Friday, April 03, 2026
 

اعداد کی گواہی ،آٹھ ماہ کا معاشی نوحہ

 



مشرق وسطی محض ایک خطہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے یہاں کی بے یقینی کا مطلب ہے سپلائی چین کا ٹوٹنا، توانائی کی قیمتوں کا آسمان سے باتیں کرنا۔ امریکا، ایران جنگ کے باعث عالمی منڈی میں غیر یقینی کا وہ مہیب سایہ پڑ چکا ہے جس کے اثرات اب پاکستان کے گلی کوچوں میں نمودار ہوچکے ہیں۔ دوسری طرف افغانستان کی طرف سے ہونے والے آئے روز دھماکوں کا شکار بیرونی سرمایہ کاری ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر معاشی حقائق کو وزارت خزانہ کی ماہانہ آؤٹ لک میں ظاہر کیاگیا ہے جس کے مطابق آٹھ ماہ کا مالی خسارہ 64.7 ارب روپے ظاہر کیاگیا ہے۔ یہ عدد اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ریاست کے اخراجات اس کی آمدن کے مقابلے میں اب بھی ایک بڑا بوجھ ہیں، لیکن امید ہے کہ یہ بوجھ آئندہ چند ماہ تک بالکل ہلکا ہوجائے گا کیونکہ کفایت شعاری کے اقدامات کے اثرات جلد ہی ظاہر ہوں گے۔ رپورٹ کا ایک اہم ترین فکر انگیز پہلو یہ ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری میں 33 فی صد کمی ہوئی ہے محض 1.19 ارب ڈالر، بیرونی سرمایہ کاری میں اتنی زیادہ کمی ظاہر کررہی ہے کہ عالمی سرمایہ کار ہماری مارکیٹ سے دامن بچاکر گزر رہے ہیں۔ کہاں ایک وقت تھا 8 ماہ میں کبھی 8  تا 10 ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری ہوا کرتی تھی۔ نائن الیون کے بعد ڈھائی دہائیاں گزرچکی ہیں، ہم اب تک افغانستان سے آنے والے بم دھماکوںکو نہ روک سکے۔ حالیہ دنوں کے دفاعی اقدامات سے امید ہے کہ یہ سلسلہ جلد تھم جائے گا۔ دوسری طرف پاکستان کی نہیں، عالمی کوششوں کے باعث پاکستان کی ایک محفوظ اور پرامن ملک کے طور پر شناخت کے باعث آئندہ چند سالوں میں بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کی توقعات ہیں۔ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق آئی ٹی برآمدات میں بہتری آئی ہے۔ 8 ماہ کا حالیہ اضافہ ’’اندھیرے میں چراغ‘‘ کی مانند ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ آئی ٹی کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ مراعات ، سہولیات دی جاتی تو ملک کو زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ حاصل ہوسکتا ہے۔ پی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق 8 ماہ میں پونے تین ارب ڈالر کا زرمبادلہ اس شعبے کے تحت حاصل ہوئے ہیں جو کہ گزشتہ مالی سال کے 8 ماہ کے مقابلے میں 25 فی صد زائد ہے اور یہ سب آئی ٹی سے وابستہ نوجوانوں کا کمال ہے۔ رپورٹ اس بات کی طرف اشارہ کررہی ہے کہ ٹیکسٹائل مشینری اور تعمیراتی سامان کی درآمد میں اضافہ ہوا ہے بظاہر درآمدات میں اضافہ زرمبادلہ پر بوجھ لگتا ہے لیکن اگر گہرائی میں دیکھا جائے تو تعمیراتی درآمدات اور ٹیکسٹائل مشینریوں کا آنا اس بات کی نوید ہے کہ ملک کا بڑا برآمدی شعبہ خود کو جدید خطوط پر استوار کررہا ہے۔ اسی طرح تعمیراتی اشیاء کی درآمدات میں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ ملک میں انفرا اسٹرکچر اور ہاؤسنگ کے شعبوں میں ترقی ہورہی ہے۔ جب معیشت کے دیگر شعبے کمزور ہونے لگتے ہیں تو سمندر پار پاکستانی ایک ایسی ڈھال بن کر سامنے آتے ہیں جو اس ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پہلے 8 ماہ میں ترسیلات زر میں 10.5فی صد کا اضافہ ہوکر 8.12ارب ڈالر ملک میں آئے۔ جو کسی قرض کے عوض نہیں بلکہ پاکستانیوں کی اپنی مٹی سے محبت کا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ یہ بتایا گیا کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 16.4ارب ڈالر کی سطح پر مستحکم نظر آرہے ہیں لیکن ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ زرمبادلہ کے ذخائر اور ترسیلات زر محض وقتی سہارا تو ہوسکتے ہیں لیکن ہمیں  FDI میں 33فی صد کی کمی کو نمو میں بدلنا ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف کاغذی گھوڑے نہ دوڑائے بلکہ سرخ فیتہ سے پاک کرتے ہوئے بیرونی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرے ۔ اس وقت موقع ہے مشرق وسطی کی جنگی صورت حال کے باعث بہت سے عالمی سرمایہ کار پاکستان کی جانب راغب ہوسکتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل