Friday, April 03, 2026
 

غیر سرکاری تنظیموں پر پابندیاں

 



برطانیہ اور یورپ میں صنعتی انقلاب کے ساتھ معاشرے میں بنیادی تبدیلیاں ہونی شروع ہوگئیں۔ پہلی دفعہ متوسط اور مزدور طبقہ وجود میں آیا۔ کسانوں نے اپنے آبائی پیشہ ، چھوڑ کر شہروں کا رخ کیا۔ نئے شہر آباد ہوئے اور شہروں کی آبادی بڑھنے لگی۔ سیاسی جماعتیں قائم ہوئیں۔ مزدور اور کسان تنظیمیں وجود میں آئیں۔ دانشوروں کے ایسے گروہ معاشرے میں نظر آنے لگے جو فرد کی آزادی اور ریاست کی تنظیم نو کے بارے میں نئے خیالات پیش کرتے تھے۔ اخبارات نے عام آدمی کے مسائل کو اہمیت دینی شروع کی۔ اس صورتحال کے منطقی نتیجے میں برطانیہ میں بادشاہ اور چرچ کا کردار زیرِ بحث آنے لگا۔ برطانیہ میں پارلیمنٹ، بادشاہ اور چرچ کے درمیان تصادم ہوا۔ متوسط اور مزدور طبقہ کی سیاسی جماعتوں اور آزادی کا پرچار کرنے والے دانشوروں نے اس لڑائی میں پارلیمنٹ کی حمایت کی۔ اس لڑائی کے نتیجے میں بادشاہ کے اختیارات میگنا کارٹا معاہدے کے ذریعے محدود ہوئے۔ چرچ کی ریاست کے امور میں مداخلت ختم ہونے کا سلسلہ شروع ہوا۔ برطانیہ کی پارلیمنٹ نے Bill of Right کی منظوری دی۔ اسی طرح ریاست کی تنظیم نو کا آغاز ہوا۔ 18ویں اور 19ویں صدی میں عوام کی ریاست پر بالادستی قائم ہونا شروع ہوئی۔ خواتین کی انجمنوں نے ووٹ دینے کے حق کے لیے ایک تاریخی جدوجہد کی۔ مزدور تنظیمیں کارل مارکس کے سوشل ازم کے نظریے کی علم بردار بن گئیں۔ اسی دوران سول سوسائٹی مستحکم ہونا شروع ہوئی۔ سول سوسائٹی کی تعریف یوں کی گئی : "Civil society is like the backbone of a democracy, yaar! It's the glue that holds the system together, making sure the government stays accountable to the people.In Pakistan, civil society plays a crucial role in:- Promoting transparency and accountability- Advocating for human rights and social justice- Providing a platform for marginalized voices- Encouraging civic engagement and participation." برطانیہ اور یورپی ممالک میں سول سوسائٹی جمہوری نظام کے استحکام میں بنیادی ستون بن کر سامنے آئی۔ سول سوسائٹی کی تنظیموں نے انسانی حقوق کے تحفظ، آزادئ اظہار اور آزادئ صحافت کے لیے ماحول کو سازگار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سول سوسائٹی کی کوششوں سے غلامی کا ادارہ ختم ہوا۔ معاشرے کے پسماندہ طبقات، مزدوروں، کسانوں اور خواتین کے مردوں کے برابر حقوق کے لیے سول سوسائٹی نے رائے عامہ ہموار کی۔ ریاست کے نظام کو شفاف انداز میں چلانے اور کرپشن کے خاتمے کے لیے عوام کے جاننے کے حق (Right to know) کو تسلیم کرنے کے لیے سول سوسائٹی کی تنظیموں نے بنیادی کردار ادا کیا۔ سیاسی جماعتوں کی قیادت نے سول سوسائٹی کے ایجنڈا کو اپنایا، یوں برطانیہ کی پارلیمنٹ نے پسماندہ طبقات کی بہبود اور بنیادی شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی۔ بھارت میں سیکولر جمہوریت کے استحکام، مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے سول سوسائٹی کی تنظیموں نے اہم کردار ادا کیا ۔یہی وجہ تھی کہ بھارت کی تاریخ کے اہم موضوع پر سول سوسائٹی کی تنظیموں نے اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان اپنے قیام کے فوری بعد امریکا کا اتحادی بن گیا۔ وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی برطرفی کے بعد اسٹیبلشمنٹ مضبوط ہونا شروع ہوگئی جس کے نتیجے میں سیاسی کلچر کمزور ہوا اور سیاسی جماعتیں عوام سے دور ہونے لگیں۔ اگرچہ وکلاء ،صحافیوں، دانشوروں اور ادیبوں کی تنظیموں نے سیاسی عمل کے خاتمے پر ایک احتجاج شروع کیا مگر فوری طور پر اس احتجاج کے اثرات سامنے نہیں آئے، البتہ جنرل ایوب خان نے ملک میں مارشل لاء نافذ کرکے سیاسی عمل کو پیچھے دھکیل دیا جس کا نقصان یہ ہوا کہ سول سوسائٹی کا ادارہ جو پہلے ہی کمزور تھا مزید کمزور ہوگیا۔ وکلاء کی تنظیموں نے اپنی کمزور پوزیشن کے باوجود بنیادی شہری حقوق کے لیے تاریخی جدوجہد کی۔ صحافیوں کی نمایندہ تنظیم پی ایف یو جے نے آزادئ صحافت کو درپیش مسائل کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 90ء کی دہائی میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پسماندہ طبقات کی آوازوں کو شدید جھٹکا لگا۔ بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے کمزور ہونے کے ساتھ مزدور تحریک مشکلات کا شکار ہوگئی۔ فری مارکیٹ کے نظریے کے تحت استحصال کے نئے طریقے راج ہوگئے۔ مذہبی انتہاپسندی کے طوفان نے اقلیتوں کی زندگی اجیرن کردی۔ اس دوران پاکستان میں سول سوسائٹی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے طاقتور آواز بن کر سامنے آئی۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس دوراب پٹیل ، سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن نے جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء کو سپریم کورٹ میں غیر قانونی قرار دینے کے لیے متحرک وکیل عاصمہ جہانگیر کی قیادت میں انسانی حقوق کمیشن HRCP قائم کیا۔ پاکستان، بھارت اور خطے کے دیگر ممالک میں سول سوسائٹی میں نیا کردار ابھر کر سامنے آیا۔ انسانی حقوق کمیشن نے مزدوروں کے حقوق ، بائنڈڈ لیبر کے خاتمے اور پسند کی شادی جیسے اہم مسائل پر مختلف نوعیت کی تحقیق کی اور ان مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے عدالتوں میں لڑائیاں لڑیں۔ اس کے ساتھ ہی پارلیمنٹ کی ریاست کے تمام ستونوں پر بالادستی، آئین میں کی گئی غیر جمہوری ترامیم کے خاتمہ ، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی اور شہریوں کے جاننے کے حق کے تحفظ کے لیے ایچ آر سی پی نے تاریخی مہمیں چلائیں۔ اسی طرح خواتین، اقلیتوں اور ٹرانس جینڈرز کے حقوق اور ان طبقات کے حقوق کے لیے قانون سازی کے لیے ایچ آر سی پی اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں نے انتہائی بنیادی کردار ادا کیا۔ انسانی حقوق کی رہنما عاصمہ جہانگیر اور آئی اے رحمن وغیرہ کی خدمات کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا اور ان رہنماؤں کو عالمی اعزازات دیے گئے ۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دور میں جب چوہدری نثار وزیر داخلہ کے عہدے پر فائز ہوئے تو ان کے دور میں غیر سرکاری تنظیموں کے خلاف ایک نہ نظر آنے والا آپریشن شروع ہوا۔ ان کے دور میں اقوام متحدہ کی دہشت گردی میں سرمایہ کاری کی روک تھام کی ٹاسک فورس (Financial Action Task Force - FATF) نے انتہاپسند مذہبی تنظیموں پر جو پابندیاں عائد کیں، ان پابندیوں کا اطلاق انسانی حقوق اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیموں پر بھی کیا گیا، یوں یہ ڈیولپمنٹ سیکٹر سکڑنے لگا۔ جب بین الاقوامی سطح پر اس صورتحال پر تنقید ہوئی تو حالات کچھ بہتر ہوئے۔ گزشتہ حکومت کے دور اقتدار میں حالات مسلسل خراب ہوتے چلے گئے۔ ایچ آر سی پی نے گزشتہ دنوں Regulation or Restriction کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی۔ اس رپورٹ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ این جی اوز (N.G.Os) کو ہر صورت حکومت پاکستان کے Economic Affairs Division سے ایم او یو (مفاہمی یادداشت) پر دستخط کرنا ہونگے۔ اس کے ساتھ ہی ضلع کی سطح پر نئی این جی او کے رجسٹریشن کے لیے این او سی کا حصول لازمی کردیا گیا۔ اس طرح Provincial Charities Commission سے رجسٹریشن کو لازمی کردیا گیا۔ اب کسی این جی او کے بینک اکاؤنٹ سیل کرنے سے لے کر اس کے دفتر کو سیل کرنے کے اختیارات ضلعی انتظامیہ کو حاصل ہوگئے ہیں۔ گزشتہ دنوں اس سلسلے میں ہونے والے ایک سیمینار میں شرکاء نے متفقہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کیا کہ یہ پابندیاں مظلوم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرداں تنظیموں پر حملہ کے مترادف ہیں۔ اس سیمینار میں اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن ذیشان نے کہا کہ این جی او پر اس طرح کی پابندیوں سے صرف مظلوم طبقات ہی متاثر نہیں ہونگے بلکہ جمہوری نظام بھی متاثر ہوگا۔ ایک اور دانشور نسیم انتھونی کا کہنا تھا کہ ان پابندیوں سے معاشرے کی دانش وارانہ روایت کمزور ہوجائے گی۔ ایک وکیل ثاقب جیلانی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس پالیسی کو جو انسانی حقوق کے چارٹر کے خلاف ہے عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ایک رہنما نیلم حسن کا یہ موقف تھا کہ ہر صورت اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔ ایک اور سماجی کارکن بشرہ خالق نے اس جانب توجہ مبذول کرائی کہ اس کے طریقہ کار سے جنوبی پنجاب میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز  براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔ سینٹر فار سوشل جسٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر جیکب کی اقلیتوں کے لیے جدوجہد کو اقوام متحدہ نے بھی سراہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی موقع ہے کہ غیر سرکاری تنظیمیں نئی حکمت عملی پر غور کریں۔ ایچ آر سی پی پنجاب کے وائس چیئرمین راجہ اشرف نے اس بگڑتی ہوئی صورتحال سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بنیادی حقوق کو ایک منصوبے کے تحت واپس لیا جارہا ہے۔ اس سیمینار کے شرکاء اس بات پر متفق تھے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے سویلین اسپیس کم کررہی ہے۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق اور مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے سرگرداں این جی اوز کو جمہوریت کا ستون کہا جاتا ہے۔ ان تنظیموں نے انسانی حقوق کی پاسداری کرکے ایک طرف عام آدمی کے حقوق کا تحفظ کیا ہے تو دوسری طرف پوری دنیا میں پاکستان کا روشن چہرہ ابھر کر سامنے آیا۔ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں پاکستان کا جمہوری تشخص متاثر ہوگا ۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل