Friday, April 03, 2026
 

شہید ذوالفقار علی بھٹو کی دائمی میراث

 



ریاستی قیادت کا اصل امتحان یہ ہے کہ ایک بہتر اور محفوظ دنیا کا خواب دیکھنے کی بصیرت ہو، اور اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے جرات، استقامت اور صبر موجود ہو۔یہ فکر انگیز قول دراصل قیادت کے حقیقی جوہر کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قیادت محض اقتدار کے حصول یا اس کے استعمال کا نام نہیں، بلکہ ایک بلند وژن رکھنے، حالات کے جبر کا مقابلہ کرنے، اور وقت کی سخت آزمائشوں کے باوجود اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا نام ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ رہنما دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جو وقتی حالات کے ساتھ بہہ جاتے ہیں، اور دوسرے وہ جو اپنے عزم، بصیرت اور جرأت سے نہ صرف حالات کا رخ موڑتے ہیں بلکہ قوموں کے خوابوں کی تعبیر بھی رقم کرتے ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا تعلق مؤخر الذکر طبقے سے تھا۔شہید بھٹو نے اپنے عہد کی آمرانہ اور گھٹن زدہ سماجی و سیاسی فضا کو چیلنج کیا اور انسانی حقوق، انسانیت کے وقار ، مساوات اور انصاف کے اصولوں سے جڑے ایک نئے سیاسی شعور کی بنیاد رکھی۔ انھوں نے مطلق العنانیت کی دباؤ ڈالنے والی آوازوں کو رد کرتے ہوئے ایک جراتمندانہ راستہ اختیار کیا۔ اسی لیے، جب ان کی برسی مناتے ہیں، تو میں نہ صرف ایک عوامی رہنما اور عظیم مدبر کو یاد کرتا ہوں جنھیں قریب سے جاننے کا مجھے اعزاز حاصل رہا، بلکہ اس گہرے نقش کو بھی محسوس کرتا ہوں جو انھوں نے پاکستان کی روح پر چھوڑا۔ ان کی زندگی اس یقین کی مظہر تھی کہ سیاست، اپنی اعلیٰ ترین صورت میں، عوام کی خدمت کا مقدس فریضہ ہے۔ ان کے انتقال کے طویل عرصے بعد بھی ان کی روشنی مدھم نہیں ہوئی، ان کی آواز خاموش نہیں ہوئی، اور ایک جامع، منصفانہ، متحد، خوشحال، مضبوط اور باوقار پاکستان کا ان کا وژن آج بھی ہماری رہنمائی کر رہا ہے۔مجھے فخر ہے کہ میرا اپنا سیاسی سفر قائدِ عوام کے نظریات کی روشنی میں پروان چڑھا۔ قائد عوام نے ہی بے آوازوں کو آواز دی اور عوام کو یہ شعور دیا کہ وہ محکوم بننے کے لیے نہیں بلکہ اپنی تقدیر کے خود مالک بننے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ ان کا یہ یقین کہ اقتدار عوام کا حق ہے، میری سیاسی زندگی کے ہر مرحلے میں میرے لیے مشعلِ راہ رہا۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر سے لے کر وزیر اعظم اور اب چیئرمین سینیٹ تک۔ آج جب میں سینیٹ کی صدارت کر رہا ہوں، تو مجھے ان کا وژن اس آئین میں نظر آتا ہے جو انھوں نے ہمیں دیا، اور اس ادارے میں جو انھوں نے وفاق کے تحفظ کے لیے قائم کیا۔ شہید بھٹو کی قیادت کا سفر ابتدائی طور پر قائداعظم محمد علی جناح کی عظیم شخصیت سے متاثر ہوا۔ صرف سترہ برس کی عمر میں انھوں نے قائداعظم کو خط لکھا کہ وہ ایک دن پاکستان کے لیے اپنی جان قربان کریں گے اور انھوں نے اپریل 1979 میں اپنی شہادت کے ذریعے اس وعدے کو پورا کیا۔ قائداعظم نے انھیں جواب میں نصیحت کی کہ سیاست کا گہرا مطالعہ کریں مگر تعلیم کو نظرانداز نہ کریں۔ یہی تعلق ان کے سیاسی فلسفے کی بنیاد بنا۔ برکلے اور آکسفورڈ جیسی ممتاز جامعات سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد، جہاں انھوں نے محض دو سال میں قانون کی ڈگری مکمل کی، بھٹو صاحب وطن واپس آئے۔ جلد ہی وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے لگے، اور 1958 میں صرف تیس برس کی عمر میں ملکی تاریخ کے کم عمر ترین وزیر بنے۔ ان کی سفارتی صلاحیتیں ابتدا ہی سے نمایاں تھیں۔ 1963 میں وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر جان ایف کینیڈی سے ملاقات کے دوران، کینیڈی نے کہا کہ اگر بھٹو امریکی ہوتے تو ان کی کابینہ کا حصہ ہوتے۔ بھٹو کا جواب ان کی حاضر جوابی کا مظہر تھا: "احتیاط کیجیے، جناب صدر، اگر میں امریکی ہوتا تو آپ کی جگہ پر ہوتا۔" تیز ذہانت، غیر معمولی فہم اور پاکستان کی خودمختاری سے غیر متزلزل وابستگی نے انھیں عالمی سطح پر ایک عظیم رہنما بنایا۔ بطور وزیر خارجہ، انھوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں توازن پیدا کیا، چین کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کیا اور ایک آزاد خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی۔ تاہم، ان کی اصل عظمت 1971 کی جنگ کے بعد ابھر کر سامنے آئی۔ اس وقت پاکستان شدید بحران کا شکار تھا، مگر بھٹو نے اپنی غیر معمولی سفارتی مہارت سے قیدیوں کی رہائی اور مقبوضہ علاقوں کی واپسی کو ممکن بنایا۔ شملہ معاہدہ ان کی دور اندیشی کا ثبوت تھا۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ 1973 کا آئین تھا، جس نے پہلی بار عوامی مرضی سے تشکیل پانے والا جمہوری نظام فراہم کیا۔ انھوں نے سینیٹ قائم کی تاکہ ہر صوبے کو مساوی نمائندگی مل سکے۔ ان کی داخلی اصلاحات بھی بے حد اہم تھیں۔ زمینوں کی تقسیم، پاکستان اسٹیل ملز کا قیام، پورٹ قاسم کی تعمیر، قائداعظم یونیورسٹی کی بنیاد، اور تعلیم کو میٹرک تک مفت کرنا،یہ سب ایک منظم وژن کا حصہ تھے، جس کا نعرہ تھا "روٹی، کپڑا اور مکان"۔ یہی وژن بعد میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی صورت میں سامنے آیا، جسے شروع کرنے کا مجھے وزیر اعظم کی حیثیت سے اعزاز حاصل ہوا۔ شہید بھٹو عوام کے جذبات سے ہمیشہ جڑے رہے۔ 1974ء میں لاہور میں اسلامی سربراہی اجلاس کی میزبانی کر کے انھوں نے مسلم دنیا کو یکجا کیا۔ پاکستان کے دفاع کے لیے ان کا عزم بھی غیر متزلزل تھا۔ انھوں نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جو آج پاکستان کی سلامتی کی ضمانت ہے۔ تاہم، جولائی 1977 میں ان کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا، اور ایک متنازع عدالتی عمل کے بعد 4 اپریل 1979 کو انھیں پھانسی دے دی گئی، جسے دنیا نے "عدالتی قتل" قرار دیا۔ بھٹو خاندان نے جمہوریت کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔ شہید بھٹو، ان کے بیٹے شاہنواز اور مرتضیٰ، اور ان کی بیٹی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو، سب نے عوام کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ آج صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اس مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ میری اپنی سیاسی جدوجہد میں، میں نے ہمیشہ اس وژن کو زندہ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم، جو میرے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں منظور ہوئی، صوبائی خودمختاری کی طرف ایک تاریخی قدم تھا۔ شہید بھٹو نے کہا تھا: "ہم صرف ایک جماعت کے وارث نہیں، بلکہ ایک وژن کے امین ہیں۔" یہ وژن ایک ایسے پاکستان کا ہے جہاں غریب نظرانداز نہ ہوں، صوبوں کی آواز دبائی نہ جائے، اور جمہوریت ایک طرزِ زندگی ہو۔ آج جب ہم انھیں یاد کرتے ہیں، تو ہمیں اس عہد کی تجدید کرنی چاہیے۔ ان کی روشنی آج بھی ہماری رہنمائی کر رہی ہے، اور ان کی میراث ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اس سفر کو جاری رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی روح کو جوارِ رحمت میں جگہ دے، اور ان کا وژن آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنتا رہے۔ جیے بھٹو۔ جیے پاکستان۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل