Loading
ملک بھر میں بارشوں اور بالائی علاقوں میں برفباری کے باعث موسم ایک بار پھر سرد ہوگیا ہے جبکہ مختلف علاقوں میں نقصانات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
بلوچستان کے علاقوں چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، کوہلو اور نصیرآباد میں موسلادھار بارش اور ژالہ باری کے بعد سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی جہاں فرنٹیئر کور بلوچستان نے امدادی کارروائیاں کیں۔
دوسری جانب آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، ناران، سوات اور زیارت کے پہاڑوں پر اپریل میں ہونے والی برفباری نے سردی کی شدت میں اضافہ کر دیا۔
سندھ اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں بھی وقفے وقفے سے بارش جاری رہی جبکہ ڈیرہ غازی خان اور فورٹ منرو میں ژالہ باری کے ساتھ ندی نالوں میں طغیانی آ گئی۔
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بھی بارشوں کے باعث صورتحال متاثر رہی، پشاور میں نالوں کا پانی سڑکوں پر آگیا، جبکہ مختلف حادثات میں 4 افراد جاں بحق اور 19 زخمی ہوئے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق 25 مارچ سے اب تک بارشوں کے نتیجے میں 30 افراد جاں بحق اور 85 زخمی ہوئے جن میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق 140 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 115 کو جزوی جبکہ 25 مکمل طور پر تباہ ہوئے۔ متاثرہ علاقوں میں بنوں، ایبٹ آباد، کوہاٹ، پشاور، نوشہرہ، باجوڑ، لکی مروت، کرم، ہنگو، شانگلہ، بونیر، مالاکنڈ، دیر اپر، بٹگرام، شمالی وزیرستان اور ٹانک شامل ہیں۔
پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع میں فوری امداد کی فراہمی اور کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا موجودہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہے گا اور یکم سے 4 اپریل تک مزید بارشوں کا امکان ہے۔
دوسری جانب ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ بالائی علاقوں میں بارشوں سے دریاٸے کابل میں پانی کا بہاؤ زیادہ ہوسکتا ہے، اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ محکمے الرٹ ہیں اور کسی بھی صورتحال کے لئے تمام پیشگی اقدامات مکمل کر چکے ہیں۔
اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوام الناس باالخصوص دریاٸے کابل کے کنارے آباد مکینوں سے اپیل ہے کہ وہ مختاط رہیں، دریاٸے کابل کے قریب جانے سے گریز کریں، اپنے مال مویشیوں کو بھی دریاٸے کابل اور دریاٸے سندھ کے کناروں سے دوررکھیں۔ دفعہ 144 کے تحت دریاؤں میں نہانے، کشتی رانی، مویشی چرانے اور غیر ضروری آمد و رفت پر مکمل پابندی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل