سوار افراد کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہوتا ہے کیونکہ ہیوی گاڑیوں کے سامنے وہ بالکل غیر محفوظ دکھائی دیتے ہیں۔ جبکہ رات کے اوقات میں جب ہیوی ٹریفک کی شہر میں داخلے کی اجازت ہوتی ہے تو ہیوی گاڑیاں جن میں واٹر ٹینکرز، ڈمپرز، آئل ٹینکرز اور ٹرکوں کی حد رفتار چیک کرنے والا کوئی نہیں ہوتا اور وہ شہر کی سڑکوں پر انتہائی تیز رفتاری سے ہیوی گاڑیاں چلاتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں۔
ایک جانب شہری ٹریفک حادثات میں اپنی جانیں گنوا رہے ہیں تو دوسری جانب شہر میں ڈاکو راج بھی کسی صورت تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ شہر قائد کے باسی دوہری مشکلات کا شکار ہیں؛ ایک جانب بے قابو ہیوی گاڑیاں سڑکوں پر موت بانٹ رہی ہیں تو دوسری طرف ڈاکو آزادانہ اور دلیرانہ لوٹ مار کی وارداتوں میں شہریوں کو موبائل فونز، نقدی، موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں سے محروم کر رہے ہیں اور مزاحمت پر شہریوں کو زخمی اور ان کی جان تک لینے سے دریغ نہیں کر رہے۔
رواں سال کے دوران ڈاکوؤں نے ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر 15 افراد کو بے رحمانہ اور سفاکانہ فائرنگ کا نشانہ بن کر ابدی نیند سلا دیا، جبکہ درجنوں افراد ڈاکوؤں کی فائرنگ سے زخمی بھی ہو چکے ہیں۔ اعلیٰ پولیس افسران کی جانب سے اسٹریٹ کرائمز میں کمی کے دعوے سامنے آتے ہیں اور پولیس کے مبینہ مقابلوں میں زخمی سمیت دیگر گرفتار ملزمان کی ہفتہ وار رپورٹ بھی جاری کی جاتی ہے، جس میں ڈاکو، منشیات فروش اور دیگر جرائم پیشہ عناصر شامل ہوتے ہیں۔ جبکہ کچھ پولیس مقابلوں میں جرائم پیشہ عناصر اپنے منطقی انجام تک بھی پہنچائے جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود شہر میں اسٹریٹ کرائم کا جن کسی بھی صورت قابو میں نہیں آ رہا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل