Tuesday, March 17, 2026
 

سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ہے، علیمہ خان

 



پاکستان تحریک کے بانی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے سرکاری رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں اور حکومتی ڈاکٹروں پر یقین نہیں ہے، اب ہمیں عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق اڈیالہ جیل ماربل فیکٹری ناکے کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ آج جیل کے باہر رمضان کی آخری افطاری تھی، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں کہ کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا اصل مسئلہ بانی کا علاج ہے، فیملی کا اصل مسئلہ بانی کا علاج ہے، سرکاری رپورٹ کو ہم مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور سرکاری ڈاکٹروں پر یقین نہیں کرتے۔ علیمہ خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایک ایسی رپورٹ منظور کی جو پیش کی گئی، کیا اسکو میڈیکل رپورٹ کہتے ہیں، ہائیکورٹ میں جج اچھے تھے، جنھوں نے ایڈووکیٹ جنرل سے اچھے سوال کیے جس پر انہوں نے بتایا کہ بانی کو اسپتال لے جانے سے امن وامان کی صورتحال خراب ہو گی۔  یہ کس قسم کا بہانہ بنایا یہ ماننے والی بات ہے ؟ ایسا لگتا ہے فیصلہ کہیں اور سے لکھا ہوا آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی کو جان کر جیل کے اندر رکھا جا رہا ہے تاکہ انکی آنکھ ضائع ہو جائے،یہ مجرمانہ عمل ہے، چیف کمشنر انہی دو نامعلوم ڈاکٹروں کا بورڈ بنائیں گے جنکو ہم جانتے نہیں، ہم چیف کمشنر کی بات پر کیسے یقین کریں کیونکہ وہ خود محسن نقوی کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ علیمہ خان نے کہا کہ اب ڈاکٹر عظمی کی پٹیشن ہمارے وکیل لیکر سپریم کورٹ جائیں گے،ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، بانی کی ملاقات اسلئے بند ہے تاکہ ہمیں پتہ نہ چلے کہ بانی کی آنکھ کیسی ہے، ہمیں انکی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بشری بی بی کی فیملی کو بھی نہیں ملنے دیا گیا کیونکہ اس سے قبل بشری بی بی کی فیملی نے دو مرتبہ بانی کی صحت کا پیغام دیا تھا۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم دوبارہ سپریم کورٹ جائیں گے،اعتزاز احسن کے شکر گزار ہیں وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ، عید کے بعد اگر ایسا جاری رکھا گیا تو حالات بدلیں گے، ہم انکو اچھے طریقے سے کہہ سکتے ہیں کہ بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل