Loading
وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت سولرائزیشن کے خلاف نہیں تاہم منصفانہ اور متوازن سولر پالیسی کی حامی ضرور ہے، قومی گرڈ پر صارفین کی واپسی سے اضافی بجلی کی پیداوار سے 12 ارب روپے سے زائد کی بچت ہوئی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اویس لغاری نے کہا کہ غیر منظم رؤف ٹاپ سولر سے گرڈ اسٹیبلٹی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، رات کے وقت بجلی کیلئے گیس اور دیگر مستحکم ذرائع ضروری ہیں۔
اویس لغاری نے کہا کہ قطر سے ایل این جی سپلائی متاثر جبکہ طلب میں مینجمنٹ ناگزیر ہے، کھاد سیکٹر کو گیس کی فراہمی ترجیح رہے گی، جس کے باعث کمرشل اور ہائی اینڈ صارفین پر عارضی پابندیاں لگ سکتی ہیں۔
اویس لغاری نے کہا کہ ہم مکمل طور پر کوئلے پر انحصار نہیں کرسکتے، گیس پلانٹس گرڈ کیلئے ضروری ہیں، کوئلہ بیس لوڈ جبکہ گیس پلانٹس لچک دار بجلی فراہم کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کیپٹو پاور لیوی کے بعد صنعتی صارفین کی گرڈ پر واپسی ہوئی، قومی گرڈ پر صارفین کی واپسی سے بجلی طلب میں اضافہ ہوا، سرپلس پاور پیکج سے صنعتوں کو 12 ارب روپے سے زائد بچت ہوئی۔
اویس لغاری نے کہا کہ جنوری 2026 میں بجلی کی طلب میں 12.1 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا جبکہ ایل این جی بحران کے باوجود پاکستان کا پاور سسٹم مستحکم ہے البتہ حکومت توانائی اصلاحات، نجکاری اور تھرڈ پارٹی ایکسس پر کام کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ صارفین کو سولر اور کلین انرجی لگانے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، حکومت کی ترجیح توانائی سیکیورٹی، سسٹم اسٹیبلٹی اور معیشت کا تسلسل ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل