Friday, April 03, 2026
 

پاکستانی نوجوانوں کا مقدمہ

 



یہ ایک پاکستانی نوجوان کی کہانی ہے جو ایک چھوٹے سے علاقے سے تعلیم کے حصول کے لیے بڑے شہر کا رخ کرتا ہے۔اس کے والدین نے مشکل حالات میں اسے اعلی تعلیم کے لیے بڑے شہر بھیجا تھا۔اس نے ایم ایس سی فزکس کیا اور فوری طور پر روزگار نہ ملنے کی وجہ سے اس نے ایم فل میں داخلہ لے لیا۔اب وہ پی ایچ ڈی کرنے کی کوشش میں ہے ۔لیکن اس کے بقول نہ صرف اسے پچھلے چند برسوں میں کوئی معمول کا روزگار یا ملازمت مل سکی اور نہ اس کے ساتھ پڑھنے والے دیگر لوگ ملازمت حاصل کرسکے ہیں ۔اسی طرح وہ کہتا ہے کہ ہمارے یہ نوجوان ٹیوشن ، کرائے پر ٹیکسی یا موٹر سائیکل چلا کر اس بڑے شہر میں گزارہ کررہے ہیں ۔یہ کہانی اس نوجوان تک محدود نہیں بلکہ چھوٹے شہروں سے بڑے خواب لے کرآنے والے ایسے نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔اب یہ تعداد لڑکوں تک محدود نہیں ہے بلکہ پڑھی لکھی لڑکیوں کی سطح پر عدم روزگار کا معاملہ کافی سنگین صورتحال اختیار کرگیا ہے ۔بقول شاعر: تم نے تو محض بس خواب دیکھے ہیں ہم نے تو ان کے عذاب دیکھے ہیں پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں 15-29 برس یا 15-24برس کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اکثریتی نوجوان طبقہ پر مشتمل ہے۔ اس وقت 2023 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 241.1  میلن تھی جب کہ اب اس آبادی کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ سالانہ کی بنیاد پر اس میں اضافہ ہورہا ہے۔اس وقت ایک اندازے کے مطابق 67فیصدنو جوان ملک میں موجود ہیں جن کی عمریں 30برس سے ہم کم کہہ سکتے ہیں۔جب کہ 26فیصد نوجوان 15-29برس کے ہیں۔  نوجوانوں کی یہ بڑھتی ہوئی یہ آبادی اس وقت ریاست اور حکومت کے نظام کے لیے ایک بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے ۔اس میں وہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل ہیں جو اعلی تعلیم رکھتی ہیں اور ایسے نوجوان بھی شامل ہیں جو کم پڑھے لکھے یا ناخواندہ لڑکے اور لڑکیاں جو شہروں اور دیہی سطح پر رہتے ہیں ۔ ان کے لیے معاشی روزگار پیدا کرنا یا معاشی سطح پر سازگار حالات کا پیدا ہونا، نئے معاشی امکانات کا سامنے آنا، چھوٹی اور بڑی صنعتوں کا فروغ،چھوٹے کاروبار جیسے مواقع کا سامنے آنا ایک بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس وقت 2025ء کے مطابق 15-24 برس کے نوجوانوں میںبے روزگاری کی شرح 9.86 فیصد تک ہے جب کہ کچھ رپورٹس اس شرح کو 12.06 فیصد تک بتاتے ہیں۔ مجموعی بے روزگاری کی شرح 7.01فیصد تک بھی بتائی جاتی ہے اور اس وقت بے روزگار افراد کی تعداد 4.5ملین سے بڑھ کر 5.9ملین تو ہوگئی ہے۔ جب کہ ایک اور رپورٹ کے مطابق تعلیم ، تربیت اور روزگار نہ ہونے کی تعداد 15ملین تک ہے۔ اعلی تعلیم یافتہ افراد جن میں لڑکیاں بھی شامل ہیں ان میں بے روزگاری کی شرح زیادہ ہے ۔یعنی ہم عورتوں میں بے روزگاری کی شرح23.9فیصد تک دیکھ سکتے ہیں ۔بے روزگاری کی وجہ سے نئی نسل میں مختلف نوعیت کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں جن میں ملک چھوڑنے میں اضافہ، منشیات کے استعمال میں حد سے زیادہ اضافہ جن میں لڑکیاں بھی شامل ہیں ، خود کشی کے رجحان میں اضافہ،سماجی تعلقات کی کمزوری،غیر یقینی صورتحال، مایوسی ،غصہ اور نفرت کا پیدا ہونا ،ذہنی دباؤ جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں۔یہ تعداد دیہی علاقوں کے مقابلے میں شہری اور بڑے علاقوں میں زیادہ ہے۔ ایک رپورٹس کے مطابق 18-31برس کے17ملین نوجوان منشیات کا استعمال کررہے ہیں۔سماجی اور معاشی یا سیاسی ناانصافی کی وجہ سے بھی نئی نسل میں حکومت کے نظام پر اعتماد کم ہو رہا ہے۔ ہم یہ بھول رہے ہیں کہ اگر ہمارے حکومتی نظام نے نئی نسل کے مسائل پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی اور ان کی ترجیحات کو اپنی ترجیحات کا حصہ بنا کر عملدرآمد کا موثر نظام نہ بنایا تو نئی نسل کی بڑی تعداد اس نظام کے خلاف ایک بڑے بم کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔یہ جو نئی نسل میں انتہا پسندی اور پرتشدد رجحانات بڑھ رہے ہیں اس کی وجہ سے بھی یہ سماج ایک مشکل سماج بنتا جارہا ہے۔ہم نئی نسل کے طرز عمل پر سخت تنقید تو کررہے ہیں مگران کو جو سیاسی ،سماجی اور معاشی مسائل درپیش ہیں ان پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی جس سے نئی نسل کا مقدمہ اور زیادہ کمزور ہونے کا سبب بن رہا ہے۔ آپ حکومت کی پالیسیوں پر نظر ڈالیں یا جو ترقیاتی منصوبے ملک میں بن رہے ہیں اس میں انفراسٹرکچر ترقی پر تو بہت توجہ دی جا رہی ہے ۔مگر اول، تو یہ ترقی بھی غیر منصفانہ ہے اور ترقی کا محور بڑے شہروں تک محدود ہے۔لیکن المیہ یہ ہے کہ حکومت کے نظام میں انسانی ترقی اور بالخصوص محروم اور کمزور طبقات کے مسائل کے حل میں نہ تو کوئی توجہ دی جا رہی ہے اور نہ نئی نسل کی ترجیحات حکومت کی پالیسیوں سے جھلک رہی ہیں۔چھوٹے اور بڑے شہروں میں سیاسی، سماجی اور معاشی تفریق بڑھ رہی ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہماری ترقی کا دائرہ کار محدود افراد یا علاقوں تک محدود ہے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نئی نسل چاہے وہ پڑھی لکھی ہو یا کم پڑھی لکھی ،یا ناخواندہ یا لڑکے اور لڑکیاں ان کا پرسان حال کون بنے گا اور کون سا نظام ان کی سرپرستی کرے گا۔ حکومت کا نظام جو طاقت ور افراد کی حکمرانی ہی کے گرد گھومتا ہے اس میں سب سے زیادہ سیاسی اور معاشی استحصال اس کمزور لوئیر اورلوئر مڈل کلاس کا ہو رہا ہے اور ان پر زیادہ سے زیادہ بوجھ ڈال کر ہم ان کی زندگیوں میں پہلے سے موجود مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔18ویں ترمیم کے بعد یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اب صوبائی اور مقامی حکومتوں کا نظام اپنی بہتر گورننس کے نظام کی بنیاد پر نئی نسل کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گا۔لیکن آج اگر ہم دیکھیں تو یہ نئی نسل عملاً 18ویں ترمیم کے ثمرات سے فایدہ نہیں اٹھا سکی ۔اصل بحران یہ ہے کہ ہمارے حکومتی نظام میں جو نئی نسل کے مسائل ہیں ان پر کوئی سنجیدگی دیکھنے کو نہیں مل رہی ۔ یہ جو دور دراز علاقوں میں رہنے والی نئی نسل ہے اس کا المیہ اس لیے بھی بڑا ہے کہ ان کے اپنے علاقوں میں نہ تو وسائل ہیں اور نہ معاشی امکانات اور اسی بنیاد پر ان کو بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔لیکن بڑے شہروں میں بھی روزگار کے نام پر جو ان کا معاشی استحصال ہو رہا ہے اس پر بھی حکومت بے بس یا خاموش نظر آتی ہے۔ اگرچہ حکومت نے کئی ناموں کے ساتھ نئی نسل کی ترقی اور بالخصوص معاشی ترقی کے مختلف نوعیت کے پروگرام شروع کیے ہوئے ہیں اول ان میں سے بیشتر پروگراموں کی نوعیت خیراتی پروگراموں تک محدود ہے ۔ اگر ہم نے واقعی حکومت کی سطح پر نئی نسل کو بنیاد بنا کر شفافیت اور ترقی کے نظام کو لے کر آگے بڑھنا ہے تو سب سے پہلے اپنی موجودہ سیاسی،معاشی اور ترقیاتی حکمت عملی کو ایک بڑی مضبوط سیاسی کمٹمنٹ کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔ اس کی ایک شکل وسائل اور درست ترجیحات اور صلاحیت کی بنیاد پر نئی نسل کی سطح پر مالی سرمایہ کاری یعنی ان کے بجٹ میں بہت زیادہ اضافہ کرنا ہوگا۔ موجودہ حالات میں ہم جو وسائل وفاقی اور صوبائی سطح پر پرائمری تعلیم یا ہائر ایجوکیشن یا ٹیکنیکل ایجوکیشن پر خرچ کررہے ہیں اس سے اس نئی نسل کی ترقی ممکن نہیں۔اسی طرح جب تک نئے روزگار پیدا نہیں ہونگے تو نئی نسل کا معاشی مقدمہ کیسے ترقی کی طرف آگے بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے مسئلہ کا حل نئی نسل کو گالی دینے یا ان سے نالاں ہونا نہیں بلکہ حکومتی نظام کو اپنی ترجیحات کو نئی نسل کی ترجیحات کیساتھ جوڑ کر آگے بڑھنا ہوگا۔یہ کام روائتی اور فرسودہ خیالات سے نہیں بلکہ جدید حکمرانی کے نظام اور تصورات کی بنیاد پر آگے بڑھ سکتا ہے اور یہ ہی نئی نسل کے مفاد میں ہوگا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل