Tuesday, March 17, 2026
 

ایران اور اسرائیل جنگ

 



برطانیہ کے درجنوں اراکین پارلیمنٹ اور لارڈز نے اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کرنے پر حکومت برطانیہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا۔ برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ 1916ء کے بالفور معاہدے کے نتائج آج سامنے آرہے ہیں اسی معاہدے سے 1948ء میں فلسطینیوں کا قتل عام ہوا ۔ نقبہ یعنی 1948کی عرب اسرائیل جنگ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی گئی اور اسرائیل وجود میں آیا ۔ خط میں 1917ء تا1948ء فلسطینیوں پر ہوئی تاریخی زیادتیوں کی مذمت کی گئی ہے ۔ خط پر 45سے زائد برطانوی ارکان پارلیمنٹ اور لارڈ ز نے دستخط کیے ہیں۔ ارض فلسطین میں اسرائیل کا قیام ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت برطانوی سامراج نے کیا تھا۔ اسرائیل کا قیام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔ وہ اس طرح کہ انیسویں صدی کے شروع میں برطانوی سامراج کو یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ سرزمین حجاز ایران اور دیگر عرب علاقوں میں تیل اور کئی نایاب معدنیات کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں ۔ صنعتی ترقی اور دنیا پر اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے یہ بلیک گولڈ ناگزیر تھا۔ یہ ہے اعلان بالفور کا تاریخی پس منظر، ان قیمتی قدرتی وسائل کی چوکیداری اور ان کی حفاظت کے لیے اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا کیونکہ دوسری طرف سوویت یونین بھی نظریاتی طور پر بڑی تیزی سے عرب خطے میں اپنا اثرورسوخ پھیلا رہا تھا۔ ایرانی شہنشاہیت کا خاتمہ امریکا کے لیے ایک ناقابل تلافی سٹرٹیجک تباہی تھی۔ انقلاب کی ابتداء میں ہی ایرانی پارلیمنٹ کو بم سے اُڑا دیا گیا جس میں 73اراکین پارلیمنٹ شہید ہوئے ۔ جس میں صدر، وزیر اعظم ، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، سائنسدان اور مذہبی اسکالر کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا اور یہ حالات اسلامی انقلاب کے ابتدائی تین سالوں کے ہیں ۔ مزید یہ کہ 8سال تک عراق کو ایران پر حملہ آور رکھا اس کے پیچھے امریکا سمیت دنیا کے درجنوں ممالک تھے ۔ شہنشاہ ایران کے خلاف احتجاجی تحریک ابھی ابتدائی مراحل میں تھی کہ مغربی سامراجی میڈیا اور اس کے گماشتوں نے اسے مذہبی شیعہ تحریک کا نام دے دیا تاکہ باقی مسلم دنیا کو اس سے دور رکھا جائے ۔ اسلامی دنیا میں ایران کے خلاف تعصب پھیلانے کے لیے مذہب کا بھر پور استعمال کیا گیا ۔ لیکن اس کا توڑ امام خمینی نے یہ نکالا کہ انھوں نے مولانا مودودی سمیت اسلامی دنیا کے تمام اہم مذہبی رہنماؤں سے تعلق قائم کر لیا۔ پاکستان کا یہ مؤقف دراصل اس اصولی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت پاکستان ہمیشہ علاقائی اور عالمی تنازعات کے حل کے لیے سفارتکاری اور مذاکرات کو ترجیح دیتا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام پاکستان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ لاکھوں پاکستانی محنت کش اس خطے کے مختلف ممالک میں کام کر رہے ہیں اور پاکستان کی معیشت کے لیے ان کی ترسیلات زر انتہائی اہم ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے سعودی عرب، ایران اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات بھی ہیں۔46برس بیت گئے امریکی سامراجی سازشوں حملوں کا سیلاب تھما نہیں بلکہ گذشتہ برس جون میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ 12روزہ جنگ میں ایران کی ایٹمی تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے ۔ 28فروری کو ایران پر موجودہ حملہ اسی جھوٹ کے ساتھ شروع کیا گیا۔ اصل مقصد رجیم چینج تھا۔ ان کو یقین تھا کہ جیسے ہی امریکا ، اسرائیل ایران پر حملہ کریں گے ایرانی قوم لاکھوں کی تعداد میں امریکا اسرائیل کی حمایت میں نکل آئے گئی جنھیں ایرانی مذہبی قیادت نے غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے ۔ لیکن ہوااس کے برعکس۔ دور نہ جائیں ابھی چند دن پیشتر لاکھوں ایرانی شہری پورے ایران خاص طور پر تہران اور اصفہان وغیرہ میں موجودہ مذہبی قیادت کی حمایت میں نکل آئے جس میں بے شمار خواتین بھی شامل تھیں ۔ جب کہ عین اسی وقت امریکی وزیر دفاع یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ ایرانی اعلی قیادت زیر زمین چھپ گئی ہے جب کہ ایرانی صدر سمیت تمام اعلی قیادت یوم القدس پر لاکھوں ایرانی عوام کی سڑکوں پر قیادت کر رہی تھی۔ ایران رجیم چینج تو نہ ہو سکی لیکن اس جنگ کے تباہ کن اثرات نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ اب امریکا اسرائیل ہر صورت اس جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔ لیکن ایران کسی صورت جنگ بندی پر آمادہ نہیں مگر اپنی شرائط پر ۔ واشنگٹن پوسٹ نے امریکا کی 18مختلف خفیہ ایجنسیوں کے حوالے سے بتایا کہ انھوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو 20فروری کو ہی بتا دیا تھا کہ ایران میں رجیم چینج ناممکن ہے اس کے باوجود ایران پر حملہ کردیاگیا ۔ موجودہ امریکا اسرائیل ایران جنگ بھیانک مرحلے میں داخل ہونے والی ہے 19مارچ اور اس کے بعد ۔ مارچ ، اپریل،مئی انتہائی خطرناک مہینے ہیں جو بہت کچھ تبدیل کرکے گزر جائیں گے ۔ سربراہان مملکت اور حکومتیں سخت خطرے میں ہیں ۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو بھی بدترین وقت میں داخل ہوگئے ہیں۔ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ اﷲ خیر کرے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل