Loading
متحدہ عرب امارات نے صدر ٹرمپ کی اپیل پر آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے امریکی قیادت میں ہونے والی عالمی اقدام میں شامل ہونے کا عندیہ دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ بیان متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے ایک آن لائن تقریب کے دوران دیا جو امریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز کی جانب سے منعقد کی گئی تھی۔
آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انور قرقاش نے کہا کہ خلیج میں بڑھتی کشیدگی اور جہاز رانی کو لاحق خطرات کے باعث آبنائے ہرمز کی سکیورٹی عالمی سطح پر اہم مسئلہ بن چکی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر امریکا کی قیادت میں کسی بین الاقوامی بحری اقدام کا آغاز کیا جاتا ہے تو متحدہ عرب امارات اس میں شمولیت پر غور کر سکتا ہے۔
انور قرقاش نے مزید بتایا کہ کسی بھی سطح پر اس وقت متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ موجودہ کشیدگی کے دوران خطے میں استحکام برقرار رکھنا اور عالمی تجارت کو متاثر ہونے سے بچانا ضروری ہے۔
خیال رہے کہ دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہ جہاں سے عالمی تیل منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔خلیج کے بیشتر تیل برآمد کرنے والے ممالک اسی بحری راستے پر انحصار کرتے ہیں۔
ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کیا ہوا ہے اور یہاں سے گزرنے والے غیرملکی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
جس پر صدر ٹرمپ نے نیٹو ممالک سے اپیل کی تھی کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے اپنے بحری جہاز بھیجیں تاکہ ایران کیخلاف امریکی جنگ میں کام آئیں تاہم کسی ملک نے آمادگی ظاہر نہیں کی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل