Loading
وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نے پنجاب سے مبینہ طور پر جسم فروشی کے لیے متحدہ عرب امارات جانے والی 33 خواتین کو کراچی سے گرفتار کرلیا۔
ایف آئی اے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر جسم فروشی کے لیے پنجاب سے متحدہ عرب امارات جانے والی 33 خواتین کراچی سے گرفتارکرکے خواتین کو بیرون ملک اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی ڈائریکٹر کراچی زون اور ڈپٹی ڈائریکٹر اے ایچ ٹی سی کراچی کی ہدایات پر کی گئی اور مصدقہ اطلاع پر پاسپورٹ آفس صدر کراچی کے قریب دو ہوٹلوں پر چھاپہ مارا گیا۔
ایف آئی اے نے بتایا کہ کارروائی کے دوران پنجاب کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والی 33 خواتین کو حراست میں لیا گیا اور مذکورہ خواتین کے ہمراہ انسانی اسمگلرز اور ایجنٹس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ ملزمان کے قبضے سے 29 پاسپورٹس اور دیگر متعلقہ مواد برآمد ہوا اور ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ خواتین کو وزٹ ویزے کے بہانے متحدہ عرب امارات بھجوایا جا رہا تھا اور خواتین کو جسم فروشی اور جنسی استحصال کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ تھا۔
ایف آئی اے نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف تین الگ الگ مقدمات درج کر لیے گئے ہیں، مقدمات پریوینشن آف ٹریفکنگ ان پرسنز ایکٹ 2018 کے تحت درج کیے گئے ہیں، ملزمان ضیا الحق، امتیاز علی، فرمان علی اور سکینہ بی بی کو گرفتار کر لیا گیا اور اس حوالے سےمزید تفتیش جاری ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل