Loading
امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں یمن کے حوثی ایران کی حمایت میں میدان میں آگئے اور میزائل حملوں سے مختلف اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی کے قریبی اتحادی حوثی فورسز نے اسرائیل کے حساس فوجی مقامات پر میزائل حملے کیے ہیں۔
حوثی فورسز نے اعلان کیا ہے کہ اس جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار اسرائیل پر حملہ کیا ہے اور جارحیت ختم ہونے تک تمام محاذوں پر اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن سے داغے گئے ایک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کردیا گیا تاہم حوثیوں کے اس جنگ میں شریک ہونے سے بحران مزید خطرناک رخ اختیار کرگیا۔
بی بی سی ریڈیو 4 سے گفتگو کرتے ہوئے ریسرچ فیلو فاریہ المسلمی کا کہنا تھا کہ حوثیوں کے جنگ میں شمولیت بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ وہ ایک اور اہم بین الاقوامی تجارتی بحیرہ احمر پر بیٹھے ہیں۔
اُنھوں نے مزید بتایا کہ حوثیوں نے ابھی تک یہ نہیں کہا ہے کہ وہ بحیرہ احمر پر حملہ کریں گے لیکن حوثیوں نے بحیرہ احمر کی ناکہ بندی کردی تو یہ عالمی قوتوں سمیت دنیا کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہوگا۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد بحیرہ احمر کی ممکنہ بندش کے سوال پر فاریہ المسلمی نے بی بی سی رہوڈیو 4 کو بتایا کہ یہ ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ ہمارے پاس پہلے سے ہی ایک ڈراؤنا خواب ہے، اور یہ اسے مزید خوفناک بنا دے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل