Loading
پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے کہا ہے کہ یوکرین میں جاری جنگ دراصل روس اور یوکرین کے درمیان براہِ راست تصادم نہیں بلکہ مغربی ممالک کے ساتھ ایک بالواسطہ مقابلہ ہے، جو عالمی طاقت کے بدلتے توازن کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
بین الاقوامی امور پر بریفنگ دیتے ہوئے روسی سفیر البرٹ پی خوریف نے کہا کہ یوکرین تنازع ایک نئے کثیر القطبی عالمی نظام کے قیام کو تقویت دے رہا ہے، جس کے اثرات آئندہ برسوں تک عالمی سیاست پر مرتب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس بحران کی بنیادی وجہ کیف حکومت کی جانب سے ڈونباس کو بزور طاقت اپنے ساتھ ملانے کی کوشش تھی۔
روسی سفیر نے دعویٰ کیا کہ میدان جنگ میں صورت حال روس کے حق میں جا رہی ہے جبکہ یوکرینی افواج شہری آبادی اور تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہیں، سفیر نے 10 مارچ کو بریانسک پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔
البرٹ خوریف نے کہا کہ روس اس کے باوجود تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کا حامی ہے اور 2026 میں اب تک ابوظہبی اور جنیوا میں امن مذاکرات کے کئی ادوار ہو چکے ہیں جبکہ قیدیوں کے تبادلے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ جنگ بندی اس وقت تک موٴثر نہیں ہو سکتی جب تک تنازع کی بنیادی وجوہات، جیسے نیٹو کی مشرق کی جانب توسیع اور روسی زبان بولنے والوں کے مسائل، حل نہیں کیے جاتے۔
روسی سفیر نے زاپوروجیا جوہری بجلی گھر کی سیکیورٹی، توانائی سپلائی لائنز اور عالمی تزویراتی استحکام کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا اور کہا کہ روس اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا، تاہم سفارتی حل کے دروازے بھی کھلے رکھے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل