Tuesday, March 17, 2026
 

قصہ گورنر سندھ کی تبدیلی کا

 



سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے وقت اور پھر میاں شہباز شریف کو وزیر اعظم اور آصف علی زرداری کو صدر کے عہدے پر فائزکرنے کے لیے متحدہ قومی موومنٹ سے جو معاہدے کیے گئے وہ کہیں کھو گئے۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے ترجمانوں کا کہنا ہے کہ نئی حکومت بناتے وقت دونوں جماعتوں کے درمیان یہ طے ہوا تھا کہ سندھ کا گورنر مسلم لیگ کا ہوگا مگر دونوں جماعتوں کے ترجمان یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ جب ان کی جماعت کے رہنما وزیراعظم اور صدر کے انتخاب کے لیے ایم کیو ایم کے عہدیداروں کے پاس ووٹ لینے گئے تھے تو انھوں نے کیا معاہدے کیے تھے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی ایڈوائز پر صدر زرداری نے ایم کیو ایم کے نامزد کردہ گورنر کامران ٹیسوری کو سبکدوش کردیا اور نہال ہاشمی کو گورنر نامزد کرنے کی سمری منظور کر لی، مگر ایم کیو ایم کے پاس موجودہ ڈھانچے میں ساتھ رہنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آتا۔ سندھ کے نئے گورنر نہال ہاشمی پرانے سیاسی کارکن ہیں۔ انھوں نے اپنے آدرش کی پاسداری کے لیے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں مگر ان کے بھی وہی خیالات ہیں جو سابق گورنر کے تھے۔ کامران ٹیسوری کا انتخاب بھی کچھ عجیب ہی تھا، وہ گورنر بننے سے پہلے ایم کیو ایم کے رکن تک نہیں تھے اور ڈاکٹر فاروق ستار گروپ کے رکن تھے۔ اس سے پہلے وہ پیر پگارا کے حامیوں میں شمار ہوتے تھے۔ 2024ء کے انتخابات کے بعد ایم کیو ایم نے جن اپنے رہنماؤں کو گورنر بنانے کی سفارش کی تھی، ان میں نسرین جلیل نمایاں تھیں، ان کے علاوہ دو اور رہنما بھی شامل تھے مگر کامران ٹیسوری کو اس عہدے کے لیے منتخب کیا گیا۔ کامران ٹیسوری کا تعلق کاروباری طبقے سے ہے اورکراچی کے تاجروں میں وہ ایک منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے تاجروں کی مدد سے گورنر ہاؤس میں آئی ٹی کے کورسز شروع کروائے۔ ان کورسز سے ہزاروں طلبہ مستفید ہوئے۔ ان طلبہ میں کراچی میں رہنے والے تمام نسلی گروہوں کے نوجوان شامل تھے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے رمضان میں افطاریوں کا سلسلہ شروع کیا۔ ہر سال سیکڑوں افراد ان افطار پارٹیوں میں شرکت کرتے تھے۔ انھوں نے رمضان المبارک کے مہینے میں غریبوں میں خیرات بانٹنے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے نوجوانوں میں موٹر سائیکلیں بلامعاوضہ تقسیم کیں۔ گورنر صاحب نے انتظامی معاملات میں مداخلت شروع کردی۔ کراچی اور اندرونِ سندھ ہونے والے حادثات کے بارے میں براہِ راست رپورٹیں طلب کرنے لگے، وہ حادثات میں جاں بحق ہونے والے افراد کے گھروں پر جانے لگے۔ گل پلازہ میں آتش زدگی کے واقعے کے بعد پہلے جو رہنما وہاں پہنچے تھے، ان میں گورنر کامران ٹیسوری بھی شامل تھے۔ انھوں نے اس موقع پر سخت بیانات دیے۔ کامران ٹیسوری سندھ حکومت کی کارکردگی پر ہمیشہ تنقید کرتے تھے۔ ان کی تقاریر میں لسانی پہلو نمایاں ہونے لگا۔ کسی عقل مند شخص کے مشورے پر اپنی دانش کو استعمال کرتے ہوئے انھوں نے گورنر ہاؤس کے مرکزی دروازے پر ایک بڑی گھنٹی لگوائی۔ اس گھنٹی کا مقصد مظلوموں کی مدد کرنا تھا۔ یوں گورنر صاحب مغل بادشاہوں کی پیروی کررہے تھے، اگرچہ کسی مظلوم کو اس گھنٹی بجانے کا فائدہ نہ ہوا مگر موصوف کے گھنٹی بجاتے ہوئے فوٹیج الیکٹرونک میڈیا پر کئی دنوں تک چلتے رہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت دبے دبے الفاظ میں کامران ٹیسوری اورگورنر ہاؤس میں ہونے والی سرگرمیوں پر تنقید کرتی رہی مگر پھر گورنر ٹیسوری نے صدر آصف زرداری، پنجاب اور خیبر پختون خوا کے گورنروں کی طرح زیادہ سیاسی بیانات دیے۔ گزشتہ سال گورنر صاحب نے کراچی کو صوبہ بنانے کا ایجنڈا سنبھال لیا۔ یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ انھیں یہ ایجنڈا ان قوتوں نے تجویز کیا تھا جن قوتوں نے انہیں گورنرکا عہدہ دلانے میں بنیادی کردار ادا کیا یا ایم کیو ایم کی قیادت کے دباؤ پر انھوں نے یہ ایجنڈا اختیار کیا تھا اور وہ اس ایجنڈے کے لیے اتنے جذباتی ہوگئے کہ گورنر ہاؤس میں ایک کانفرنس برپا کردی جس میں کچھ مقررین نے تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے ثابت کیا کہ کراچی کبھی سندھ کا حصہ نہیں تھا۔ مزید یہ طریقہ کار اختیار کیا کہ مہمانوں کو شال اور وہ کیپ تحفہ میں دینے لگے جو کبھی پاکستان کے بانی بیرسٹر محمد علی جناح نے کچھ جلسوں میں پہنی تھی۔ سندھ کی روایت اجرک اور سندھی ٹوپی ہے۔ کراچی کے لوگ جن میں خواتین بھی شامل ہیں یہ اجرک اوڑھتی بھی ہیں اور پہنتی بھی ہیں۔ شال تو کبھی اس خطے کے کلچر کا حصہ ہی نہیں تھی۔  بہرحال ایم کیو ایم کی صورتحال بھی کچھ عجیب قسم کی ہے۔ کراچی اور حیدرآباد میں اب مقبول ترین جماعت تحریک انصاف ہے۔ ان دونوں شہروں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ایم کیو ایم لندن کا ہمدرد بھی ہے مگر کراچی اور حیدرآباد میں یہ لوگ منظم نہیں ہیں۔ چند لوگ اس گروپ کو منظم کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ مختلف قسم کیمشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بہرحال ایم کیو ایم پاکستان کے اندر بھی کئی دھڑے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال الگ الگ گروپ ہوا کرتے تھے ، پھر یہ گروپ ایم کیو ایم کے ساتھ مل گئے اور ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں متحد ہوگئے مگر عملی طور پر یہ گروپ علیحدہ علیحدہ نظر آتے ہیں۔ بعض حلقے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو ایک کمزور کنوینر سمجھتے ہیں۔ ادھر پیپلز پارٹی کے سینیٹر وقار مہدی کی سینیٹ میں کی گئی یہ تقریر اہم ہے کہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی وفاقی اردو یونیورسٹی کی حالت کو بہتر نہ کرسکے تو وہ کراچی کو صوبہ کیسے بنائیں گے۔ شاید یہی وجوہات ہیں کہ ایم کیو ایم نے اب ایک خود مختار بلدیہ کراچی کے قیام کے لیے کوشش کرنے سے زیادہ کراچی کو صوبہ بنانے کے ایجنڈے پر زور دینا شروع کیا۔ ایف بی آر کے سابق چیئرمین شبر زیدی کی یہ بات درست ہے کہ ملک میں کوئی نیا صوبہ نہیں بن سکتا۔ کراچی کو سندھ سے علیحدہ کرنے کا مطلب ایسے تضادات کو ابھارنا ہے جیسے تضادات تقسیمِ ہند کے وقت پیدا ہوئے تھے اور 1947ء میں پیدا ہونے والے تضادات آج بھی اس خطے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ایم کیو ایم کے اندرونی ذرائع مسلسل کہہ رہے ہیں کہ ایم کیو ایم وفاقی حکومت سے علیحدہ ہونے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی ان ہی خیالات کا اظہارکیا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نہال ہاشمی کو گرم جوشی سے مبارکباد تو دی ہے مگر پیپلز پارٹی کی قیادت یہ سوچ رہی ہے کہ کامران ٹیسوری کی گورنر ہاؤس سے رخصتی سے تمام خطرات ٹل گئے ہیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ کراچی کے عوام کی اکثریت اور سندھ کی حکومت میں فاصلے طویل ہیں۔ اگر بلاول بھٹو زرداری گل پلازہ حادثے کی تحقیقات کرنے والے ایک رکنی کمیشن کے سامنے پیش کیے جانے حقائق کا براہِ راست مطالعہ کریں تو انہیں صورتحال کی سنگینی کا انداز ہوگا۔ کراچی دنیا کے بڑے شہروں میں ایک ہے۔ اس شہر کا نظام چلانے کے لیے ایسے ہی بلدیاتی نظام کی ضرورت ہے جیسا نظام نیویارک، لندن، مبمئی، کلکتہ، چنائی اور شنگھائی وغیرہ میں ہے۔ اس بااختیار نظام سے گورننس کی صورتحال بہتر ہوسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک بڑا مسئلہ ملازمتوں کا ہے۔ سندھ پبلک سروس کمیشن کی کارکردگی پر سے تو کراچی والوں کا اعتماد عرصہ دراز پہلے ہی اٹھ چکا تھا، اب تو اندرونِ سندھ کے تعلیم یافتہ نوجوان بھی اس کمیشن کی کارکردگی سے مایوس ہیں۔ نوجوانوں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ گریڈ 1 سے گریڈ 17 تک تمام تقرریاں سندھ پبلک سروس کمیشن کے تحت ہوں اور اس کمیشن کی جدید خطوط پر اس طرح تنظیمِ نو کی جائے کہ شفافیت اور میرٹ میں اس کی مثال بن جائے۔ بلاول صاحب محض یہ کہنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا کہ سندھ کا مقابلہ دیگر صوبوں سے نہیں بلکہ دنیا بھر سے ہے۔ اس کے لیے حقیقی اقدامات کی ضرورت ہے۔ بعض اینکر پرسن کی نئے گورنر نہال ہاشمی پر سخت تنقید سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ وزیر اعظم ہاؤس میں ہوا، اگر یہ مفروضہ درست ہے تو پھر مستقبل میں اس حکومت کے معاملات خراب ہوسکتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل