Tuesday, March 17, 2026
 

بند ہوتی گزرگاہیں اور دنیا کو درپیش نیا خطرہ

 



عالمی سیاست کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ طاقت کے بے جا استعمال اور یکطرفہ فیصلوں نے ہمیشہ دنیا کو عدم استحکام کی طرف دھکیلا ہے۔ حالیہ صورتحال بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے جہاں امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو ایک نئے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ محض دو یا تین ممالک کے درمیان کشیدگی نہیں بلکہ ایک ایسا پیچیدہ تنازع ہے جس کے اثرات عالمی معیشت، بین الاقوامی اتحادوں، توانائی کی فراہمی اور عالمی امن پر براہِ راست مرتب ہو رہے ہیں۔ امریکا کی جانب سے اسرائیل کی حمایت میں ایران کے خلاف کارروائی کا آغاز دراصل ایک بڑی اسٹرٹیجک غلطی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ اقدام اپنے اتحادی کے دفاع کے لیے کیا گیا، مگر اس کے نتائج توقعات کے برعکس نکلے۔ ایران نے براہِ راست عسکری تصادم کے بجائے ایک ایسی حکمت عملی اپنائی جس نے عالمی نظام کو ہلا کر رکھ دیا اور وہ ہے آبنائے ہرمز کی بندش۔ یہ گزرگاہ دنیا کی توانائی سپلائی لائن کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے یومیہ لاکھوں بیرل تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے نہ صرف صنعتی ممالک بلکہ ترقی پذیر معیشتوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست پیداواری لاگت میں اضافے کا باعث بنتا ہے، جس کا نتیجہ مہنگائی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ دنیا بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، سپلائی چین متاثر ہو رہی ہیں اور اقتصادی ترقی کی رفتار سست پڑ رہی ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر تباہ کن ہے۔ ایسے ممالک جو پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، ان کے لیے مہنگی توانائی درآمد کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔ ان ممالک میں کرنسی کی قدر میں کمی، تجارتی خسارے میں اضافہ اور مالیاتی عدم استحکام جیسے مسائل شدت اختیار کر رہے ہیں۔ غریب طبقات کے لیے زندگی مزید دشوار ہو چکی ہے، جہاں بنیادی ضروریات کا حصول بھی ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک اس بحران سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی معیشت بڑی حد تک درآمدی تیل پر انحصار کرتی ہے، اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ملک کے مالیاتی نظام پر فوری دباؤ ڈالتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں بلکہ بجلی، ٹرانسپورٹ اور خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ مہنگائی کی یہ لہر عوامی سطح پر بے چینی کو جنم دیتی ہے اور حکومتوں کے لیے معاشی استحکام برقرار رکھنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھتا ہے اورکرنسی کی قدر میں کمی واقع ہوتی ہے، جس سے بیرونی قرضوں کی ادائیگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ صنعتی پیداوار متاثر ہوتی ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ یوں ایک عالمی تنازع ایک مقامی معاشی بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس کا خمیازہ عام شہری کو بھگتنا پڑتا ہے۔دوسری جانب اس بحران نے نیٹو جیسے اہم عسکری اتحاد کی اندرونی سیاست کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ نیٹو، جو طویل عرصے سے مغربی اتحاد کی علامت رہا ہے، اب اندرونی اختلافات کا شکار نظر آ رہا ہے۔ امریکا کی جانب سے اتحادی ممالک پر دباؤ ڈالنا کہ وہ اس کی فوجی کارروائی میں شامل ہوں، ایک ایسے رویے کی عکاسی کرتا ہے جو شراکت داری کے اصولوں کے برعکس ہے۔ یورپی ممالک کا اس دباؤ کو مسترد کرنا، اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اب عالمی سیاست میں یکطرفہ قیادت کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ جرمنی، فرانس اور برطانیہ جیسے ممالک نے کھل کر یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اس تنازع میں براہِ راست شامل نہیں ہوں گے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی سے قبل اس کے مقاصد، حکمت عملی اور ممکنہ نتائج کے بارے میں مکمل وضاحت ہونی چاہیے۔ یہ موقف نہ صرف ایک محتاط پالیسی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ یورپی ممالک اب اندھا دھند امریکی پالیسیوں کی پیروی کرنے کے لیے تیار نہیں۔ نیٹو کے اندر پیدا ہونے والے یہ اختلافات اس اتحاد کے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہے ہیں، اگر ایک اتحاد کے رکن ممالک ایک اہم عالمی بحران پر متفق نہ ہو سکیں تو اس اتحاد کی افادیت پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔ امریکا کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات کہ اگر اتحادی ساتھ نہ دیں تو نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے، دراصل اس اتحاد کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کی جیو اسٹرٹیجی بھی اس بحران میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ خطہ نہ صرف توانائی کے وسائل سے مالا مال ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے لیے اسٹرٹیجک اہمیت بھی رکھتا ہے۔ یہاں ہونے والی ہر تبدیلی عالمی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ایران، سعودی عرب، اسرائیل اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان طاقت کا توازن ہمیشہ سے ایک حساس مسئلہ رہا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بطور دباؤ کے استعمال کرنا ایک اہم اسٹرٹیجک اقدام ہے، جس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ روایتی جنگ کے علاوہ بھی ایسے ذرائع موجود ہیں جن کے ذریعے عالمی طاقتوں کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک غیر روایتی حکمت عملی ہے جس کے اثرات براہِ راست عالمی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔ چین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کا محتاط رویہ بھی قابلِ غور ہے۔ یہ ممالک توانائی کے لیے مشرقِ وسطیٰ پر انحصار کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود انھوں نے اس تنازع میں براہِ راست شامل ہونے سے گریز کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس بحران کو مزید بڑھانے کے بجائے اسے محدود رکھنے کے خواہاں ہیں۔ چین کی جانب سے سفارتی کردار ادا کرنے کی پیشکش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں اب جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دینے لگی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کو اس وقت سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ امن، استحکام اور اقتصادی ترقی ہے، اگر خطے کے ممالک مسلسل جنگ اور کشیدگی میں الجھے رہیں گے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑے گا۔ ایسے حالات میں پاکستان جیسے ممالک کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے جو ایک متوازن اور اصولی سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ وہ عالمی فورمز پر امن، مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے۔ یہ تمام صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ عالمی برادری فوری طور پر مؤثر اقدامات کرے۔ سب سے پہلے آبنائے ہرمز کو کھولنا ضروری ہے تاکہ عالمی توانائی کی فراہمی بحال ہو سکے اور معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ سفارتی کوششیں کی جانی چاہئیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو اس معاملے میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہیں چاہیے کہ وہ غیر جانبدارانہ ثالثی کے ذریعے فریقین کے درمیان مذاکرات کو فروغ دیں اور ایک ایسا حل تلاش کریں جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔ اس کے علاوہ بڑی عالمی طاقتوں کو بھی اپنی ذمے داری کا احساس کرنا ہوگا اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ جنگیں صرف تباہی، انسانی جانوں کا ضیاع اور معاشی نقصان لاتی ہیں۔ اس کے برعکس مذاکرات اور سفارت کاری ہی وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ اگر دنیا نے اس بحران سے سبق نہ سیکھا تو مستقبل میں ایسے مزید تنازعات جنم لے سکتے ہیں جو عالمی نظام کو مزید کمزور کردیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس موقع کو ایک انتباہ کے طور پر لیا جائے اور عالمی سطح پر ایسے اقدامات کیے جائیں جو نہ صرف موجودہ بحران کو حل کریں بلکہ مستقبل میں ایسے حالات پیدا ہونے سے بھی روکیں۔ حرف آخر یہی ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھلوانا اور ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرنا، وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو عالمی معیشت کو استحکام فراہم کر سکتا ہے۔  نیٹو جیسے اتحادوں کو ٹوٹنے سے بچا سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر انسانیت کو ایک بڑے سانحے سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کا استعمال وقتی برتری تو دے سکتا ہے مگر مستقل امن صرف مکالمے، برداشت اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل