Loading
غیرملکی میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان اور مصر نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطے بحال رکھے ہوئے ہیں اور رپورٹس میں ترکیے کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارہ (سی این این) نے پاکستانی سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ‘پاکستان اور مصر ان ممالک میں شامل ہیں جو امریکا اور ایران کے حکام کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن رہے ہیں’۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ خبر اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے نئی ڈیڈ لائن کے ساتھ دھمکی دی کہ اس سے پہلے کہ امریکا ایرانی توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانا شروع کرے، آبنائے ہرمز کھول دیں۔
قبل ازیں پاکستان کے دفترخارجہ کی جانب سے ہفتے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور اس دوران انہوں نے خطے میں کشیدگی میں کمی لانے کے لیے تمام کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا اور مسائل کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو مختلف میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے متضاد بیانات دیے جہاں انہوں نے ایک طرف ایران میں تیل کو قبضے میں لینے اور سب کچھ اڑانے کی بات کی وہی دوسری جانب انہوں نے کہا کہ امریکا ان لوگوں کو استثنیٰ دے گا جو ایران کے ساتھ بات کرنا چاہتےہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف تو سب کچھ اڑانے کی بات کر رہے ہیں اور دوسری جانب مذاکرات کا عندیہ دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے قریبی مشیر جیرڈ کشنر اور اسٹیو ویٹکوف ایرانی مذاکرات کاروں سے بات کر رہے ہیں۔
الجزیرہ نے مزید بتایا کہ متعدد رپورٹس میں بتایا گیا کہ مصر، پاکستان اور ترکیے مذاکرات کار ہیں لیکن ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اسٹیو ویٹکوف اور جیرڈ کشنر براہ راست ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے پیغام رسانی کے ذریعے بات کر رہے ہیں،
مزید بتایا گیا کہ اس خبر کی تصدیق نہیں ہے لیکن ٹرمپ کہہ رہے ہیں ان کے قریبی مذاکرات کار جیرڈ کشنر اور اسٹیو ویٹکوف مذاکرات کے لیے ایرانی نمائندے کے ساتھ قریبی طور پر بات کر رہے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل