Loading
ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری کے انتقال کی خبر بادی النظر میں ایک اور علمی شخصیت کے رخصت ہونے کی اطلاع معلوم ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ہمارے عہد کی ایک ایسی فکری تنہائی کا آغاز ہے جس کا ادراک شاید ہمیں ابھی پوری طرح نہیں ہو سکا۔ کچھ لوگ اپنے زمانے میں بولتے ہیں اور خاموش ہو جاتے ہیں، مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو خاموش ہو کر بھی بولتے رہتے ہیں۔اُن کی آواز کی بازگشت کبھی نہیں تھمتی۔ڈاکٹر انصاری اسی قبیل سے تھے۔ ان کی زندگی ایک مسلسل مکالمہ تھی اور ان کی رحلت اس مکالمے کا اختتام نہیں بلکہ اس کی شدت میں اضافہ ہے۔ وہ اس عہد زوال میں ”اسلامی مابعد الطبیعیات“ کے اس قلعے کے مکین تھے جس پر پہرا دینا بڑے بڑوں کے بس کی بات نہ تھی۔
ہمارا عہد الفاظ کے سحر اور اصطلاحات کے طلسم میں مبتلا ہے۔ ”آزادی، ترقی، انسانی حقوق، جمہوریت“ یہ سب الفاظ ہمارے شعور کا اس طرح حصہ بن چکے ہیں کہ ہم ان پر سوال اٹھانا بھی فکری گستاخی اور ذہنی پسماندگی سمجھتے ہیں، مگر ڈاکٹر انصاری کی پوری فکری جدوجہد انہی ”مقدس گائے“ نما الفاظ کے جادو کو توڑنے کی ایک نہایت سنجیدہ اور ہمہ گیر کوشش تھی۔ وہ ہمیں یہ باور کراتے تھے کہ الفاظ کبھی”ویلیو نیوٹرل“ نہیں ہوتے؛ ان کے پیچھے ایک پورا تصورِ کائنات، ایک مخصوص تصورِ انسان اور ایک خاموش مگر طاقتور مابعد الطبیعیاتی نظام کارفرما ہوتا ہے، وہ عمر بھر اس استعماری بیانیے کی ”ڈی کنسٹرکشن“ کرتے رہے جس نے ہمیں اپنی ہی اصل سے بے گانہ کر دیا تھا۔
مغربی فکر میں ”لبرٹی“ یا آزادی کا جو تصور جان لاک اور ژاں ژاک،روسو سے ہوتا ہوا جدید دنیا تک پہنچتا ہے، وہ بہ ظاہر انسان کو ہر قسم کے استبداد اور جبر سے آزاد کرتا ہے، مگر ڈاکٹر انصاری کے نزدیک یہ آزادی دراصل ایک مہیب اور نئے جبر کی بنیاد رکھتی ہے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ جب انسان کو ”خود مختار“تسلیم کر لیا جاتا ہے تو وہ کسی بالاتر سچائی یا وحی کا پابند نہیں رہتا۔ یوں خیر و شر کی تمیز سماجی معاہدوں کی محتاج ہو کر تحلیل ہو جاتی ہے، اور انسان اپنی جبلتوں اور خواہشات ہی کو معیارِ حق بنا لیتا ہے۔ یہیں سے آزادی ایک اخلاقی قدر کے بجائے ایک نفسیاتی اشتہا بن جاتی ہے،اور انسان، جو بہ ظاہر خدا کی بندگی سے آزاد ہوا تھا، لاشعوری طور پر اپنی ہی انا اور خواہشات کا اسیر ہو کر ا نھیں خدا بنا بیٹھتاہے۔ ڈاکٹر صاحب اسے ”نفس کی حاکمیت“ قرار دیتے تھے جو جدید لبرل ازم کا اصل چہرہ ہے۔
اسی طرح ”پروگریس“ (ترقی) کا وہ تصور، جسے ایمانوئل کانٹ نے عقلی بنیادیں فراہم کیں اور کارل مارکس نے تاریخی جدلیات کے قالب میں ڈھالا، ہمارے عہد کا ایک ایسا ”سیکولر ایمان“ بن چکا ہے جس پر شک کرنا بھی گویا جہالت کی علامت ہے۔ مگر ڈاکٹر انصاری اس خود ساختہ ایمان کے سب سے بڑے اور بے لچک ناقد تھے۔ وہ مادی ترقی کے ڈھول کا پول کھولتے ہوئے پوچھتے تھے کہ اگر تاریخ واقعی مسلسل بہتری اور ارتقاء کی طرف گامزن ہے تو انسان کا باطن پہلے سے زیادہ مضطرب، شکستہ اور تنہا کیوں ہے؟ اگر معاشی ترقی ایک عالمگیر حقیقت ہے تو انسانی رشتے اتنے نازک اور مفاد پرستانہ کیوں ہو گئے ہیں؟ اور اگر معلومات کے انبار میں اضافہ ہوا ہے تو وہ ”حکمت“ کہاں کھو گئی جو روح کو جلا بخشتی تھی؟ ان کے نزدیک یہ سارا بیانیہ دراصل ایک ایسے ”روبوٹک انسان“ کی تخلیق کرتا ہے جو باہر کی دنیا کو تو تسخیر کر لیتا ہے مگر اپنے وجود کے اندر عبرتناک شکست سے دوچار رہتا ہے۔
”ہیومن رائٹس“ یا حقوقِ انسانی کے بارے میں بھی ان کی رائے اسی قدر بنیادی اور انقلابی تھی۔ وہ اسے ایک آفاقی صداقت ماننے سے اس لیے انکار کرتے تھے کیونکہ ان کے نزدیک حق کا منبع اگر خود انسان ہے تو پھر کائنات کے اربوں انسان اپنی اپنی ضرورت کے مطابق حق کی تعریف وضع کریں گے، جس کا نتیجہ سوائے فکری انارکی کے کچھ نہیں نکلے گا۔ اگر حق کا منبع ”خدا“ نہیں ہے تو پھر وحی کے بغیر کوئی بھی حق مستقل بنیاد فراہم نہیں کر سکتا۔ یوں جدید دنیا کا یہ سب سے ”مقدس“ تصور بھی ایک ایسے خلا میں معلق نظر آتا ہے جہاں ضابطے تو موجود ہیں مگر ان کی کوئی اخلاقی جڑ موجود نہیں۔ یہ ایک ایسی شریعت ہے جس کا کوئی شارع نہیں، ایک ایسا قانون ہے جس کا کوئی ابدی ماخذ نہیں۔ ڈاکٹر صاحب اسے مغربی سامراج کا وہ ہتھیار سمجھتے تھے جسے وہ دوسری تہذیبوں کو زیر کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
جمہوریت کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کا موقف ان کے اسی مربوط فکری تسلسل کا حصہ تھا، وہ اسے محض ایک سیاسی طریقہ کار نہیں بلکہ ایک خاص ”سیاسی مابعد الطبیعیات“ کا اظہار سمجھتے تھے، جہاں حاکمیت اعلیٰ عوام کے سپرد کر دی جاتی ہے۔ ان کا بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا اکثریت کی خواہش کو ”حق“ کا متبادل قرار دیا جا سکتا ہے؟ اگر اکثریت ہی حق کا معیار بن جائے تو پھر تاریخ میں ہونے والے ہر منظم ظلم اور ہر اخلاقی انحراف کو بھی جمہوری جواز فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر انصاری کے نزدیک اسلامی سیاست کا جوہر اس سے یکسر مختلف ہے، جہاں حاکمیت صرف اور صرف اللہ کی ہے اور انسان اس زمین پر اس کا ”خلیفہ“ اور امانت دار ہے، نہ کہ خود مختار قانون ساز۔
سرمایہ دارانہ نظام پر ان کی تنقید ان کی پوری علمی زندگی کا حاصل اور عملی اظہار تھی۔ ان کے نزدیک سرمایہ داری محض ایک معاشی ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر اور جابرانہ ”طرزِ حیات“ ہے جو انسان کو اللہ کے ”عبد“ کے منصب سے گرا کر ایک ”مصرف کنندہ“ کی سطح پر لے آتا ہے۔ اس نظام میں انسان کی پہچان اس کے تقویٰ، علم یا کردار سے نہیں بلکہ اس کی قوتِ خرید ہوتی ہے۔ یہاں زندگی کا مقصد رضائے الٰہی یا تزکیہ نفس نہیں بلکہ ”زیادہ سے زیادہ حصولِ دولت“ بن جاتا ہے، یوں آزادی کا خوبصورت خواب دراصل ایک ایسی منڈی میں تبدیل ہو جاتا ہے جہاں ہر چیز، ہر جذبہ اور ہر رشتہ قابلِ فروخت ہے،حتیٰ کہ انسان کا ضمیر بھی۔
ڈاکٹر انصاری کی علمی عظمت اس بات میں مضمر نہیں تھی کہ انہوں نے ان تصورات پر محض روایتی تنقید کی، بلکہ کمال یہ تھا کہ انہوں نے یہ جراحی مغرب کی اپنی فکری روایت کے اندر رہتے ہوئے اور انہی کے منطقی اسلوب میں کی۔ وہ مغرب کو رد کرنے سے پہلے اسے اس کی جڑوں تک سمجھتے تھے اور یہی وہ علمی دیانت تھی جو انہیں محض ایک مبلغ نہیں بلکہ ایک ”فیلسوف“ بناتی ہے۔ ان کے ہاں جذباتی نعرہ بازی تھی نہ ہی سطحی انکار، بلکہ ایک ایسی گہری فکری بصیرت تھی جو قاری کو اپنے ہی قائم کردہ یقینات پر شک کرنے اور دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیتی تھی۔
آج ان کی رحلت کے بعد یہ سوال نہایت اہم ہے کہ کیا ان کی فکر محض کتابوں کے گرد آلود صفحات میں محفوظ ہو جائے گی یا یہ ایک ”زندہ روایت“ کی صورت اختیار کرے گی؟ اس کا جواب ہمیں ان کے ان شاگردوں اور رفقاء کے کام میں ملتا ہے جنہوں نے اس فکری چراغ کو بجھنے نہیں دیا۔ سید خالد جامعی نے جس جرات اور بے باکی کے ساتھ جدید تہذیب کے فکری تضادات کو بے نقاب کیا، وہ اسی انصاری روایت کا تسلسل ہے۔ علی محمد رضوی کی تحریروں میں وہی گہرائی اور تہذیبی شعور جھلکتا ہے جو استاد کی برسوں کی صحبت کا فیض ہے اور ڈاکٹر عبدالوہاب سوری نے جس علمی وقار اور فلسفیانہ سنجیدگی کے ساتھ اس روایت کو اکیڈمک دائروں اور جامعات میں زندہ رکھا، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ فکر اب ایک فرد سے نکل کر ایک مضبوط ”دبستان“ بن چکی ہے۔ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری اب ایک تاریخ ہیں، اور تاریخ سے وہی قومیں فیض پاتی ہیں جو اس سے سبق سیکھتی ہیں، محض نوحہ خوانی نہیں کرتیں
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل